Zard Raaton Ki Dastan By Zarish Hussain - Urdu Novelians

Urdu Novelians



Sneak Peak From The Novel

"دد۔۔دیکھو صاب" وہ بولنے لگی جب زید کی پینے میں گن دیکھتی وہاں سے بھاگ گئی پر زید قادوانی کے ہونٹ گہرا مسکرائے ،وہ۔۔۔۔۔

دوپہر کے دو بج رہے تھے اور اسلام آباد کی سڑکوں پر ٹریفک سگنل پر گاڑیوں کی لمبی قطار لگی تھی۔ ہارن پر ہارن بج رہے تھے۔
اسی قطار میں کالی پراڈو کھڑی تھی، جس کی اسٹیئرنگ سیٹ پر زید قادوانی بیٹھا تھا۔ سیاہ چشمہ ماتھے پر ٹکا تھا، آستینیں کہنیوں تک موڑی ہوئی تھیں اور کان سے موبائل لگا ہوا تھا۔
"نہیں سر، میں نے کہا نا کہ فائل کل صبح تک آپ کی میز پر ہوگی۔۔۔ جی؟ نہیں، وہ گواہ بیان بدلنے والا نہیں ہے، میں خود اس سے مل کر آیا ہوں۔۔۔ جی ہاں، سمجھا دیا ہے اسے۔"
"سمجھا دیا ہے" کہتے ہوئے اس کے لہجے میں جو ٹھنڈک تھی اس سے اندازہ ہوجاتا تھا کہ سمجھانے کا طریقہ کتنا "پیار بھرا" رہا ہوگا۔
اسی لمحے کھڑکی کے شیشے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔
زید نے نظر موڑ کر دیکھا۔ ایک دبلی پتلی سی لڑکی، عمر یہی کوئی سترہ اٹھارہ برس، میلے رنگ کا ڈھیلا ڈھالا کرتا پہنے، بکھرے بالوں کی لٹ آنکھوں پر گراتی، ہاتھ میں پرانا سا کپڑا لیے کھڑی تھی۔ چہرے پر ایسی معصومیت تھی کہ دیکھنے والا بے اختیار پسیج جائے۔
"اوئے صاب۔۔۔ ام تمہارا گاڑی صاف کردے؟"
زید نے فون کان سے لگائے ہوئے ہی ایک اچٹتی سی نظر اس پر ڈالی اور بے دھیانی میں اثبات میں سر ہلا دیا۔ اس کا دھیان ابھی بھی فائل اور گواہ میں اٹکا ہوا تھا۔
لڑکی کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ اس نے پھرتی سے کپڑا شیشے پر پھیرنا شروع کیا۔ دائیں سے بائیں، بائیں سے دائیں، اوپر نیچے۔ شیشہ صاف تو کیا ہوتا، بس گیلا ہو کر دھبوں سے بھر گیا۔ پھر اس نے ایک فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ ہاتھ پھیلا دیا۔
"کام ہوگیا۔۔۔ امارا پیسہ!"
زید نے بنا دیکھے جیب میں ہاتھ ڈالا، سو کا نوٹ نکالا اور اس کی ہتھیلی پر رکھ دیا۔ فون پر دوسری طرف سے کوئی بات کر رہا تھا اور وہ "ہوں، ہاں" میں جواب دے رہا تھا۔
لڑکی نے نوٹ کو یوں دیکھا جیسے کسی نے اس کے ہاتھ پر چھپکلی رکھ دی ہو۔
"اوئے۔۔۔ تمارا دماغ خراب ہے کیا؟" اس نے ایک ہاتھ کمر پر رکھ کر دوسرے ہاتھ میں نوٹ ہوا میں لہرایا۔ "امم شیشہ صاف کرنے کا پانچ ہزار لیتا ہے۔ جلدی سے پیسہ دو، ورنہ شور مچا کر تم پر الزام لگا دے گا کہ تم نے ام کو چھیڑا!"
زید کی انگلیاں موبائل پر ٹھہر گئیں۔
اس نے آہستہ سے فون کان سے ہٹایا، کال کاٹی اور گردن موڑ کر اس چھٹانک بھر کی لڑکی کو دیکھا۔ پانچ ہزار؟ شیشہ صاف کرنے کا؟ وہ بھی ایسا شیشہ جسے صاف کرنے کے بعد پہلے سے زیادہ گندا کر دیا گیا تھا؟ اور اوپر سے دھمکی بھی؟ شاید لڑکی جانتی نہیں تھی کہ سامنے بیٹھا شخص کون ہے۔
زید نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور اترا۔ چھ فٹ کے قد کے ساتھ جب وہ سامنے کھڑا ہوا تو لڑکی کو گردن اٹھا کر دیکھنا پڑا۔
"مچاؤ شور۔" وہ قدم اس کی طرف بڑھاتے ہوئے سرد لہجے میں بولا۔
لڑکی کے چہرے سے ایک لمحے میں شوخی غائب ہوگئی۔ وہ دو قدم پیچھے ہٹی۔ اس کی چھٹی حس کہہ رہی تھی کہ اس بار اس نے غلط شکار پکڑ لیا ہے۔
"دد۔۔۔ دیکھو صاب، ام تو۔۔۔"
وہ بول ہی رہی تھی کہ زید کے ہاتھ کی حرکت سے اس کی قمیص ذرا سی سرکی اور پینٹ کی بیلٹ میں اڑسی ہوئی کالی گن لڑکی کی نظر میں آگئی۔ 
