Sneak Peak From The Novel
"خدا کے لیے مجھے کھانا دے دو میں دو دن سے بھوکی ہوں" اندھیرے اور گرمی میں دروازے کو مسلسل پیٹنے سے آرمین کے جسم سے رہی سہی طاقت بھی ختم ہو چکی تھی۔ لیکن باہر سب اسکے شوہر زہیر شاہ کی دوسری شادی کے فنکشن میں مصروف تھے۔ اسے محض جائیداد کی خاطر زہیر کی دلہن بنایا گیا، جائیداد ملتے ہی اسے سٹور روم میں پھینک دیا گیا تھا۔ تبھی زہیر کا چھوٹا بھائی جو دس سال بعد لندن سے بیرسٹر بن کر لوٹا تھا کسی کام سے سٹور روم کی طرف آیا تو آرمین کو بے ہوش پڑا دیکھ اسے باہوں میں بھرتے ہسپتال پہنچا۔ اگلی صبح وہ حویلی والوں کے سامنے کھڑا تھا "مجھے میری دلہن مل گئی ہے، آئی ہوپ زہیر بھائی میرے ساتھ کوآپریٹ کریں گے۔۔" اسکے سرد الفاظ پر سب کی نگاہیں اسکے کندھے کی اوٹ میں چھپتی آرمین پر پڑیں۔ بھائی! آرمین کو طلاق دیں ورنہ آپکو عدالت میں زلیل ہونا پڑے گا۔۔ ویسے بھی آرمین اب اس حویلی کی اکلوتی مالکن ہے!!
"کوئی تو مجھے کھانا دے دو میں بھی تو اس گھر کی بہو ہوں۔ کوئی تو مجھے اس اندھیرے کمرے سے باہر نکالو۔ خدا کے لیے مجھے بھوک لگی ہے۔"
ارمین نے لکڑی کے دروازے پر دونوں ہاتھ مارے۔ مسلسل دروازہ پیٹنے سے اس کی انگلیاں سرخ ہو چکی تھیں۔ ہتھیلیوں پر سوجن نمایاں تھی۔ گلا خشک ہو چکا تھا۔ آنکھوں سے بہنے والے آنسو اس کے رخساروں کو بھگو رہے تھے۔
حویلی کے باہر روشنیوں کی چمک تھی۔ ڈھول کی تھاپ پر لوگ خوشی سے جھوم رہے تھے۔ مہمانوں کی آمد جاری تھی۔ ملازم کھانے کی میزیں سجا رہے تھے۔ ہر طرف زہیر شاہ کی دوسری شادی کی تیاریاں تھیں۔
اس حویلی کی پہلی بہو ارمین شاہ کئی دنوں سے ایک تنگ سٹور روم میں قید تھی۔ جس گھر میں کبھی اس کے قدموں کی آہٹ سے رونق محسوس ہوتی تھی آج اسی گھر میں اس کی چیخیں سننے والا کوئی نہیں تھا۔
زہیر شاہ نے ارمین سے محبت سے شادی نہیں کی تھی۔ اس کی نظر ارمین کے والد کی چھوڑی ہوئی جائیداد پر تھی۔ ارمین کے والد اپنی اکلوتی بیٹی کے نام کئی جائیدادیں کر گئے تھے۔ زہیر نے بڑی چالاکی سے ارمین کا اعتماد حاصل کیا تھا۔ شادی کے بعد اس نے ارمین کو اپنے نام موجود جائیداد کے کاغذات پر دستخط کرنے پر مجبور کیا۔
جائیداد اس کے ہاتھ آتے ہی زہیر کا رویہ بدل گیا۔ محبت کے دعوے ختم ہو گئے۔ مخلصی کے وعدے مٹی میں مل گئے۔ ارمین کو اب گھر کی مالکن نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اس کے حصے میں ذلت آئی تھی۔
چند دن پہلے زہیر نے اسے سٹور روم میں بند کروا دیا تھا۔ اس کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس نے اپنے شوہر سے دوسری شادی کا فیصلہ واپس لینے کی درخواست کی تھی۔
ارمین نے دروازے سے سر ٹکا دیا۔ "زہیر خدا کے لیے مجھے باہر نکال دو۔ میں تم سے کچھ نہیں مانگوں گی۔ مجھے صرف ایک وقت کا کھانا دے دو۔" اس کی آواز دھیرے دھیرے کمزور پڑنے لگی۔ باہر شادی کا جشن جاری تھا۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ اس حویلی کی پہلی بہو بھوک سے نڈھال ہو کر زندگی کی آخری حدوں کو چھو رہی ہے۔
