Sneak Peak From The Novel
" مبارک ہو آپ کی بیٹی پریگننٹ ہے۔ اور وہ بھی جڑواں بچوں کی ماں بننے والی ہے۔" "اٹس امپوسیبل۔۔ کنزا۔۔؟ یہ کس کے بچے ہیں؟" کنزا روتے ہوئے ممانی کے گلے لگی۔ "میں نہیں جانتی۔۔ اس رات۔۔؟" "ارمان۔۔ تمہیں آج ہی کنزا کی رخصتی لینی ہوگی۔" "ٹھیک ہے لے لوں گا۔ پھر آپ کو مجھے دوسری شادی کی اجازت بھی دینی ہوگی۔ جو میں اپنی من پسند لڑکی سے کروں گا۔" ارمان نے شاطرانہ انداز اپناتے ماں باپ کو حیران کر دیا۔ اور پھر اسی شرط پر وہ کنزا کی رخصتی لے چکا تھا۔ "ارے شاہینہ فکر ہی نہ کرو۔ میں مما اور دادو کو منا چکا ہوں۔ اب ہمیں ایک ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔" وہ فون پر بات کرتا روم میں آیا جب کنزا لڑکھڑا کے گڑنے لگی تھی۔ ارمان نے فوراً اسے سنبھالا۔
"پاگل ہو گئی ہو۔ ابھی گرتی تو ہمارے بچوں کو۔۔؟" کنزا نے شاک کی سی کیفیت۔۔۔۔ وہ ایک کاؤنٹر سے دوسرے کاؤنٹر پر جا رہا تھا، کبھی نیلے رنگ کی ننھی سی شرٹس اٹھاتا، کبھی گلابی اور پیلے رنگ کے چھوٹے چھوٹے فراک اور سوٹ دیکھ کر خوش ہوتا، اور کبھی ہاتھ میں سوتی موزے اور چھوٹے چھوٹے جوتے لے کر کنزا کو دکھاتا۔ " یہ دیکھو کنزا! یہ بلو والا کتنا پیارا ہے نا؟ اور یہ اس کے ساتھ کی کیپ۔۔ قسم سے بچوں پر یہ پہنائے ہوئے کتنے کیوٹ لگیں گے!" ارمان کے چہرے پر بچوں جیسی مسکراہٹ تھی، اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ کنزا نے نگاہ اٹھا کر ارمان کے اس روپ کو دیکھا کسی اور کے پچے کے لیے اتنی محبت؟؟؟ اسکا دل بھر آیا۔ اس کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔
وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ وہ اس شخص سے نفرت کرے یا اس کی اس بے پناہ محبت پر حیران ہو۔ وہ بچہ جو ابھی دنیا میں آیا ہی نہیں تھا، جو اس معاشرے کی نظر میں ایک ناجائز داغ تھا، ارمان اس پر اپنی جان نچھاور کر رہا تھا۔ "ارمان۔۔۔۔ آپ۔۔۔ آپ اتنی محبت کیوں کر رہے ہیں اس بچے سے۔۔؟" کنزا کی مدہم، لرزتی ہوئی آواز ارمان کے کانوں تک پہنچی۔ ارمان کے ہاتھ میں پکڑے ہوئے بچوں کے جوتے وہیں کے وہیں رک گئے۔ اس کے چہرے کی شوخ چمک ایک لمحے کے لیے غائب ہو گئی۔۔۔۔۔
چہرے پر دکھی پیازی سنہری ہونے کی سر سراہٹ پیدا کر رہی تھی۔۔ باورچی خانے میں بھننے ہوئے مصالحوں کی مہک پھیلی ہوئی تھی۔ سنگ مر مر کے کاؤنٹر کے پاس کھڑی کنزا کٹلنگ بورڈ پر ٹماٹر کاٹتے ہوئے مسلسل بول رہی تھی۔ چہرے پر تھکن کے بجائے ایک شوخ سی چمک تھی۔ "امی آپ کو پتہ ہے، آج لیب میں عریبہ نے کیا تماشا لگایا؟ وہ پورا کیمیکل گرا بیٹھی، اور پروفیسر وقار کا غصے سے جو رنگ اڑا تھا نا، قسم سے پورا ہال ہنس ہنس کر پاگل ہو گیا تھا" کنزا کی آواز کچن میں گونج رہی تھی، ہلکی پھلکی اور بے پرواہ۔ صفیہ بیگم چمچ ہلاتی ہوئی ہلکا سا مسکرا دیں، دھیان سامنے لگے وال کلاک پر تھا۔
