Badnaam Mohabbat By Armish Novels - Urdu Novelians

Urdu Novelians



Sneak Peak From The Novel


"یہ بچہ میرا نہیں ہے بابا جان پوچھیں اس سے کس کا گناہ میرے سر تھوپ رہی ہے،" زونیا خود پر لگے الزام پر خاموش کھڑی رہی، اب اس بدکردار لڑکی کا فیصلہ پنچایت میں ہوگا، روحان خان اچھی طرح جانتا تھا کہ یہ بچہ اسی کا ہے لیکن وہ اپنے تھپڑ کا بدلہ لینا چاہتا تھا وہ سمجھتا تھا کہ زونیا اس کے قدموں میں گر کر معافی مانگے گی لیکن پنچایت میں وہ مکمل پردہ کر کے گئی جب اس پر الزام لگایا گیا تو اس نے اپنی چادر اتار کر پھینک دی اور روتے ہوئے کہا کہ "ہاں میں بدکردار ہوں اور یہ بچہ روحان خان کا نہیں بلکہ میرے کالج کے دوست شہراز ہمدان ہے" پنچایت نے سزا کا فیصلہ سنایا تو روحان خان دوڑتے ہوئے۔


رات کے دو بج رہے تھے۔ عام دنوں میں حویلی میں اس وقت سکوت چھایا ہوتا، مگر آج حویلی میں عورتوں کی چیخ و پکار گونج رہی تھی۔ وجہ تھی حویلی کی سب سے لاڈلی بیٹی نازیہ، جو اس وقت سفید لباس میں چارپائی پر پڑی ہوئی تھی۔ حویلی کے ملازمین اور رشتہ دار آہ و بکا کر رہے تھے۔ اتنی کم عمر میں وہ ہارٹ اٹیک سے مر گئی تھی۔


"بھلا اتنی کم عمری میں بھی کوئی ہارٹ اٹیک سے مرتا ہے؟"


زونیا پاس رکھی چارپائی کے ساتھ ٹیک لگائے رونے میں مصروف تھی۔ یہاں ماحول ایسا تھا کہ کسی مالک نوکر رشتے دار کسی میں فرق نہیں کیا جا سکتا تھا۔ وہ عورتیں جو صرف تخت پر بیٹھنا پسند کرتی تھی وہ زمین پر بیٹھی اپنے ہوش و حواس سے بیگانہ تھی۔ ماں باپ کے مرنے کے بعد چچا چچی نے ہی ان دونوں کو سنبھالا تھا، اور نازیہ کے فوت ہو جانے کے بعد اس کا بھائی فوراً وہاں سے چلا گیا تھا۔ اس نے جنازے میں شامل ہونا بھی مناسب نہیں سمجھا تھا، حالانکہ وہ اس کی منکوحہ تھی۔ چچی تو اسے ہی قصوروار سمجھ رہی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اس کے بعد چچی کا رویہ بہت برے طریقے سے بدلنے والا ہے۔ وہ کیسے اپنی بہترین سہیلی کے ساتھ برا کر سکتی تھی۔ وہ دونوں تو اکٹھے کالج آتی جاتی تھی۔ یہ تو کالج کی گرمیوں کی چھٹیوں کی وجہ سے وہ آجکل گھر تھی نہیں معلوم تھا کہ وہ اگلی بار اس کے ساتھ نہیں ہوگی۔


حویلی میں سردار یوسف اپنے تین بیٹوں کے ساتھ رہتے تھے۔ سب سے بڑے سردار محسن خان، جن کے دو بچے تھے، نازیہ اور روحان۔ ایک بیٹا چند سال پہلے ہی دشمنوں کی بھینٹ چڑھ گیا تھا، اور ابھی وہ غم بھلایا بھی تھا کہ زونیا کے غم نے انہیں بے حال کر کے رکھ دیا۔ دوسرے نمبر پر سردار قاسم خان تھے، جن کی دو بیٹیاں اور دو بیٹے تھے۔ سب سے بڑی فاطمہ، پھر آمنہ، اور آخر میں دو جڑواں بیٹے تھے ارحم اور راحم۔ فاطمہ اور آمنہ کی شادیاں ہو چکی تھیں۔ وہ نازیہ کے ہم عمر تھی۔ نازیہ کی شادی تو مدثر کی پڑھائی کی وجہ سے رکی ہوئی تھی، مگر نکاح بہت پہلے ہی ہو چکا تھا۔