اسی وقت حویلی کے مرکزی دروازے پر ایک سیاہ گاڑی آ کر رکی۔ گاڑی سے ایک لمبا چوڑا نوجوان اترا۔ سیاہ لباس میں ملبوس اس کے چہرے پر سنجیدگی تھی۔ تیز نگاہیں حویلی کی عمارت پر اٹھیں۔ وہ دس سال بعد لندن سے واپس آیا تھا۔ آبیر خان۔ زہیر شاہ کا چھوٹا بھائی۔
دس سال پہلے وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن گیا تھا۔ پھر کاروباری معاملات نے اسے وہیں روک لیا۔ خاندان سے اس کا رابطہ محدود ضرور تھا مگر وہ اپنے گھر والوں کے بارے میں بے خبر نہیں تھا۔ آج اسے اپنے بھائی کی دوسری شادی کی خبر ملی تھی۔ زہیر نے اسے تقریب میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ اس نے سوچا تھا کہ خاندان سے ملاقات ہو جائے گی۔
وہ اندر داخل ہونے ہی والا تھا کہ اس کے کانوں میں ایک کمزور آواز پڑی۔ "کوئی تو مجھے باہر نکالو۔ خدا کے لیے کوئی میری آواز سن لو۔" آبیر کے قدم رک گئے۔ اس نے پلٹ کر حویلی کے پچھلے حصے کی طرف دیکھا۔ آواز دوبارہ سنائی دی۔ "مجھے بھوک لگی ہے۔ میں یہاں مر جاؤں گی۔"
آبیر کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔ اس نے قریب کھڑے ملازم کو بلایا۔ "یہ آواز کہاں سے آ رہی ہے۔" ملازم کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ "صاحب وہ شاید کسی بلی کی آواز ہے۔" آبیر نے اسے گھورا۔ "مجھے انسان کی آواز سنائی دی ہے۔" ملازم نظریں جھکا کر پیچھے ہٹنے لگا۔ "صاحب آپ اندر تشریف لے جائیں۔ باہر آپ کے آنے کا سب انتظار کر رہے ہیں۔"
آبیر نے اس کا بازو پکڑ لیا۔ "تم مجھے اس طرف لے کر چلو جہاں سے آواز آ رہی ہے۔" ملازم کے چہرے پر گھبراہٹ پھیل گئی۔ "صاحب وہاں سٹور روم ہے۔" آبیر نے اس کا بازو چھوڑ دیا۔ "تو پھر راستہ دکھاؤ۔"
وہ ملازم کے پیچھے حویلی کے پچھلے حصے کی طرف بڑھ گیا۔ جیسے جیسے وہ سٹور روم کے قریب پہنچا آواز واضح ہوتی گئی۔ "کوئی تو مجھے کھانا دے دو۔" آبیر کے قدم تیز ہو گئے۔ دروازے کے سامنے پہنچ کر اس نے دستک دی۔ "اندر کون ہے۔"
دوسری طرف سے کمزور سی آواز آئی۔ "مجھے باہر نکال دیں۔ میں کسی کو کچھ نہیں کہوں گی۔" آبیر نے دروازے کی کنڈی پکڑی۔ دروازہ باہر سے بند تھا۔ "چابی کہاں ہے۔" ملازم خاموش کھڑا رہا۔ آبیر کا لہجہ سخت ہو گیا۔ "میں نے پوچھا چابی کہاں ہے۔"
ملازم نے کانپتے ہاتھوں سے جیب سے چابی نکالی۔ چند لمحوں بعد دروازہ کھل گیا۔ اندر گھپ اندھیرا تھا۔ بدبو پھیلی ہوئی تھی۔ ایک کونے میں عورت زمین پر بیٹھی تھی۔ اس کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ لباس گرد آلود تھا۔ چہرہ زرد پڑ چکا تھا۔
آبیر کی نگاہ اس کے چہرے پر پڑی تو وہ اپنی جگہ ساکت رہ گیا۔ "بھابھی۔" ارمین نے پلکیں اٹھانے کی کوشش کی۔ دھندلی نگاہوں میں اسے ایک اجنبی سا چہرہ دکھائی دیا۔ "مجھے گھر جانے دیں۔" یہ کہتے ہوئے اس کا سر ایک طرف ڈھلک گیا۔ آبیر تیزی سے آگے بڑھا۔ ارمین اس کی باہوں میں بے ہوش ہو چکی تھی۔