"تم لوگ سدھرو گی نہیں! سارا دن بس ہنگامہ کرنا ہوتا ہے تمہیں اور تمہاری اس عریبہ کو۔ جلدی کرو، ارمان کے آفس سے آنے کا وقت ہو رہا ہے، پھر وہ بھوک کی وجہ سے پورا گھر سر پر اٹھا لے گا۔۔" انہوں نے اسے بہت رسید کرتے ہوئے کہا۔۔ جب کہ ارمان کے نام پہ کنزا کے چہرے پہ کئی رنگ بکھرے تھے جنہیں دیکھیں صفیہ بیگم مسکراہٹ دبانے لگیں۔۔ "کھانا بنا بھی ہو گا تب بھی اس نے سر پہ اٹھا لینا ہے گھر" "کنزا منہ بسور کر کہتی نمک کی ڈانی اٹھانے کے لیے آگے بڑھی۔۔۔۔۔
پھر اچانک کچن کی روشنیاں اس کی آنکھوں میں گھوم گئیں۔ ایک تیز، سیاہ اندھیرا اس کے چاروں طرف پھیل گیا، پیٹ کے نچلے حصے میں ایک شدید مروڑ اٹھا۔ زمین اس کے نیچے سے کھسکتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔ چھری ہاتھ سے چھوٹ کر فرش پر جا گری، اور کانوں میں سنسناہٹ طرح تیز آواز گونجنے لگی۔ "کنزا! کیا ہوا؟ ہاتھ کیوں کانپ رہے ہیں تمہارے، ارے۔۔۔۔۔" صفیہ بیگم نے گھبرا کر چمچ نیچے رکھا اور اس کی طرف لپکیں۔ "مامی۔۔۔ مجھے۔۔۔ مجھے کچھ۔۔۔" کنزا کا جملہ ادھورا رہ گیا، اس کی ٹانگیں جواب دے گئیں اور وہ سنبھل نہ سکی۔ اگلے ہی پل وہ سیدھی ماربل کے فرش پر ڈھیر ہوگئی۔ "کنزا! ارے رقیہ! جلدی آؤ، دیکھو کنزا کو کیا ہو گیا ہے!" صفیہ بیگم کی چیخ پورے گھر میں گونج اٹھی۔ انہوں نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر کنزا کا سر اپنی گود میں رکھا اور اس کے گال تھپتھپانے لگیں۔ "کنزا! میری بچی، آنکھیں کھولو۔۔۔ رقیہ جلدی پانی لے کر آؤ!" اگلے بیس منٹ میں گھر میں کہرام مچ چکا تھا ڈاکٹر نگہت اپنا سامان سمیٹ کر اپنے بیگ میں رکھ رہی تھیں، چہرے پر ایک سرد اور پتھرا دینے والی خاموشی تھی۔ بیڈ کے قریب کھڑی صفیہ بیگم کا سانس سینے میں اٹکا ہوا تھا۔ "ڈاکٹر صاحبہ! خیریت تو ہے نا؟ اچانک بے ہوش کیوں ہو گئی ہے؟ سب خیر ہے نا؟" صفیہ بیگم کا لہجہ کانپ رہا تھا۔۔۔۔
ڈاکٹر نگہت نے سر اٹھایا، نگاہوں میں ایک عجیب سا تذبذب اور خوف سا تھا۔ وہ ان کی فیملی ڈاکٹر تھیں۔۔ ہے گھر کے حالات اور ماحول کا اچھے سے اندازہ تھا نہیں ایسے میں یہ خبر بہت عجیب تھی! "صفیہ بیگم۔۔۔ عموماً تو یہ خبر اچھی ہوتی ہے مگر آپ کے لیے یہ خبر اچھی نہیں ہے۔۔" ان کا لہجہ پراسرار تھا۔۔ "کیا مطلب ہے آپ کا ڈاکٹر صاحبہ؟ صاف صاف بتائیں، میری سانسیں رک رہی ہے!" صفیہ بیگم کا دل خوف سے ڈوبنے لگا۔ "کنزا حاملہ ہے۔ وہ ایک ہفتے کی حاملہ ہے۔۔۔" ڈاکٹر نگہت کے الفاظ کمرے کی فضا میں کسی ہتھوڑے کی طرح گرے۔ کمرے میں گہرا سناٹا چھا گیا، اتنا گہرا کہ گھڑی کی آواز بھی کانوں کو چیرتی محسوس ہوئی۔