بس پھر کیا تھا۔ سو کا نوٹ ہاتھ میں دبائے وہ ایسی بھاگی جیسے پیچھے شیر لگا ہو۔ گاڑیوں کے بیچ سے، فٹ پاتھ پھلانگتی ہوئی، اور چند سیکنڈ میں بھیڑ میں گم ہوگئی۔
زید قادوانی کے ہونٹوں پر ایک گہری مسکراہٹ اتر آئی۔ پانچ ہزار۔۔۔ واہ۔ لڑکی میں ہمت تو تھی۔
اتنے میں سگنل ہرا ہوگیا۔ پیچھے سے ہارنوں کی بوچھاڑ شروع ہوگئی۔ زید نے سر جھٹکا اور گاڑی میں بیٹھ کر آگے بڑھا دی۔ مگر اس کا دھیان اب فائل میں نہیں تھا۔ ذہن کے کسی کونے میں اس لڑکی کا چہرہ اٹکا رہ گیا تھا۔
کچھ تھا اس کے چہرے میں۔۔۔ کچھ جانا پہچانا۔
شام کو وہ گھر پہنچا تو لاؤنج میں ٹی وی کی ہلکی آواز آ رہی تھی۔ ماما، تسمینہ بیگم، صوفے پر بیٹھی تھیں، ہاتھ میں تسبیح تھی مگر نظریں ٹی وی پر نہیں تھیں۔ وہ کھڑکی سے باہر ڈوبتے سورج کو دیکھ رہی تھیں۔
"السلام علیکم ماما۔"
"وعلیکم السلام۔ آگئے میرے شیر۔" انہوں نے مسکرانے کی کوشش کی، مگر مسکراہٹ آنکھوں تک نہ پہنچی۔
زید نے گھڑی اتار کر میز پر رکھی اور ان کے پاس بیٹھ گیا۔ "ماما، پھر وہی؟"
"کیا وہی؟" وہ انجان بنیں۔
"وہی منہ لٹکا ہوا، وہی کھڑکی سے باہر دیکھنا۔ آج کون سی تاریخ ہے ماما؟"
تسمینہ بیگم نے ایک گہری سانس لی۔ "آج بائیس تاریخ ہے بیٹا۔ سمینہ کی برسی کی تاریخ نہیں ہے، نہ اس کی شادی کی، نہ اس کے گھر سے جانے کی۔ بس یوں ہی آج بہت یاد آ رہی تھی وہ۔"
زید خاموش ہوگیا۔
ماما کی چھوٹی بہن سمینہ، جو کبھی اس گھر کی سب سے شوخ اور ہنس مکھ لڑکی ہوا کرتی تھی۔ جس نے ایک ایسے لڑکے سے محبت کی جسے خاندان نے رد کر دیا تھا۔ جس نے ایک رات سب چھوڑ کر اس سے نکاح کر لیا۔ پھر ناناجان نے دروازے ہی نہیں، دل بھی بند کر لیے۔ "آج سے ہمارے لیے وہ مر گئی۔" بس یہی ایک جملہ تھا جو انہوں نے آخری بار اس کے بارے میں کہا تھا۔
مگر ماما کا دل ماں جیسا تھا۔ وہ چھپ چھپ کر بہن سے رابطہ رکھتی رہیں۔ فون پر باتیں، خطوط، کبھی کبھار کسی پارک میں ملاقات۔ انہی دنوں انہیں پتا چلا کہ سمینہ کی ایک بیٹی ہوئی ہے۔ ننھی سی، گلابی گلابی، جس کا نام بہت پیار سے رکھا گیا تھا۔ گل بہار۔
پھر ایک دن رابطہ ٹوٹ گیا۔
ماما نے بہت ڈھونڈا۔ پرانے پتے پر گئیں تو معلوم ہوا کہ وہ لوگ مکان چھوڑ گئے ہیں۔ پھر خبر ملی کہ سڑک کے ایک حادثے میں میاں بیوی دونوں۔۔۔
اور بچی؟ بچی کا کوئی سراغ نہ ملا۔
"ماما، آپ نے تو کتنی بار کوشش کی۔" زید نے نرمی سے ان کا ہاتھ تھاما۔ "پولیس، اخبار، سب کچھ۔"
"کوشش تو کی تھی بیٹا۔ مگر کچھ ملا کیا؟" ان کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ "بس یہ ایک تصویر ہے میرے پاس۔"
انہوں نے تسبیح کے ساتھ رکھی ایک پرانی البم اٹھائی اور اس میں سے ایک مڑی تڑی سی تصویر نکالی۔ زید نے وہ تصویر پہلے بھی کئی بار دیکھی تھی۔ ایک سات آٹھ سال کی بچی، گھنگریالے بال، بڑی بڑی شرارتی آنکھیں، گال پر ایک چھوٹا سا تل، اور مسکراتے ہوئے دانتوں کے بیچ ایک ننھی سی جگہ، جہاں شاید دودھ کا دانت گر چکا تھا۔ 
"اب تو وہ بڑی ہوگئی ہوگی نا زید۔ اتنی بڑی کہ شاید میں سامنے سے گزروں تو پہچان بھی نہ پاؤں۔" ماما کی آواز بھرا گئی۔ "پتا نہیں کہاں ہوگی، کس حال میں، کس کے در پر۔ کہیں بھوکی۔۔۔"
"ماما!" زید نے انہیں ٹوک دیا۔ "ایسی باتیں نہیں کریں۔ اللہ مہربان ہے۔"
مگر جب اس نے تصویر کو غور سے دیکھا تو دل کے اندر کچھ ہلکا سا کھٹکا۔
اس کا ذہن بجلی کی رفتار سے دوپہر کے سگنل پر پہنچ گیا۔ "پانچ ہزار۔۔۔ شور مچا دے گا۔۔۔" اس لڑکی کی کمر پر رکھا ہوا ہاتھ، تیکھی آنکھیں۔ اور جب وہ گھبرا کر بولی تھی، "دد۔۔۔ دیکھو صاب" تو اس کے گال پر ایک چھوٹا سا کالا نقطہ۔۔۔