"بھابھی آنکھیں کھولیں۔" اس نے اس کے چہرے پر تھپکی دی۔ کوئی جواب نہیں ملا۔ آبیر نے اسے اپنی باہوں میں اٹھایا۔ اس کا جسم غیر معمولی طور پر ہلکا محسوس ہوا۔ جیسے کئی دنوں سے بھوکی عورت کے جسم میں جان باقی نہ رہی ہو۔
آبیر نے ملازم کی طرف دیکھا "یہ سب کس نے کیا ہے۔" ملازم کے ہونٹ کپکپائے۔ "صاحب مجھے کچھ معلوم نہیں۔" آبیر نے جواب دیے بغیر ارمین کو اٹھائے باہر کی طرف قدم بڑھا دیے۔ حویلی کے صحن میں موسیقی کی آواز بلند تھی۔
زہیر اپنے دوستوں کے درمیان کھڑا مہمانوں سے مل رہا تھا۔ اس کی نئی دلہن اسٹیج پر بیٹھی تھی۔ قیمتی لباس میں ملبوس اس کے چہرے پر فتح کا غرور نمایاں تھا۔ آبیر کو ارمین کو اٹھائے دیکھ کر چند لوگ حیران رہ گئے۔ زہیر نے دور سے اپنے بھائی کو دیکھا تو اس کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہو گئی۔ "آبیر یہ کیا تماشا لگا رکھا ہے۔"
آبیر رکا نہیں۔ زہیر تیزی سے اس کے سامنے آ گیا۔ "میں تم سے بات کر رہا ہوں۔ اسے کہاں لے کر جا رہے ہو۔" آبیر کی نگاہ اپنے بھائی کے چہرے پر جم گئی۔ "اسے ہسپتال لے کر جا رہا ہوں۔" زہیر نے ارمین کی طرف دیکھا۔ "یہ میرا گھریلو معاملہ ہے۔ تم درمیان میں مت پڑو۔"
آبیر کے اندر غصے کی لہر اٹھی۔ "گھریلو معاملہ۔ تم نے اپنی بیوی کو بھوکا پیاسا سٹور روم میں بند کر رکھا تھا۔ اسے دیکھ کر تمہیں شرم نہیں آتی۔" قریب کھڑے مہمانوں کی سرگوشیاں بلند ہونے لگیں۔ زہیر نے دانت بھینچے۔ "تم دس سال بعد آئے ہو۔ تمہیں اس گھر کے حالات کا کچھ علم نہیں۔"
"اتنا علم کافی ہے کہ میری بھابھی تمہارے گھر میں مرنے کے قریب پہنچ گئی ہے۔" زہیر نے راستہ روکنے کی کوشش کی۔ "اسے نیچے اتارو۔" آبیر کی آواز گونجی۔ "راستے سے ہٹ جاؤ زہیر شاہ۔" اس کے لہجے میں ایسی سختی تھی کہ زہیر ایک لمحے کے لیے خاموش ہو گیا۔
آبیر ارمین کو لے کر گاڑی تک پہنچا۔ ڈرائیور نے فوراً دروازہ کھولا۔ وہ ارمین کو پچھلی نشست پر لٹانے کے بعد خود اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔ گاڑی ہسپتال کی طرف روانہ ہو گئی۔ پیچھے حویلی میں شادی کا جشن بے رونق ہو چکا تھا۔
زہیر کی دوسری بیوی کے چہرے پر ناگواری پھیل گئی۔ "آپ کے بھائی کو ہماری خوشی برداشت نہیں ہوئی۔" زہیر نے غصے سے اسے دیکھا۔ "تم خاموش رہو۔" "میں خاموش کیوں رہوں۔ آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ ارمین کا قصہ ختم ہو جائے گا۔" زہیر نے اس کے قریب ہو کر دھیمی آواز میں کہا۔ "تمہاری شرط پوری ہو چکی ہے۔ اب کوئی مسئلہ پیدا مت کرو۔" اس کی بیوی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی۔ "مجھے صرف اپنا حق چاہیے۔"
ہسپتال پہنچتے ہی آبیر نے ڈاکٹروں کو بلایا۔ ارمین کو ایمرجنسی وارڈ میں منتقل کر دیا گیا۔ ڈاکٹرز نے اس کا معائنہ شروع کیا۔ آبیر کمرے کے باہر کھڑا بے چینی سے دروازے کی طرف دیکھتا رہا۔ کچھ دیر بعد ڈاکٹر باہر آیا۔ "مریضہ کی حالت بھوک کی وجہ سے کافی خراب ہے۔ جسم میں پانی کی شدید کمی ہے۔ انہیں کئی دن سے مناسب غذا نہیں ملی۔ فی الحال ہم علاج کر رہے ہیں۔"
