Shabnum Ke Qatron Se Mohabbat By Zarish Hussain

Urdu Novelians


 Sneak Peak From The Novel


"آپ کی ماں جھوٹ بول رہی ہیں خان۔۔۔ بے قصور ہوں میں" وہ تڑپ کر بولی تھی جب اگلے لمحے ارحم خانزادہ نے اس کے منہ پر تھپڑ رسید کیا تھا۔ نفرت سے اس کا بازو دبوچا "تمہاری آوارگی کے قصے پورے خاندان میں مشہور ہیں اور تم پورے خاندان کے سامنے میری ماں کو جھوٹا کہہ رہی ہو؟ معافی مانگو میری ماں سے" کہتے ساتھ ارحم نے اسے اپنی ماں کے قدموں میں پھینکا تھا وہ زخمی نگاہوں سے ارحم کی ماں جو دیکھنے لگی جو چہرے پر مکاری سجائے اسے حقارت بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ "مم۔۔ مجھے معاف کر دیں" ضبط سے آنکھیں میچتے کہتی وہ فورا کمرے میں چلی گئی تھی۔ پر ارحم نہیں جانتا تھا سچ آج رات ہی بے نقاب ہونا تھا لیکن وہ سچ کھلنے سے پہلے حویلی سے بھاگ گئی تھی "تم اب ساری زندگی مجھے ڈھونڈوگے پر میں نہیں ملوں گی۔۔۔"


"بیٹی، سسرال میں صبر سے چلنا پڑتا ہے۔ تیرا گھر تیرے ہاتھوں سے بنے گا۔" روشنی نے یہ بات دل میں گرہ باندھ کر رکھ لی تھی۔ وہ آہستہ سے اٹھی، وضو کیا، نماز پڑھی اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ "یا اللہ، میرا یہ گھر آباد رکھنا۔ مجھے اس گھر میں عزت اور سکون دینا۔" دعا مانگتے ہوئے اس کی آنکھیں بھر آئیں، مگر اس نے جلدی سے دوپٹے کے کونے سے آنسو پونچھ لیے۔ ابھی تو شروعات تھی، اتنی جلدی ہمت ہارنا اسے منظور نہ تھا۔ کچن میں آئی تو ملازمہ کے آنے میں ابھی وقت تھا۔ اس نے خود ہی چولہا جلایا۔ ارحم کو صبح ناشتے میں پراٹھا، آملیٹ اور ادرک والی چائے چاہیے ہوتی تھی۔ یہ بات شادی کے دوسرے ہی دن ارحم کی بہن نے بتا دی تھی۔ روشنی نے سب کچھ ویسا ہی بنایا جیسا بتایا گیا تھا۔ ٹرے سجائی اور کمرے میں لے گئی۔


"ارحم، اٹھ جائیں۔ آفس کا ٹائم ہو رہا ہے۔" اس نے نرمی سے آواز دی۔ ارحم نے کروٹ بدلی اور آنکھیں بند رکھتے ہوئے بولا، "پانچ منٹ اور۔" "ناشتہ ٹھنڈا ہو جائے گا۔" "تو دوبارہ گرم کر لینا۔" وہ جھنجھلا کر بولا اور تکیہ منہ پر رکھ لیا۔ روشنی چند لمحے کھڑی رہی۔ پھر ٹرے میز پر رکھ کر خاموشی سے باہر نکل گئی۔ اس نے خود کو سمجھایا کہ نیند میں انسان چڑچڑا ہوتا ہے، دن میں ٹھیک ہو جائیں گے۔ ڈائننگ ٹیبل پر شازی بیگم پہلے ہی بیٹھی تھیں۔ ہاتھ میں تسبیح تھی اور نظریں کچن کے دروازے پر۔ روشنی کو دیکھتے ہی بولیں، "آ گئیں بہو رانی؟ میں تو سمجھی آج بھی دیر تک سوتی رہو گی۔" "جی امی، فجر کے وقت اٹھ گئی تھی۔ آپ کے لیے بھی ناشتہ لگا دوں؟" "لگا دو، لگا دو۔ مگر پراٹھا ذرا نرم رکھنا۔ پچھلی دفعہ تم نے ایسا لگایا تھا جیسے جوتے کا تلا ہو۔" روشنی کو یاد آیا کہ پچھلی دفعہ تو نیا تھا اور اس نے ایک ہی بار ایسا کیا تھا۔ مگر اس نے کچھ نہ کہا، بس مسکرا کر سر ہلا دیا۔ اس نے پراٹھا اتنا نرم بنایا کہ شازی بیگم کے پاس کہنے کو کچھ نہ رہا۔ انہوں نے ایک نوالہ لیا اور بے دلی سے بولیں، "ٹھیک ہے۔ ہمارے گھر میں نمک ذرا کم کھایا جاتا ہے، آئندہ خیال رکھنا۔" "جی امی۔"