زید ایک جھٹکے سے سیدھا ہوگیا۔
"کیا ہوا؟" ماما چونک گئیں۔
"کچھ نہیں ماما۔" اس نے تصویر واپس ان کے ہاتھ میں رکھی۔ اس کا لہجہ بظاہر نارمل تھا، مگر دل کی دھڑکن کی رفتار نارمل نہیں تھی۔ "بس ایک فون کرنا ہے۔ ابھی آیا۔"
"مجھے ابھی جانا ہوگا ماما۔" وہ ان کے پاس آتے بولا۔ 
"کوئی کیس ہے؟"
"جی ماما، ایک کیس ہے۔" اس نے چائے کا آخری گھونٹ بھرا اور باہر نکل گیا۔
وہ اسی سگنل پر پہنچا اور گاڑی ذرا ہٹ کر کھڑی کر دی۔ کالا چشمہ آنکھوں پر چڑھایا اور سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا کر باہر دیکھنے لگا۔ سگنل پر وہی چہل پہل تھی۔ پھول بیچنے والے بچے، اخبار والے، بھیک مانگنے والے، اور گاڑیوں کے شیشے صاف کرنے والوں کی ایک چھوٹی سی ٹولی۔
مگر وہ لڑکی نہیں تھی۔
ایک گھنٹہ گزر گیا۔ دو گھنٹے۔ زید کا فون بار بار بج رہا تھا اور وہ ہر بار اسے خاموش کر دیتا تھا۔ آخر جب اس کا صبر جواب دینے لگا، تبھی اس نے اسے دیکھا۔
سڑک کے پار، ایک چھوٹی سی دکان کی چھاؤں تلے، وہ لڑکی بیٹھی تھی۔ ایک ہاتھ میں گنے کے رس کا گلاس، دوسرے میں وہی سو کا نوٹ، جسے وہ بار بار اُلٹ پلٹ کر دیکھ رہی تھی اور خود ہی بڑبڑا رہی تھی۔ دور سے آواز تو نہیں آئی مگر ہونٹوں کی حرکت صاف پڑھی جا سکتی تھی۔ شاید وہ کہہ رہی تھی، "پانچ ہزار کا کام کیا، سو روپیہ ملا۔ دنیا میں انصاف نہیں رہا اب۔"
زید کی ہنسی چھوٹتے چھوٹتے بچی۔ اس نے خود کو سنجیدہ کیا۔
لڑکی نے رس ختم کیا، نوٹ کو احتیاط سے قمیص کے اندر ڈالا، اور اٹھ کر بھیڑ میں چل پڑی۔ زید نے گاڑی اسٹارٹ کی، مگر پھر خیال آیا کہ گاڑی میں پیچھا کرنا خود کو ظاہر کرنے کے برابر ہوگا۔ اس نے گاڑی ایک سائیڈ پر لگائی اور پیدل اس کے پیچھے ہولیا۔
وہ لڑکی تیز تیز چل رہی تھی، گلیوں سے گھومتی ہوئی، مڑتی ہوئی۔ اس کے چلنے میں ایک عجیب سی چال تھی، کچھ اکڑ، کچھ شوخی، جیسے پوری دنیا اس کی جاگیر ہو اور وہ بس سیر کو نکلی ہو۔
زید فاصلہ رکھ کر پیچھے چلتا رہا۔ وہ کبھی دیوار کی اوٹ لیتا، کبھی کسی ٹھیلے والے کے پیچھے ہو جاتا۔ لڑکی ایک دو بار رکی، پیچھے مڑ کر دیکھا، مگر زید ہر بار بھیڑ میں گم ہو جاتا۔
"کوئی ہے؟" لڑکی نے ایک بار زور سے پوچھا۔ پھر خود ہی کندھے اچکائے۔ "ام کا واہم ہوگا۔"
زید نے اپنے ہونٹ دانتوں تلے دبائے۔
آدھے گھنٹے کی پیدل مسافت کے بعد شہر کا شور مدھم ہونے لگا۔ پکی عمارتیں ختم ہوئیں اور کچی سڑک شروع ہوئی۔ سڑک کے دونوں طرف جھگیاں، ٹاٹ اور پلاسٹک کی چادروں سے بنی ہوئی۔ چھوٹے چھوٹے بچے مٹی میں کھیل رہے تھے اور عورتیں مٹی کے چولہوں پر ہانڈیاں چڑھائے بیٹھی تھیں۔
لڑکی ایک ایسی جھگی کے سامنے رکی جو باقی سب سے ذرا مختلف تھی۔ اس کے سامنے ایک چھوٹی سی چارپائی بچھی تھی اور اس پر ایک بزرگ عورت بیٹھی تھیں۔ سفید میلی چادر، جھریوں بھرا چہرہ اور آنکھوں میں رعب۔ 
"اماں! ام آگیا!" لڑکی نے خوشی سے آواز لگائی۔
بزرگ عورت نے سر اٹھایا۔ "گل بہار۔ آج اتنی دیر کیوں لگائی؟"زید کے قدم زمین میں گڑ گئے۔گل بہار۔۔۔‌۔ “صاب! شیشہ صاف کرنے کا پانچ ہزار لیتا ہے!”معصوم شکل بنا کر زید قادوانی سے پانچ ہزار اینٹھنے چلی گل بہار کو کیا خبر تھی کہ آج اس نے غلط شکار پکڑ لیا ہے… 
مگر زید کے ہوش تب اڑے جب اسی شرارتی لڑکی کے چہرے میں اسے برسوں پہلے لاپتا ہونے والی اپنی خالہ زاد بہن کی جھلک نظر آئی… اور پیچھا کرتے کرتے وہ ایک جھگی تک جا پہنچا۔پھر ایک آواز نے اسے وہیں روک دیا " گل بہار… آج اتنی دیر کیوں لگائی؟” 