آبیر کی مٹھیاں بھنچ گئیں۔ "کیا وہ خطرے سے باہر ہیں۔" "ابھی کچھ وقت لگے گا۔ انہیں مکمل آرام کی ضرورت ہے۔ ذہنی دباؤ سے بھی بچانا ہو گا۔"
"ان کے علاج میں کوئی کمی نہیں ہونی چاہیے۔ تمام اخراجات میری ذمہ داری ہیں۔" ڈاکٹر واپس اندر چلا گیا۔ آبیر نے پہلی مرتبہ اپنے خاندان سے متعلق اتنی شدید شرمندگی محسوس کی۔ اس نے لندن میں رہتے ہوئے کبھی تصور نہیں کیا تھا کہ اس کی غیر موجودگی میں اس کے گھر والے ایک بے گناہ عورت کے ساتھ ایسا سلوک کر سکتے ہیں۔
وہ کوریڈور کی کرسی پر بیٹھ گیا۔ اس کے ذہن میں ارمین کا زرد چہرہ گھوم رہا تھا۔ اس کی کمزور آواز کانوں میں گونج رہی تھی۔ "مجھے بھوک لگی ہے۔" آبیر نے آنکھیں بند کر لیں۔ "بھابھی میں آپ کو اس حال میں چھوڑنے والوں کو کبھی معاف نہیں کروں گا۔"
اسی دوران اس کا فون بج اٹھا۔ زہیر کی کال تھی۔ آبیر نے کال کاٹ دی۔ چند لمحوں بعد دوبارہ کال آئی۔ اس بار اس نے فون اٹھا لیا۔ "کیا چاہیے تمہیں۔" دوسری طرف سے زہیر کی آواز آئی۔ "تم ارمین کو کہاں لے گئے ہو۔" "ہسپتال۔" "اسے واپس لے آؤ۔"
آبیر کی ہنسی نکل گئی مگر اس ہنسی میں سخت تلخی تھی۔ "تمہیں اب اس کی فکر ہو رہی ہے۔" "وہ میری بیوی ہے۔" "بیوی کو بھوکا رکھ کر سٹور روم میں بند کرنے کا حق کس نے دیا تمہیں۔" زہیر خاموش ہو گیا۔ آبیر نے دوبارہ کہا۔ "اگر تم نے میری بھابھی کے قریب آنے کی کوشش کی تو میں تمہارے خلاف قانونی کاروائی کروں گا۔" زہیر کی آواز سخت ہو گئی۔ "اپنی حد میں رہو آبیر۔" "اپنی حد تم بھول چکے ہو۔" آبیر نے کال ختم کر دی۔
اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اب ارمین کو اس گھر میں واپس نہیں جانے دے گا۔ کئی گھنٹے گزر گئے۔ رات گہری ہو چکی تھی۔ ارمین کو ہوش آیا تو وہ سفید چھت کو دیکھتی رہی۔ اس کے بازو میں ڈرپ لگی ہوئی تھی۔ کمرے میں دوا کی ہلکی سی بو تھی۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کہاں ہے۔
اس نے اٹھنے کی کوشش کی تو سر چکرانے لگا۔ "آہ۔" آواز سن کر آبیر فوراً اس کے قریب آیا۔ "بھابھی آرام سے۔ آپ ہسپتال میں ہیں۔" ارمین نے اسے غور سے دیکھا۔ "آپ کون ہیں۔" آبیر کے چہرے پر دکھ اتر آیا۔ "میں آبیر ہوں۔ زہیر کا چھوٹا بھائی۔" ارمین کی آنکھیں پھیل گئیں۔
"بھائی-" ارمین کی آنکھیں پھیل گئیں- "آبیر-" "جی بھابھی- میں دس سال بعد واپس آیا ہوں-"
ارمین کے لب کانپنے لگے- "آپ مجھے یہاں کیوں لے آئے- مجھے واپس جانا ہے-"
آبیر نے نرمی سے کہا- "آپ کو ابھی کہیں نہیں جانا- آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے-"
ارمین کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے- "وہ مجھے واپس سٹور روم میں بند کر دے گا-"
آبیر کا دل کٹ کر رہ گیا- "اب کوئی آپ کو وہاں نہیں بھیجے گا- میں آپ کے ساتھ ہوں-"
ارمین نے فوراً چہرہ دوسری طرف کر لیا- "آپ بھی مجھے تسلی دے رہے ہیں- سب یہی کہتے ہیں- پھر سب مجھے اکیلا چھوڑ دیتے ہیں-"