صفیہ بیگم کا ہاتھ ہوا میں معلق رہ گیا، حواس گم ہو گئے۔۔ "کیا۔۔ کیا کہا آپ نے۔۔۔؟؟ حاملہ ؟؟؟ کنزا۔۔۔۔؟ یہ کیا بکواس ہے؟" "میں نے جو دیکھا، وہ حقیقت ہے۔ اب آپ خود سنبھالیں آگے۔۔" ڈاکٹر نگہت اپنا بیگ اٹھا کر تیزی سے کمرے سے باہر نکل گئیں۔ کچھ ہی دیر بعد کنزا کی پلکیں ہلیں۔ اس نے مدھم روشنی میں دیکھا کہ صفیہ بیگم اس کے سرہانے پتھر کی مورت بنی بیٹھی ہیں۔ ان کی آنکھوں میں آنسو نہیں تھے، آگ تھی جو سب جلا دینے کے لیے کافی تھی۔ "مامی۔۔۔۔۔ میرا سر۔۔ بہت درد ہو رہا ہے۔۔۔۔" کنزا نے مدھم آواز میں کہا اور اٹھنے کی کوشش کی۔ "ایک لفظ زبان سے مت نکالنا کنزا!" صفیہ بیگم کی آواز اتنی کڑکدار اور خوفناک تھی کہ کنزا کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ کنزا نے سہم کر اپنی ماں جیسی مامی کو دیکھا، جن کے چہرے کا رنگ پیلا پڑ چکا تھا۔۔۔۔
"مامی۔۔۔ آپ۔۔۔ آپ مجھ سے خفا کیوں ہیں؟ کیا ہوا ہے؟" "یہ کیا تماشا ہے کنزا؟ کون ہے اس بچے کا باپ جو تمہاری کوکھ میں پل رہا ہے؟" صفیہ بیگم اس پر چھین، ان کی آواز میں شدید حقارت اور غصہ اس پر... ان کی آواز میں سمندر کی گہرائی اور حصہ تھا۔ "ب۔۔۔بچہ؟ کون سا بچہ مامی؟ آپ کیا کہہ رہی ہیں، خدا کے لیے مذاق نہ کریں۔۔۔" کنزا کے چہرے کا رنگ اڑ گیا، دل کی دھڑکن رکنے لگی۔ "ڈاکٹر کہہ کر گئی ہے کہ تم حاملہ ہو! ایک ہفتے کا حمل ہے تمہارے اندر! بولو، کس کا بچہ ہے یہ؟ کس مرد کے ساتھ منہ کالا کیا ہے تم نے؟" " صفیہ بیگم نے اس کا بازو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
"نہیں! مامی! خدا کے لیے یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ! میں نے کچھ نہیں کیا، قسم لے لیں مجھ سے، میں پاک ہوں!" کنزا دھاڑیں مار کر رونے لگی، اس کا پورا جسم کانپ رہا تھا۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے ایسا تو کچھ نہیں ہوا تھا کبھی۔ "جھوٹ بول رہی ہو! ایک یتیم بچی کو بیٹی کی طرح پالا اور تم نے ہمارے گھر کے منہ پر کالک مل دی؟ بولو! کون تھا وہ؟ کون آیا تھا تمہارے کمرے میں؟ یا کس کے کمرے میں گئی تھی تم جلدی بولو۔۔" صفیہ بیگم کا ہاتھ اٹھ چکا تھا مگر گال پہ پڑنے سے پہلے وہ ہاتھ میں تھیں۔۔ وہ غصے سے تھر ا رہی تھیں۔