سب سے آخر میں سردار ہاشم خان تھے، جن کے دو بچے تھے، بیٹا مدثر اور بیٹی زونیا۔ ان کی بیوی زونیا کو پیدا کرتے وقت ہی اپنے خالق حقیقی سے جا ملی۔ انہوں نے اپنے بچوں کی پرورش خود کی تھی، پر جب سے وہ کاروبار کے سلسلے میں لندن گئے تھے، واپس نہیں آئے تھے۔


اور زونیا کی ذمہ داری بی جان کو سونپ دی گئی، جو سردار یوسف کے انتقال کے بعد اکیلی پڑ گئی تھیں۔ اب سرداری سردار محسن خان کے پاس تھی، اور ان کے بعد ان کے بیٹے سردار روحان خان کو ملنی تھی۔ سب لوگ اس بات سے متفق تھے۔ بی جان چاہتی تھیں کہ مدثر اور نازیہ کا نکاح ہو چکا ہے، "کیوں نہ روحان اور زونیا کا بھی کر دیا جائے،" مگر روحان کاروبار کو مسئلہ بنا کر شادی سے صاف انکار کر چکا تھا، اور سب نے اس کے اس فیصلے کا احترام کیا تھا، کیونکہ حویلی میں پڑھائی کو بڑا ضروری سمجھا جاتا تھا اور بچوں کا بنیادی حق سمجھ کر کسی پر زیادہ زور زبردستی نہیں کی جاتی تھی۔


"مجھے پتا ہوتا کہ تمہاری اس حویلی میں آخری رات ہے تو میں تمہیں کبھی نہ ڈانٹی۔ میں تمہارا ہر حکم سر خم تسلیم کرتی۔" زبیدہ بیگم اونچی آواز میں روتے ہوئے بولی۔ کل رات کو انہوں نے نازیہ کو ڈانٹ دیا تھا۔ ان سے تو یہ غم برداشت ہونے میں نہیں آ رہا تھا کہ انہوں نے اپنی بیٹی سے آخری دفعہ بات کی بھی صحیح تو ناراض ہو کر وہ، اس سے معافی بھی نہیں مانگ سکی۔


عائشہ بیگم نے کن آنکھوں سے زونیا کو دیکھا تھا، جو روتے ہوئے سر جھکائے بیٹھی تھی۔ یہ سب اس کے بھائی کی وجہ سے ہوا تھا۔ حویلی میں پہلے ہی اس کی اتنی خاص کوئی اہمیت نہیں تھی، اور اب اس کے بھائی کے جانے کے بعد تو معاملات مزید سرد پڑنے لگے تھے۔ اور جب سے زونیا فوت ہوئی تھی، سب کو یہی لگ رہا تھا کہ زبیدہ بیگم کسی طور اپنے بیٹے کے لیے زونیا نہیں لیں گی۔ یہ رشتہ وٹے سٹے کی بنیاد پر ہوا تھا، اور جب نازیہ ہی چلی گئی تھی تو اس رشتے کی اہمیت ہی ختم ہو گئی تھی۔


زبیدہ بیگم تو بیٹی کی وجہ سے چپ تھیں، ورنہ اپنے لائق فائق کے بیٹے کے لیے انہیں اپنی بیٹی سے بہتر کوئی نظر نہیں آتا تھا۔ ابھی عورتیں قرآن مجید اٹھائے کھڑی تھیں جب ایک ملازم بھاگتا ہوا آیا، "جس نے پردہ کرنا ہے کر لو، مرد جنازہ اٹھانے آ رہے ہیں۔" اس نے اونچی آواز میں کہا تو سب کے رونے میں شدت آ گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