At two o’clock in the afternoon, Islamabad’s roads were jammed with traffic, and the continuous honking of cars filled the air. A black Prado stood among the long queue of vehicles, with Zaid Qadwani behind the steering wheel. Wearing sunglasses pushed up on his forehead and his sleeves rolled to his elbows, he was busy discussing an important case over the phone. Just then, a skinny girl of around seventeen or eighteen knocked on his car window. Wearing a loose, dirty kameez with messy hair falling over her eyes, she looked innocent enough to fool anyone. “Hey, sir! You want me to clean your car?” she asked in a broken accent. Distracted by his phone call, Zaid nodded absentmindedly. The girl eagerly wiped his windshield with an old cloth, somehow making it even dirtier, and then stretched out her hand. “Done! Now give me my money!” Without looking at her, Zaid handed her a hundred-rupee note. She stared at it as though he had insulted her. “Hey! Have you lost your mind? I charge five thousand rupees for cleaning a windshield!” she exclaimed, waving the note in the air. “Give me the money quickly, or I’ll make a scene and accuse you of harassing me!” Zaid immediately ended his call and turned toward her in disbelief. Five thousand rupees for a windshield she had made dirtier? And now she was threatening him, too? Stepping out of the car, he towered over her with his six-foot frame and said coldly, “Go ahead. Make a scene.” The girl’s confidence vanished instantly. As she stammered, “L-look, sir, I was just—” Zaid shifted slightly, revealing the black gun tucked into his waistband. The moment she spotted it, she clutched the hundred-rupee note and ran for her life, weaving between cars before disappearing into the crowd. A deep smile spread across Zaid Qadwani’s lips. Five thousand! The girl certainly had courage. Yet something about her face seemed strangely familiar. That evening, when Zaid returned home, he found his mother, Tasmina Begum, sitting in the lounge with her prayer beads, gazing sadly out of the window. When he asked why she looked so upset, she confessed that she was missing her younger sister, Sameena. Years ago, Sameena had fallen in love with a man her family disapproved of and secretly married him, prompting their grandfather to disown her. Tasmina had continued contacting her sister in secret, and eventually learned that Sameena had given birth to a beautiful little girl named Gul Bahar. But one day, all contact suddenly stopped. When Tasmina tried to find her sister, she learned that Sameena and her husband had died in a road accident, while their daughter had mysteriously disappeared without a trace.