"ماما بابا کی قسم مامی! مجھے کچھ نہیں معلوم! میں قسم اٹھاتی ہوں، میں نے کبھی کسی غیر مرد کو خود کو چھونے نہیں دیا! وہ کوئی سایہ تھا، کوئی عفریت تھا جس نے مجھے جکڑ لیا تھا، میری سانسیں چھین لی تھیں، مگر میں نے قسم سے اس کا چہرہ نہیں دیکھا تھا، مامی! مجھے نہیں پتہ تھا کہ وہ کون تھا! میں ہوش میں نہیں تھی مامی باخدا میں ہوش میں نہیں تھی۔۔ میں سمجھی۔۔ میں نے خواب دیکھا ہے۔۔ مامی میں نہیں جانتی اسے۔۔" کنزا زمین پر گر پڑی، وہ اپنے بال نوچ رہی تھی، اس کے منہ سے نکلنے والی سسکیاں دیواروں سے ٹکرا رہی تھیں۔۔۔۔
"زبان بند کرو اپنی! جھوٹی قسمیں کھاتی ہو؟ ارمان کو کیا منہ دکھاؤں گی میں؟ تمہارے نانا کو کیا بتاؤں گی کہ جس کنزا کو ہم نے اپنے گھر کی رونق بنا رکھا ہے، وہ اپنے پیٹ میں ایک حرام پلائے بیٹھی ہے؟" صفیہ بیگم کے آنسو اب بہہ نکلے تھے، مگر ان کے لہجے کی سختی کم نہیں ہوئی تھی۔ "مامی مجھے مار ڈالیں! زہر دے دیں مجھے! میں یہ الزام، یہ بوجھ لے کر زندہ نہیں رہ سکتی! میں مرنا چاہتی ہوں مامی، مجھے موت دے دیں!" کنزا نے صفیہ بیگم کے قدموں میں گر کر اپنا سر زمین پر مارنا شروع کر دیا اس کی چیخیں اتنی دردناک تھیں کہ دل دہل جائے۔۔۔
وہ رو رو کر بے حال ہو چکی تھی، کپڑے آنسوؤں اور پسینے سے بھیگ چکے تھے، سانس کی ڈور ٹوٹتی محسوس ہو رہی تھی۔ صفیہ بیگم پتھر کی طرح کھڑی کنزا کو تڑپتے دیکھتی رہیں، سارا اعتماد اور مان چکنا چور ہو چکا تھا۔۔رات کھانے کی میز پر معمول کے مطابق خاموشی نہیں تھی، بلکہ ایک عجیب، دم گھونٹنے والا حبس تھا۔ فانوس کی مدھم زرد روشنی کرسٹل کے برتنوں پر پڑ رہی تھی۔۔ سربراہی نشست پر فخر صاحب براجمان تھے۔ ان کے دائیں جانب ارمان سفید شرٹ کے آستین کہنیوں تک موڑے، خاموشی سے چمچ چلا رہا تھا، جبکہ سامنے کنزا بیٹھی تھی۔ اس کے چہرے کی رنگت زرد کاغذ جیسی ہو چکی تھی۔۔ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے واضح تھے۔۔
وہ اپنے سامنے رکھی پلیٹ میں سالن کو محض چمچ سے کرید رہی تھی، ایک نوالہ بھی اس کے حلق سے نیچے نہیں اتر رہا تھا۔ فخر صاحب نے کنزا کی طرف دیکھا، چہرے پر ہمیشہ کی طرح کنزا کے لیے زری تھی۔ "کیا بات ہے بچے؟ کھانا کیوں نہیں کھا رہی ہو؟ طبیعت ٹھیک ہے تمہاری؟" ان کی آواز میں چھپی شفقت کنزا کے دل پر شیشے کے ٹکڑے کی طرح گری۔۔ پلکیں فوراً بھیگ گئیں تھیں۔۔ شرم و ذلت کے احساس نے اس کا سر مزید جھکا دیا۔ کیسے کرے گی وہ ان کا سامنا۔ کیسے بات کرے گی ان سے؟ کیسے سر اٹھائے گی ان کے سامنے؟ کیسے آنکھیں ملائے گی ان سے؟۔۔۔۔