"خدارا، مجھے یہ گولیاں مت کھلائیے۔ میں اس بچے کو نہیں مار سکتی۔" وہ روتے ہوئے بولی تو زبیدہ بیگم نے اس کا منہ نوچ لیا۔ "دماغ خراب ہے تمہارا؟ کس کا بچہ ہے یہ؟ سچ سچ بتا دو، ورنہ میں تمہیں جان سے مار دوں گی۔" وہ اس کی طرف بڑھتے ہوئے بولیں تو وہ روتے ہوئے روحان کی طرف دیکھنے لگی، جو خاموش کھڑا دیکھ رہا تھا۔ وہ کیوں اس کے حق میں نہیں بول رہا تھا؟ وہ روحان کی طرف بڑھی۔ "کچھ بولیں نا کہ یہ بچہ آپ کا ہے۔" وہ التجاء کرتے ہوئے بولی تو روحان نے نفرت سے اسے دیکھا۔ "ہوش میں بات کرو، لڑکی! میں تو یہاں ہوتا ہی نہیں ہوں۔" وہ بولا تو وہ روتے ہوئے اسے دیکھنے لگی۔ راتوں کو وہی اسے ڈیرے پر بلاتا تھا، اور اب جب اس بچے کو اپنانے کے بعد آئی تھی تو وہ مکر گیا تھا۔ اس کی محبت میں تو اس نے اپنی پڑھائی تک کو ایک طرف رکھ دیا تھا۔ وہ کالج بھی کم کم جاتی تھی۔ وہ اس کی محبت میں نکھر گئی تھی، مگر اب وہ اسے اپنانے کو تیار نہیں تھا، اور زونیا کو لگ رہا تھا کہ وہ زندہ درگور کر دی جائے گی اگر اس نے قبول نہ کیا۔


"خدارا، ایسا مت کیجیے۔ میں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے جو آپ اس طرح جھوٹ بول رہے ہیں؟" وہ اس کا گریبان پکڑ کر بولی تو زبیدہ بیگم نے اسے بالوں کی چوٹی سے پکڑا اور کھینچ کر ایک طرف کھڑا کیا۔ "کیسے ہوئی میرے بیٹے کی طرف دیکھنے کی؟" وہ اس پر ظلم کرتے ہوئے بولیں تو وہ زور زور سے رونے لگی۔ سردار محسن خان تک یہ بات گئی تو غصے سے کچن میں داخل ہوئے۔


"کیا تماشہ لگا رکھا ہے تم نے؟ یہ لڑکی، یہ کیا کہہ رہی ہے؟ روحان!" وہ غصے سے بولے۔


"یہ بچہ میرا نہیں ہے، بابا جان۔ پوچھیں اس سے، کس کا گناہ میرے سر تھوپ رہی ہے۔" زونیا خود پر لگے الزام پر خاموش کھڑی رہی۔ اب اس بدکردار لڑکی کا فیصلہ پنچایت میں ہوگا۔ روحان خان اچھی طرح جانتا تھا کہ یہ بچہ اسی کا ہے، لیکن وہ اپنے تھپڑ کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ زونیا اس کے قدموں میں گر کر معافی مانگے گی، مگر وہ ایسا نہیں کرنے والی تھی۔ اس کی کوئی غلطی نہیں تھی۔


جب سے سب کو اس کی حقیقت معلوم ہوئی تھی، مالک تو دور، ملازمین بھی اس سے بدسلوکی کر رہے تھے۔ وہ بے بسی سے سب کو دیکھ رہی تھی۔ پچھلے کچھ دنوں سے وہ اسٹور روم میں بند کر دی گئی تھی۔ کوئی اسے کھانا دینے والا نہیں تھا۔ سلیمہ بی رات کو چپکے سے سب سے نظریں چرا کر اس کے کمرے میں جاتیں اور کھانا کھلاتی تھیں، مگر وہ کھانے سے انکار کر دیتی۔ وہ مر جانا چاہتی تھی۔ روحان اسے اس طرح دھوکہ دے گا، اسے اندازہ بھی نہیں تھا۔ اس نے تو اسے توڑ کر رکھ دیا تھا۔ پہلے اس کی ماں چلی گئی، پھر باپ نے ملک چھوڑ دیا اور بھائی کے جانے کے بعد تو اس کی حیثیت اس حویلی میں ملازمہ سے کم نہیں تھی۔ پنچایت کا فیصلہ ہونے تک اس کے ساتھ یہی سلوک کیا جانا تھا۔ وہ جاتی تھی، تپھتی، بے بسی کی مورت بنی ہوئی تھی۔ سلیمہ بی تو اسے دیکھ دیکھ کر روتی رہتیں۔ ایک ہفتہ کیسے گزرا، معلوم ہی نہیں ہوا۔