اتنے میں ارحم آنکھیں ملتا ہوا کمرے سے نکلا۔ شرٹ آدھی استری شدہ تھی اور بال بکھرے ہوئے تھے۔ اس نے آتے ہی کہا، "میری وہ نیلی ٹائی کہاں ہے؟ صبح سے ڈھونڈ رہا ہوں، کسی کو کوئی پروا ہی نہیں۔" "آپ بیٹھیں، میں لاتی ہوں۔" روشنی تیزی سے کمرے کی طرف گئی۔ الماری میں ٹائی دوسرے خانے میں رکھی تھی، جہاں ارحم نے خود ہی رکھی ہو گی۔ اس نے ٹائی نکالی، جوتے پالش کر کے دروازے کے پاس رکھے اور واپس ڈائننگ ٹیبل پر آئی۔ ارحم نے ٹائی لے لی، مگر شکریہ نہیں کہا۔ بس چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے بولا، "چائے میں چینی کم ہے۔" "ارحم، آپ کی صحت کے لیے کم ہی ٹھیک ہے، ڈاکٹر نے بھی۔۔۔" "میں نے تم سے ڈاکٹر کا مشورہ نہیں مانگا۔" اس نے تیز لہجے میں بات کاٹ دی۔ میز پر یکدم خاموشی چھا گئی۔ شازی بیگم نے نظریں جھکا لیں، مگر ان کے ہونٹوں کے کونے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔ روشنی نے خاموشی سے چینی کا ڈبہ اس کی طرف بڑھا دیا۔



 ارحم نے دو چمچ ڈالے اور بغیر کچھ کہے ناشتہ ختم کر کے چلا گیا۔ روشنی دروازے تک اسے چھوڑنے آئی۔ "اللہ حافظ، ارحم۔ دھیان سے جائیے گا۔" جواب نہیں آیا۔ گاڑی کا دروازہ بند ہوا اور وہ چلا گیا۔ روشنی دیر تک دروازے پر کھڑی رہی۔ دل میں ایک خلا سا تھا، جیسے کوئی چیز کھو گئی ہو جو ابھی ملی ہی نہیں تھی۔ دن چڑھتا گیا اور گھر کے کام روشنی کے ہاتھوں میں سمٹتے چلے گئے۔ کپڑے دھونا، گھر کی صفائی، دوپہر کا کھانا، شام کی چائے۔ ملازمہ آتی تھی مگر شازی بیگم کا اصول تھا کہ بہو کے ہاتھ کا کام ہی اصل کام ہوتا ہے۔ "ہم نے بھی تو اپنی ساس کی خدمت کی تھی، یوں ہی نہیں ہمارا گھر اتنا مضبوط بنا۔" وہ ہر دوسرے روز یہی جملہ دہراتیں۔ روشنی نے کبھی شکوہ نہ کیا۔ اسے لگتا تھا کہ ہر نئی دلہن کو یہ امتحان دینا ہی پڑتا ہے۔ جب وہ ان کے کمرے میں دوپہر کی دوا لے کر گئی تو شازی بیگم نے نظریں اٹھا کر کہا، "بیٹھو، ذرا بات کرنی ہے۔" روشنی ان کے پاس پلنگ کے کنارے بیٹھ گئی۔ "دیکھو بیٹی، میرا ایک ہی بیٹا ہے۔ میں نے اسے بڑے ناز سے پالا ہے۔ وہ ذرا غصے کا تیز ہے، مگر دل کا برا نہیں ہے۔ تمہیں اس کا مزاج سمجھنا ہو گا۔" "جی امی، میں پوری کوشش کر رہی ہوں۔" "کوشش نہیں، عمل چاہیے۔" شازی بیگم کا لہجہ ایک لمحے کو سخت ہوا، پھر انہوں نے خود کو نرم کر لیا۔ "بس ایک بات یاد رکھنا، اس گھر میں میری بات حرفِ آخر ہے۔ ارحم میری ہر بات مانتا ہے۔ اس لیے مجھے ناراض کرنے کی غلطی کبھی نہ کرنا۔" روشنی نے سر ہلا دیا۔ اسے اس بات میں چھپی دھمکی کا اندازہ نہیں ہوا۔ وہ اسے ماں کی محبت سمجھی۔