ارمان نے ایک سرسری سی نظر کنزا پر ڈالی اور بلا تاثر چہرے کے ساتھ واپس اپنی پلیٹ کی طرف متوجہ ہو گیا۔ اس کے لیے کنزا کا یہ مرجھایا ہوا روپ کوئی نئی بات نہیں تھی۔۔ اس لڑکی سے اسے کبھی کوئی دلچسپی رہی ہی نہیں تھی، نہ اس کے رونے سے، نہ اس کی خاموشی سے۔ "مجھے آپ سب سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے۔" صفیہ بیگم کی سرد اور بھاری آواز گونجی۔ کنزا کا دل جیسے ایک پل کے لیے دھڑکنا بھول گیا۔ اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے چمچ وہیں چھوڑ دیا۔ اوہ کاش زمین پھٹ جائے اور وہ زندہ دفن ہو جائے۔۔۔۔
وہ نانا کا سامنا کیسے کرے گی؟ جن کی عزت پر اس کے ناخواستہ وجود نے گہرا داغ لگا دیا تھا۔ ارمان نے اپنی ماں کی طرف دیکھا اور نیپکن سے منہ پوچھتے ہوئے ابرو اچکایا۔ "جی مما، کہیے؟ کوئی خاص بات؟"۔ صفیہ بیگم نے اپنی پلیٹ ایک طرف سرکائی، ان کے چہرے پر رحم کا ایک بھی تاثر نہیں تھا۔ انہوں نے فخر صاحب کی آنکھوں میں دیکھا اور دو ٹوک لفظوں میں بم پھوڑا۔ "کنزا حاملہ ہے۔" تین الفاظ۔۔ اور جیسے وہاں موجود ہر انسان پتھر کا ہو گیا۔ ارمان کا ہاتھ چائے کے کپ کی طرف جاتے ہوئے ہوا میں معلق رہ گیا۔
فخر صاحب کے ہاتھ سے نوالہ چھوٹ کر پلیٹ میں جا گرا۔ کمرے میں اتنی ہولناک خاموشی چھا گئی کہ لگتا تھا کسی کی سانس بھی باہر نہیں نکل رہی۔ ارمان نے گردن موڑ کر بے یقینی، شدتِ حیرت اور کراہت سے کنزا کو دیکھا۔ وہ لڑکی جس کی معصومیت کی مثالیں دی جاتی تھیں، وہ حاملہ تھی؟ نانا جان بھی بے یقینی اور حیرت سے گنگ اس کو دیکھ رہے تھے! کیا وہ حاملہ تھی؟ "یہ۔۔۔۔ یہ کیا بکواس کر رہی ہو تم صفیہ؟ تمہیں اندازہ ہے تم کیا بول رہی ہو؟" بلآخر وہ کچھ بولنے لائق ہوئے تو پھٹ ہی پڑے۔۔۔
"میں بالکل ہوش و حواس میں حقیقت بتا رہی ہوں بابا سائیں،" صفیہ بیگم نے انتہائی عام سے لہجے میں کہا، حالانکہ ان کے اندر کا ابال صاف محسوس ہو رہا تھا "آج شام اس کی طبیعت خراب ہوئی تو ڈاکٹر نگہت آئی تھیں۔ انہوں نے خود بتایا ہے کہ یہ ایک ہفتے کی حاملہ ہے۔" فخر صاحب کا رخ اب کنزا کی طرف ہوا۔ ان کا چہرہ غصے اور صدمے سے سرخ ہو رہا تھا۔ "کنزا!" ان کی آواز گرجی۔ کنزا نے اپنے دونوں ہاتھ گود میں سختی سے بھینچ لیے۔ اس کے آنسو لیکھت گالوں پر بہ نکلے۔ "بولو کنزا! تمہاری ماں کیا کہہ رہی ہے؟ سچ کیا ہے؟" فخر صاحب نے میز پر ہاتھ مارتے ہوئے استفسار کیا۔
"ن۔۔۔۔۔نانا جان۔۔۔" کنزا کا گلا خشک ہو چکا تھا، آواز نکلنا محال ہو رہی تھی۔ "مجھے۔۔۔۔ مجھے نہیں معلوم۔۔۔۔" "کیا مطلب نہیں معلوم؟" فخر صاحب اپنی جگہ سے اٹھے سارا وقار ڈگمگانے لگا تھا۔ "پوچھ رہا ہوں کس کی بدبخت اولاد ہے یہ؟ کس نے تمہاری اور اس گھر کی عزت پر ہاتھ ڈالا؟" ارمان خاموش بیٹھا یہ سارا ڈرامہ دیکھ رہا تھا، اس کے چہرے پر ایک زہر خند مسکراہٹ ابھری۔ صفیہ بیگم نے بات کو آگے بڑھایا، "اب اس تفتیش کا کوئی فائدہ نہیں باباسائیں، بات ہاتھ سے نکل چکی ہے۔ ارمان؟ چھ سال سے تمہارا نکاح ہوا ہوا ہے اس سے، اب یہ تمہاری ذمہ داری ہے۔ تم اسے رخصتی میں لو۔۔ بات باہر نہیں نکلنی چاہیے۔۔" ارمان ٹھٹک گیا۔ وہ، جو اس نکاح کو محض ایک کاغذی بوجھ سمجھتا تھا اور ہمیشہ اس سے جان چھڑانے کے راستے تلاش کرتا تھا، یکلخت عجیب سی سیچوئیشن میں پھنس گیا۔ "میں نہیں کرنا چاہتا رخصتی۔۔۔" "کنزا کی کاپنپتی ہوئی، مدہم آواز فضا میں ابھری۔ سر نیچے جھکا ہوا تھا۔۔
وہ سسکیوں پر قابو پانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ وہ ارمان کے ساتھ کیسے جاسکتی تھی؟ جس شخص سے اس نے کبھی کھل کر بات نہیں کی تھی، جس کے سامنے وہ پہلے ہی ایک گنہگار بن چکی تھی؟ صفیہ بیگم نے اسے ایک زہریلی نگاہ سے دیکھا، "تم سے کسی نے تمہاری رائے نہیں پوچھی کنزا! چپ رہو!" کنزا نے لب بھینچ لیے اور خاموش ہو گئی۔ ارمان اپنی نشست سے کھڑا ہوا۔ اس نے پہلے اپنی ماں کو دیکھا، پھر نانا جان اور آخر میں اس روتی ہوئی لڑکی کو۔ ذہن میں شاطرانہ چالیں چلنے لگی تھیں۔۔ لبوں پہ مسکراہٹ تھی جو شاید کسی کو نظر نہیں آرہی تھی۔۔ یہ موقع تھا اپنی آزادی حاصل کرنے کا، اپنے فائدے کا سودا کرنے کا۔۔۔۔
"ٹھیک ہے،" ارمان نے سرد لہجے میں کہا، "میں رخصتی لینے کے لیے تیار ہوں۔ آج ہی لے جاتا ہوں اسے اپنے ساتھ۔۔" سب نے تعجب سے ارمان کو دیکھا۔ وہ ارمان جو کنزا کا نام سننا پسند نہیں کرتا تھا، اتنی آسانی سے کیسے مان گیا؟ لیکن ارمان نے بات ختم نہیں کی تھی، اس نے اپنی شرط رکھی، "مگر میری ایک شرط ہے۔" "کیسی شرط؟" فخر صاحب نے بھنویں سمیٹیں۔ "مجھے دوسری شادی کی مکمل اجازت دینی ہوگی،" ارمان نے لفظوں پر زور دیتے ہوئے کہا۔
"اگر کل کو مجھے لگے کہ مجھے کسی اچھی اور خاندانی لڑکی سے شادی کرنی چاہیے، تو آپ میں سے کوئی مجھے نہیں روکے گا۔ میں اپنی پسند کی لڑکی کو اس گھر میں لاؤں گا۔ اگر آپ کو میری یہ شرط منظور ہے، تو میں اس کا بوجھ اٹھانے کو تیار ہوں۔" اس نے "اچھی لڑکی" پر خاص زور دیا تھا، جو سیدھا کنزا کے دل پر تیر کی طرح پیوست ہوا۔ دل کٹ کر رہ گیا۔ کیا وہ اچھی لڑکی نہیں تھی؟ نہیں؟ وہ اچھی لڑکی کہاں رہی تھی؟ اچھی لڑکیاں تو اپنی عزت کی حفاظت کرتی ہیں۔ اچھی لڑکیاں یوں سرعام رسوا نہیں ہوتیں۔ اچھی لڑکیاں جان دے دیتی ہیں لیکن اپنے دامن پر داغ نہیں لگنے دیتیں۔ وہ اندر ہی اندر خود کو کوسنے لگی۔۔۔۔