“Please, for God’s sake, give me something to eat! I haven’t eaten for two days!” Armeen cried, desperately pounding on the locked storeroom door. The darkness, unbearable heat, and constant banging had drained the last of her strength, while outside, everyone was busy celebrating her husband Zaheer Shah’s second wedding. Zaheer had married Armeen only to gain possession of the property her late father had left in her name. The moment he acquired it, his so-called love disappeared, and he had her locked inside a suffocating storeroom for daring to ask him to reconsider his second marriage. Now, the mansion’s first daughter-in-law was starving and pleading for help while music played and guests celebrated outside, completely unaware of her suffering.
Just then, Abeer Khan, Zaheer’s younger brother, returned from London after ten years, having qualified as a barrister. As he approached the mansion, he heard a faint voice begging for food and help. Ignoring the servant’s attempts to mislead him, Abeer followed the cries to the storeroom and demanded the key. When the door finally opened, he found Armeen lying helplessly in a corner, her face pale, clothes covered in dust, and body weakened by days without proper food or water. The moment she recognized him, she whispered that she wanted to go home before collapsing unconscious in his arms. Furious at his brother’s cruelty, Abeer carried her straight to the hospital, confronting Zaheer on his way out and warning him to stay away. After doctors confirmed that Armeen was severely dehydrated and malnourished, Abeer vowed that he would never allow his family to subject her to such treatment again.
Hours later, Armeen regained consciousness in a hospital bed and found Abeer sitting beside her. When he introduced himself as Zaheer’s younger brother, she stared at him in disbelief before tears filled her eyes. “Why did you bring me here? I have to go back,” she whispered fearfully. Abeer gently reassured her that she needed rest and that nobody would send her back to the storeroom. But Armeen had lost all faith in promises. “He will lock me in that storeroom again,” she sobbed, turning her face away. Abeer’s heart ached at her fear, and he assured her that he was there for her and would protect her. Yet Armeen could no longer bring herself to trust anyone. “You’re comforting me too,” she whispered bitterly. “Everyone says the same thing, and then they leave me all alone.” Abeer realized that earning her trust would take more than words—and he was determined to make sure she would never have to suffer alone again.
Download Complete Novel By Clicking download Button Below