شام کو ارحم لوٹا تو تھکا ہوا اور بیزار تھا۔ روشنی نے چائے اور سموسے سامنے رکھے۔ اس نے ایک نظر ڈالی اور بولا، "یہ روز روز سموسے کیوں؟ کچھ اور نہیں بنتا تم سے؟" "کل آپ نے ہی کہا تھا کہ شام کو سموسے اچھے لگتے ہیں۔" "میں نے کب کہا؟" "کل رات آپ نے امی سے فرمائش کی تھی، میں نے سن لیا تھا تب۔" ارحم کی نظر ماں کی طرف اٹھی۔ شازی بیگم نے کندھے اچکا دیے، "ہاں بیٹا، تم نے کہا تو تھا۔ مگر بہو تو ہر بات پر زبان چلاتی ہے۔" "میں نے تو بس یاد دلایا تھا۔" روشنی نے دھیمی آواز میں کہا۔ "بس یہی عادت ہے اس کی۔" شازی بیگم نے ارحم کی طرف دیکھ کر ٹھنڈی سانس لی۔ "ہر بات کا جواب دینا ضروری سمجھتی ہیں۔ میں تو اب کچھ کہتی ہی نہیں اسے۔" ارحم کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔ اس نے روشنی کی طرف دیکھا، "جب امی بول رہی ہوں تو چپ رہا کرو۔ بحث کرنا کس نے سکھایا تمہیں؟" "ارحم، میں بحث نہیں کر رہی تھی۔ میں تو صرف۔۔۔" "بس!!" اس نے ہاتھ اٹھا دیا۔ "مجھے تمہاری وضاحتیں نہیں سننی ہیں۔" روشنی کا حلق خشک ہو گیا۔ اس نے آنکھیں نیچی کر لیں اور خاموشی سے برتن سمیٹنے لگی۔


"یہ کیا بنایا ہے؟" شازی بیگم کی آواز کچن کے دروازے سے آئی۔ وہ کب آ کر کھڑی ہو گئی تھیں، روشنی کو پتا ہی نہ چلا۔ "امی، آج طبیعت ذرا ٹھیک نہیں ہے، اس لیے۔۔۔" "طبیعت! طبیعت! ہر دوسرے دن تمہاری طبیعت خراب ہوتی ہے۔" شازی بیگم نے طنز سے ہاتھ نچایا۔ "جب کام کا وقت آتا ہے تو تمہیں بیماری یاد آ جاتی ہے۔ ہم نے بھی بچے پالے ہیں، سارا گھر چلایا ہے، ایسے بہانے کبھی نہیں بنائے ہم نے بی بی۔" "امی، میں بہانہ نہیں کر رہی۔ سچ میں مجھے چکر آ رہے ہیں۔" "چکر؟ ہاں ہاں، کام ٹھیک سے نہ کرنا ہو تو ہزار بیماریاں نکل آتی ہیں۔ یہ پراٹھا دیکھو، ارحم کھائے گا؟ جلا ہوا، کچا، موٹا۔ کیا میرے بیٹے کو یہی کھلاؤ گی تم؟" روشنی کا سر گھوم رہا تھا۔ آنکھوں کے آگے دھند سی چھا رہی تھی۔ وہ کچھ دیر پہلے ہی سے خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی، اوپر سے یہ طعنے۔ اس کے اندر کا بند ٹوٹنے لگا۔