With tears in her eyes, Tasmina took out an old photograph of Gul Bahar, who had been around seven or eight years old when she went missing. The picture showed a little girl with curly hair, mischievous eyes, a tiny mole on her cheek, and a charming smile. “She must be a grown woman now, Zaid. I wonder where she is and what kind of life she’s living. What if she’s hungry or has no one to care for her?” Tasmina whispered painfully. Zaid tried to reassure his mother, but as he looked closely at the photograph, a sudden thought struck him. The girl at the traffic signal! Her sharp eyes, mischievous attitude, and the tiny black mole on her cheek matched the child in the photograph. Even her stammering words—“L-look, sir”—came rushing back to his mind. His heartbeat quickened. Could the troublesome girl who had tried to extort five thousand rupees from him actually be his long-lost cousin? Without revealing his suspicions, Zaid told his mother that he had to attend to a case and hurried out. He returned to the same traffic signal, parked his car nearby, and waited. An hour passed, then another, until he finally spotted the girl sitting in the shade of a small shop across the road. She was sipping sugarcane juice while repeatedly examining the hundred-rupee note and muttering to herself, apparently complaining that she had done five thousand rupees’ worth of work but received only a hundred. Zaid nearly burst out laughing at her ridiculous audacity. After finishing her drink, she carefully tucked the note inside her kameez and walked into the crowd. Zaid decided to follow her on foot rather than risk exposing himself by driving behind her. She moved through narrow streets with remarkable confidence, occasionally glancing over her shoulder. Each time she stopped to check whether someone was following her, Zaid cleverly concealed himself behind a wall or a street vendor. When she finally asked aloud whether anyone was there, then dismissed her suspicion as her imagination, he struggled to suppress another laugh. After nearly thirty minutes, the busy city streets gave way to muddy roads lined with makeshift huts built from plastic sheets and pieces of cloth. Children played in the dirt while women cooked over traditional clay stoves. The girl eventually stopped outside a small hut that had a charpai in front of it, where an elderly woman sat wrapped in a worn white shawl.

“Amma! I’m home!” the girl called cheerfully. The elderly woman raised her head and asked, “Gul Bahar, why are you so late today?” Zaid froze in his tracks. Gul Bahar! The name echoed in his mind as he stood there in disbelief. The mischievous girl who had attempted to trick him at the traffic signal was none other than the cousin his family had been searching for over the years—or at least, she appeared to be. He had followed her all the way to this humble settlement, and now he finally had a name to connect with the face that had stirred such powerful memories. As he watched her standing before the elderly woman, Zaid realized that his unexpected encounter might change both their lives forever. The girl who had confidently demanded five thousand rupees from Zaid Qadwani had absolutely no idea that the man she had tried to fool could be the key to discovering her true family and uncovering the mystery of her lost childhood.

Download Complete Novel By Clicking download Button Below


DOWNLOAD