حالانکہ اس کا کوئی قصور نہیں تھا۔ اس رات اندھیرے میں جو کچھ ہوا، وہ اس کے ساتھ ایک حادثہ تھا، ایک ظلم تھا۔ مگر دنیا تو صرف نتیجہ دیکھتی ہے، اور نتیجہ اس کی کوکھ میں پل رہا تھا ایک بے نام، بے وجود سایہ۔ فخر صاحب نے ارمان کی شرط پر گہرا سانس لیا۔ حالات ایسے تھے کہ ان کے پاس انکار کی گنجائش نہیں تھی۔ خاندانی بدنامی کا ڈر ان کے بوڑھے اعصاب پر سوار تھا۔
"ٹھیک ہے ارمان۔۔۔" فخر صاحب نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا، "ہمیں تمہاری شرط منظور ہے۔ اسے لے جاؤ یہاں سے۔" ارمان کے چہرے پر فتح مندی کی رمق آئی۔ اس نے کنزا کی طرف دیکھا جو اب بھی زمین کو پانے کا راستہ صاف کر لیا تھا، اور اس کی قیمت کنزا کی رہی سہی عزتِ نفس نے ادا کی تھی۔۔۔ "ابھی نہیں" صفیہ بیگم کی آواز بھری تو وہ ٹھٹک گیا۔۔ ابرو اچکا کر انہیں دیکھنے لگا۔۔ انداز ایسا تھا کہ اب کیا؟؟ "رخصتی دھوم دھام سے ہو گی" سب نے حیرت سے ان کی جانب دیکھا۔۔ "یہ لائق ہے اس کے؟" ارمان کے لبوں پہ تمسخرانہ مسکراہٹ تھی! "ارمااان!!" ان کے لہجے میں تنبیہ تھی وہ سر جھٹک گیا۔۔ "میں نہیں چاہتی باہر کوئی بات بنے۔۔ اس لیے مکمل رسم و رواج کے ساتھ شادی ہو گی" ان کا لہجہ دو ٹوک تھا۔۔ کسی کو کچھ بولنے کی مہلت نہ ملی اور وہ وہاں سے اٹھ کر نکلتی چلی گئی۔۔
“Congratulations! Your daughter is pregnant, and she is going to become the mother of twins.” The doctor’s words shattered the silence. “That’s impossible! Kinza… whose children are these?” Kinza broke down and clung to her aunt, sobbing uncontrollably. “I don’t know, Mami… that night…?” she whispered, unable to explain what had happened to her. Meanwhile, Arman was determined to use the situation to his advantage. “Arman, you must take Kinza home as your wife today,” his mother insisted. “Fine, I’ll take her with me, but you’ll have to allow me to marry a second time whenever I want. And I’ll marry the girl of my own choice,” he replied cunningly, leaving his parents stunned. Eventually, they agreed to his condition. Later, Arman entered the room while talking to Shaheena on the phone. “Don’t worry, darling. I’ve already convinced Mom and Grandma. No one can stop us from being together now.” At that moment, Kinza stumbled, and he immediately caught her. “Have you lost your mind? What if you had fallen and something had happened to our babies?” Kinza stared at him in shock. She could hardly believe that the man who had never shown her affection was suddenly concerned about her unborn children.