"امی، چار مہینے سے میں اس گھر میں دن رات کام کر رہی ہوں۔ کبھی کوئی شکایت نہیں کی۔ ایک دن اگر طبیعت خراب ہو گئی تو کیا قیامت آ گئی؟ آپ کو میرا کام تو نظر نہیں آتا، بس غلطیاں نظر آتی ہیں۔" کچن میں سناٹا چھا گیا۔ شازی بیگم کا چہرہ ایک لمحے کو سفید پڑا، پھر لال ہو گیا۔ "کیا کہا تم نے؟ دوبارہ کہنا ذرا۔" روشنی کو اپنی غلطی کا احساس ہو چکا تھا۔ اس نے ہونٹ بھینچ لیے، "امی، میرا یہ مطلب نہیں تھا۔" "نہیں، مطلب تو بالکل صاف تھا تمہارا۔" شازی بیگم کی آواز اونچی ہو گئی۔ "میں نے تمہیں غلطیاں دکھائیں تو تم نے مجھے آئینہ دکھا دیا۔ واہ بھئی واہ۔ ماں باپ نے یہی سکھا کر بھیجا تھا؟ ساس کے آگے زبان چلانا؟" "امی، پلیز، میرے ماں باپ کو بیچ میں مت لائیں۔" "اچھا! اب میں اپنی بات بھی نہیں کر سکتی؟ ارحم! ارحم! ذرا باہر آؤ آ کر دیکھو تمہاری بیوی کیا کہہ رہی ہے۔" روشنی کا دل ڈوب گیا۔ "امی، خدا کے لیے۔ میں معافی مانگتی ہوں۔ آپ ارحم کو مت بلائیں۔" مگر دیر ہو چکی تھی۔


ارحم تیزی سے سیڑھیاں اتر کر آیا۔ اس کے چہرے پر نیند سے جاگنے کی بیزاری تھی اور ماتھے پر بل۔ "کیا ہوا امی؟ اتنا شور کیوں مچا رہی ہیں؟" شازی بیگم نے فوراً سینے پر ہاتھ رکھا اور آنکھوں میں آنسو بھر لیے۔ "کچھ نہیں بیٹا۔ میں نے بس اتنا کہا کہ ناشتہ ذرا بہتر بنا لیا کرو۔ تمہاری بیوی نے مجھے ایسی باتیں سنائیں کہ میں بتا نہیں سکتی۔ کہتی ہے مجھے کام نظر نہیں آتا، بس غلطیاں نظر آتی ہیں۔ میں اس گھر میں اتنے سال سے ہوں، آج میری یہ عزت رہ گئی ہے اس گھر میں۔" "ارحم، میں نے ایسا نہیں کہا۔ میری طبیعت خراب تھی، میں۔۔۔" "چپ!" ارحم کی دھاڑ نے اسے خاموش کر دیا۔ اس کی آنکھوں میں سرخی تھی۔ "تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری ماں سے اس طرح بات کرنے کی؟"


"ارحم، بس ایک بار میری بات سن لیں۔ میں نے غصے میں کچھ کہہ دیا تھا، میرا مقصد بے ادبی کا نہیں تھا۔ مجھے چکر آ رہے تھے، میں ٹھیک سے سوچ نہیں پا رہی تھی۔" "بہانے مت بناؤ۔" اس نے انگلی اٹھا کر کہا۔ "جب بھی کوئی غلطی پکڑی جاتی ہے، تم بیماری کا ڈھال بنا لیتی ہو۔ میری ماں نے اس گھر کے لیے جو کیا ہے، تم اس کا ایک فیصد بھی نہیں کر سکتیں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ تم زبان چلاؤ گی؟" "میں شرمندہ ہوں۔ میں امی سے معافی مانگ لیتی ہوں۔" "صرف زبانی نہیں۔" ارحم کی آواز اب ٹھنڈی اور سخت ہو چکی تھی۔ "جاؤ، امی کے پاؤں چھو کر معافی مانگو۔ سب کے سامنے۔ ورنہ اسی وقت اپنا سامان باندھو اور چلی جاؤ۔ میں تمہیں چھوڑ دوں گا تمہارے باپ کے گھر۔"


روشنی کے کانوں میں جیسے کسی نے سیسہ انڈیل دیا ہو۔ اس نے ارحم کی طرف دیکھا۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ وہی شخص ہے جس کے ساتھ اس نے تین بار قبول ہے کہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں اجنبیت کے سوا کچھ نہ تھا۔ کچن کے دروازے پر ملازمہ آ کر کھڑی ہو گئی تھی۔ ارحم کی بہن بھی سیڑھیوں پر رک گئی تھی۔ سب کی نظریں روشنی پر تھیں۔ اس کے اندر دو آوازیں لڑ رہی تھیں۔ ایک کہہ رہی تھی کہ تم نے کوئی گناہ نہیں کیا، سر مت جھکاؤ۔ دوسری میں امی کی بات گونج رہی تھی، "بیٹی، گھر تیرے ہاتھوں سے بنے گا۔" طلاق کا لفظ اگرچہ ارحم نے کہا نہیں تھا مگر چھوڑ دینے کی دھمکی ہی اس کے پیروں تلے زمین کھینچنے کو کافی تھی۔


اسے اپنے ماں باپ کا چہرہ یاد آیا۔ اس نے اپنی انا کو کچلا۔ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی شازی بیگم کے سامنے آئی، گھٹنوں کے بل بیٹھی اور ان کے پاؤں کو ہاتھ لگایا۔ "امی، مجھے معاف کر دیں۔ مجھ سے غلطی ہو گئی۔" آواز بھرائی ہوئی تھی۔ حلق میں جیسے کانٹے اگ آئے تھے۔ شازی بیگم نے فاتحانہ نظروں سے بیٹے کی طرف دیکھا، پھر بڑی شان سے بولیں، "چلو، اللہ تمہیں ہدایت دے۔ آئندہ خیال رکھنا۔"


روشنی کھڑی ہو گئی۔ اس کے گھٹنوں میں جان نہ تھی۔ اس نے ارحم کی طرف دیکھا، شاید ایک نظر محبت کی، ایک لفظ ہمدردی کا چاہتی تھی۔ مگر ارحم نے منہ پھیر لیا۔ "ناشتہ دوبارہ بناؤ۔ اور اس بار ڈھنگ سے۔" اتنا کہہ کر وہ ماں کے ساتھ ڈائننگ ٹیبل کی طرف چلا گیا۔ روشنی نے آنکھوں میں آتے آنسوؤں کو پیچھے دھکیلا، پلٹ کر کچن میں گئی اور نئے سرے سے آٹا گوندھنے لگی۔ ملازمہ نے ہمدردی سے اس کی طرف دیکھا، مگر کچھ کہنے کی ہمت نہ کی۔


دوپہر تک روشنی کا بخار تیز ہو گیا تھا، مگر اس نے کسی کو نہ بتایا۔ کپڑے بھی دھوئے، کھانا بھی بنایا، برتن بھی سمیٹے۔ جسم جیسے آگ میں جل رہا تھا۔ شام ہوئی تو اس کے اندر کچھ بھی باقی نہ بچا تھا۔ وہ بمشکل کمرے تک پہنچی اور بستر پر ڈھے گئی۔ جسم کپکپا رہا تھا اور سانس بھاری ہو رہی تھی۔


آنکھیں بند کرتی تو کمرہ گھومتا ہوا محسوس ہوتا۔ رات کے نو بجے ارحم کمرے میں آیا۔ لیپ ٹاپ بیگ ایک طرف رکھا اور شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے بولا، "کھانا لگ گیا؟" روشنی نے کمزور آواز میں کہا، "ارحم۔" "ہاں؟" "میری طبیعت بہت خراب ہے۔ صبح سے بخار ہے، اب سانس لینے میں بھی مشکل ہو رہی ہے۔ مجھے ہسپتال لے چلیں۔" ارحم نے مڑ کر اسے دیکھا۔ اس کے چہرے پر فکر کا کوئی سایہ نہ تھا، بس ایک تھکی ہوئی بیزاری۔