At a baby store, Arman moved excitedly from one counter to another, picking up tiny blue shirts, pink and yellow dresses, little cotton socks, and miniature shoes. “Look at this, Kinza! Isn’t this blue outfit adorable? And this little cap will look so cute on the baby!” His face glowed with genuine happiness, and his eyes sparkled with excitement. Watching him, Kinza felt her heart grow heavy. How could he show so much love for children whose father he might not even be? She could not understand whether she should hate him or be astonished by his unexpected affection. The baby growing inside her was still unborn, and society would label the child illegitimate, yet Arman was already showering the little one with love. “Arman… why are you loving this baby so much?” she asked in a trembling voice. His hands, which were holding the tiny shoes, suddenly went still, and the playful brightness on his face disappeared. Some time later, Kinza was in the kitchen with Safia Begum, cheerfully recounting a funny incident from her laboratory at college. She was cutting tomatoes and laughing about how her friend Areeba had accidentally spilled chemicals, making their professor furious. Safia smiled and reminded her that Arman would soon return from the office and would raise the entire house if dinner was not ready. Kinza rolled her eyes playfully, but suddenly the kitchen lights began spinning before her eyes. A sharp cramp seized her lower abdomen, darkness surrounded her, and the knife slipped from her hand. Before Safia could understand what was happening, Kinza collapsed onto the marble floor. Panic spread through the house, and within minutes, their family doctor, Dr. Nighat, arrived. After examining Kinza, the doctor announced the shocking truth: Kinza was one week pregnant.
When Kinza regained consciousness, she found Safia Begum sitting beside her with a terrifying expression. “Don’t say a word, Kinza!” Safia snapped before demanding to know who the father of the child was. Kinza was horrified. “Mami, I swear I haven’t done anything! I’m innocent! I don’t know what happened that night. It felt as though some shadow or monster had held me captive and taken away my breath. I never saw his face. I wasn’t conscious, Mami. I thought it was a dream!” she cried, desperately trying to convince her aunt. But Safia refused to believe her and accused her of bringing disgrace upon the family. Kinza begged to be killed rather than live with such humiliation, but her suffering only seemed to deepen the family’s anger. That evening, the entire family gathered around the dinner table beneath the dim chandelier. Kinza sat silently, unable to swallow even a single bite, while her grandfather, Fakhar Sahib, gently asked why she was not eating. His kindness made her feel even more ashamed. Then Safia announced coldly, “Kinza is pregnant.” Fakhar Sahib was stunned, and Arman stared at Kinza with disbelief and disgust. When Kinza insisted that she did not know how it had happened, Safia declared that Arman must take responsibility because Kinza had been married to him for six years. Kinza pleaded that she did not want to leave with him, but Safia silenced her harshly. Arman finally agreed to take Kinza home, but only on one condition: his family must give him complete permission to marry another woman of his choice whenever he wished. Emphasizing that he wanted to marry a “good, respectable girl,” he wounded Kinza deeply, making her question her own worth despite being a victim of circumstances beyond her control. Fearing scandal and disgrace, Fakhar Sahib reluctantly accepted Arman’s demand. However, Safia insisted that Kinza’s departure would take place with a proper wedding ceremony and all the traditional rituals. “I don’t want anyone outside this family to start talking,” she declared firmly before leaving the room, while Kinza sat silently, feeling that the last fragments of her dignity had been taken away from her.
Download Complete Novel By Clicking download Button Below