"ہسپتال؟ اس وقت؟ تمہارا روز کا ڈرامہ ہے یہ۔ جب بھی کام سے جان چھڑانی ہو، کوئی نہ کوئی بیماری نکل آتی ہے تمہاری۔" "ارحم، میں جھوٹ نہیں بول رہی۔ میرا جسم جل رہا ہے، آپ ہاتھ لگا کر دیکھ لیں۔" "مجھے کچھ دیکھنا نہیں ہے۔ صبح بھی تم نے ہنگامہ کیا تھا۔ امی بھی بتا رہی تھیں کہ تمہیں سارا دن ٹھیک ٹھاک چلتے پھرتے دیکھا ہے۔ بس اب مجھے مت تنگ کرو۔ دن بھر کا تھکا ہوا آیا ہوں۔" اس نے بیزاری سے ہاتھ جھٹکا اور باتھ روم میں چلا گیا۔


روشنی نے آنکھیں بند کر لیں۔ ایک آنسو لڑھک کر تکیے میں جذب ہو گیا۔ اس نے آخری بار خود کو سمجھانے کی کوشش کی کہ ہو سکتا ہے وہ واقعی تھکا ہو، ہو سکتا ہے صبح بہتر ہو جائے۔ مگر دل کے اندر کوئی چیز بہت خاموشی سے ٹوٹ چکی تھی۔ وہ آواز کے بغیر ٹوٹی تھی کہ جس کا شور صرف اسی کو سنائی دے رہا تھا۔ ارحم باتھ روم سے نکلا اور کھانا کھانے نیچے چلا گیا۔ روشنی کو اس نے ایک بار بھی نہ پوچھا کہ کھانا کھایا ہے یا نہیں۔ کھانے کے بعد کچھ دیر ماں کے کمرے میں بیٹھا رہا، ٹی وی دیکھا اور پھر آ کر سو گیا۔


رات تقریباً بارہ بجے کا وقت تھا۔ گھر میں گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ روشنی کی آنکھ کھلی۔ بخار قدرے اترا ہوا تھا مگر کمزوری سے سر چکرا رہا تھا۔ اس نے پہلو بدلا اور ارحم کی طرف دیکھا۔ وہ بے خبر سو رہا تھا، چہرے پر اطمینان تھا، جیسے دنیا میں کوئی دکھ ہی نہ ہو۔ روشنی نے اس کے چہرے کو بہت دیر تک دیکھا۔ جس شخص کے لیے اس نے چار مہینے دن رات ایک کیا تھا، آج اسے احساس تک نہ تھا کہ اس کی بیوی کی سانسیں ٹوٹ رہی ہیں۔


دل میں ایک عجیب سا سکون اترا جو شاید اس تھکن کا سکون تھا جو ہار ماننے کے بعد آتا ہے۔ اس نے خاموشی سے اٹھ کر الماری کھولی۔ اپنا پرانا بیگ نکالا جو شادی کے وقت میکے سے لائی تھی۔ اس میں چند جوڑے کپڑے، اپنی ڈگری کی فائل، امی کا دیا ہوا قرآن اور وہ چھوٹا سا آئینہ رکھا جو ابو نے رخصتی کے وقت دیا تھا۔ زیور کو اس نے ہاتھ تک نہ لگایا۔ جو اس گھر کا تھا، اسی گھر میں رہنے دیا۔ ہاتھ کانپ رہے تھے، مگر اس بار آنسو نہیں تھے۔ اس نے دوپٹہ اوڑھا اور آخری بار ارحم کی طرف دیکھا۔ "اللہ تمہیں ہدایت دے۔" اس نے بہت آہستہ سے کہا۔ پھر کمرے کا دروازہ دھیرے سے کھولا اور باہر نکل گئی۔



 راہداری میں اندھیرا تھا۔ سیڑھیاں اترتے ہوئے ہر قدم پر اس کے دل پر بوجھ بڑھ رہا تھا، مگر قدم رکتے نہ تھے۔ ڈرائنگ روم میں شازی بیگم کے کمرے سے ٹی وی کی ہلکی آواز آ رہی تھی۔ وہ دبے پاؤں دروازے کی طرف بڑھی۔ چوکیدار اونگھ رہا تھا، اس نے گیٹ کا چھوٹا کٹکا کھولا۔


چوکیدار نے گیٹ کی چھوٹی کھڑکی کھلوائی۔ "بی بی جی، اس وقت؟" "میری طبیعت خراب ہے، چچا، میں ہسپتال جا رہی ہوں، بھائی کو فون کر دیا ہے وہ آ رہا ہے لینے۔" اس نے جھوٹ بولا، کیونکہ سچ بتانے کی ہمت نہ تھی۔ بوڑھے چوکیدار نے ترس بھری نظر سے اسے دیکھا اور چھوٹا دروازہ کھول دیا۔


روشنی باہر نکلی۔ سڑک سنسان تھی۔ سرد ہوا کا ایک جھونکا اس کے چہرے سے ٹکرایا۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔ بادلوں کے پیچھے چاند کہیں چھپا ہوا تھا۔ اس نے موبائل نکالا اور ابو کا نمبر ملایا۔ تیسری گھنٹی پر نیند میں ڈوبی آواز آئی، "ہیلو؟ روشنی؟ بیٹا، خیر تو ہے؟" اس نے سب کچھ ایک جملے میں کہہ دیا۔ "ابو، مجھے لینے آ جائیں۔" دوسری طرف لمحے بھر کی خاموشی چھائی۔ پھر ابو کی آواز آئی، بدلی ہوئی، سنجیدہ اور مضبوط، "میں آ رہا ہوں بیٹا۔ تو وہیں رک، کہیں مت جانا۔"


روشنی نے فون بند کیا اور سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پر بیٹھ گئی۔ پہلی بار اس رات اس نے خود کو بہت ہلکا محسوس کیا۔ وہ رو رہی تھی یا ہنس رہی تھی، اسے خود معلوم نہ تھا۔ بس ایک خیال دل میں گونج رہا تھا کہ جو گھر انسان کو عزت نہ دے، وہاں رک کر سانس لینا بھی ایک قرض بن جاتا ہے۔ دور سے گاڑی کی ہیڈ لائٹس نظر آئیں۔ ابو اور بھائی دونوں آ گئے تھے۔ بھائی نے گاڑی سے اتر کر خاموشی سے اس کا بیگ اٹھایا اور ابو نے اپنی چادر اس کے کندھوں پر ڈال دی تھی۔ روشنی نے ابو کے سینے سے لگ کر پہلی بار پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کیا۔

Roshni was devastated when Arham slapped her and accused her of disrespecting his mother. Despite being innocent, she was forced to apologize to Shazi Begum by touching her feet in front of everyone. What Arham didn't realize was that the truth would soon come out, but before it could be revealed, Roshni would disappear from his life. After their marriage, Roshni tried her best to make her new home a happy place. She woke up early, prepared Arham's favorite breakfast, took care of his needs, and handled all the household chores. However, neither Arham nor his mother appreciated her efforts. Shazi Begum constantly criticized her cooking, humiliated her, and reminded her that she had to obey her in every matter. Arham always took his mother's side, dismissed Roshni's explanations, and treated her as if her feelings meant nothing.

Four months passed with Roshni silently enduring the humiliation, hoping that one day Arham would understand her love and sincerity. But when she finally spoke up after being repeatedly insulted despite working tirelessly, Shazi Begum twisted her words and portrayed herself as the victim. Arham became furious and ordered Roshni to kneel before his mother and apologize or leave the house. Heartbroken and helpless, Roshni swallowed her pride and begged Shazi Begum for forgiveness. Even when she developed a high fever and struggled to breathe, Arham refused to take her to the hospital, accusing her of pretending to be sick just to escape household responsibilities. That night, something inside Roshni finally broke. She realized that the man for whom she had sacrificed everything didn't even care whether she was alive or suffering.

Around midnight, Roshni quietly packed a few clothes, her educational certificates, the Quran gifted by her mother, and a small mirror her father had given her at her farewell. Leaving all her jewelry behind, she slipped out of the mansion without waking anyone. When the watchman questioned her, she lied that she was going to the hospital and that her brother was coming to pick her up. Outside, she called her father and could barely manage to say, "Abu, please come and get me." Her father immediately assured her that he was on his way. When he and her brother arrived, her brother silently took her bag while her father wrapped his shawl around her shoulders. Finally, Roshni collapsed into her father's arms and burst into tears, leaving behind a home where she had received neither love nor respect.


 Download Complete Novel By Clicking download Button Below


DOWNLOAD