وہ دن بھی آ گیا جس دن پنچایت لگنی تھی۔ "وہ بھاگ نہ جائے،" اس کے لیے اسے بیڑیوں میں جکڑ کر پنچایت میں لایا گیا۔ اس نے اپنے ارد گرد چادر اوڑھ رکھی تھی۔ علاقے کے تمام معزز لوگ وہاں جمع تھے۔ اس نے کسی کی طرف بھی نظریں اٹھا کر نہیں دیکھا، البتہ روحان کی نظریں وہ اپنے اوپر محسوس کر سکتی تھی۔ تمام لوگ دستار پہنے چارپائیوں پر براجمان تھے۔ اکیلی وہیں پنچل کے درخت کے نیچے کھڑی ان سب کے عتاب کا نشانہ بنی ہوئی تھی۔ روحان غصے سے مٹھیاں بھینچے بیٹھا اسی سے نظریں چرا رہا تھا۔


"لڑکی، سچ سچ بتاؤ، اس سب کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے، ورنہ ہم تمہیں ایسی سزا دیں گے کہ کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہیں رہو گی۔" سردار غوث نے اسے گھورتے ہوئے کہا تو وہ رونے لگی۔


"سردار، میں اپنا موقف پیش کر چکی ہوں۔ آپ لوگ اعتبار نہ کریں تو وہ الگ بات ہے۔ ویسے بھی اس علاقے میں ہمیشہ وہی جیتتا آیا ہے جو برسر اقتدار ہے، ورنہ مجھ جیسی تو کچل دی جاتی ہیں۔ کبھی محبت کے نام پر، کبھی اقتدار کے نام پر، اور کبھی روایتوں کے نام پر۔" وہ یہ کہتے ہوئے روحان کی طرف دیکھنے لگی، جو نظریں جھکائے بیٹھا تھا۔


سردار غوث، جو علاقے کے سب سے معزز بزرگ تھے، بولے تو وہ انہیں دیکھنے لگا۔


"سردار روحان، تم کیا کہو گے؟"


"میرا اس لڑکی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ سراسر جھوٹ بول رہی ہے۔" وہ بولا تو پنچایت میں خاموشی چھا گئی، البتہ وہ زور زور سے ہنسنے لگی تھی۔ اس کی قہقہوں کی آواز دور تک گئی تھی۔ وہاں بیٹھے تمام لوگ اسے پاگل سمجھ رہے تھے۔ وہ اچانک زور زور سے ہنستے ہوئے رونے لگی۔ نہ اس کا باپ یہاں تھا، نہ بھائی، اور باقی لوگ اس کی عزت نیلام کرنے پر تلے ہوئے تھے۔


جب اس پر الزام لگایا گیا تو اس نے اپنی چادر اتار کر پھینک دی اور روتے ہوئے کہا کہ "ہاں، میں بدکردار ہوں، اور یہ بچہ روحان خان کا نہیں بلکہ میرے کالج کے دوست شیراز ہمدانی کا ہے۔" وہ جھوٹ بولی تو روحان نے غصے سے اس کی طرف دیکھا۔ وہ اس طرح جھوٹ نہیں بول سکتی تھی۔ یہ بچہ اسی کا تھا۔ وہ جانتا تھا، پھر ایسے کیوں کہہ رہی تھی، اور وہاں کھڑا شیراز ہمدانی کیوں اس کا ساتھ دے رہا تھا؟


وہ نہیں جانتا تھا کہ شیراز ہمدانی، جو اس کا کلاس فیلو تھا، اسے رقم کی ضرورت تھی۔ اس نے زونیا سے لی تھی، اور اسی رقم کے بدلے وہ اس کا کہا مان کر یہاں آیا تھا۔ وہ کسی طرح یہاں سے چلی جانا چاہتی تھی۔ جانتی تھی کہ وہ لوگ اسے پتھر مار مار کر یہاں سے جانے کو بول دیں گے، اس لیے وہ جھوٹا نکاح نامے کے ساتھ شیراز ہمدانی کو پیش کر چکی تھی۔ وہ جیسے زونیا نے کہا تھا، ویسا کہہ رہا تھا۔


سبھی لوگ دنگ بیٹھے تھے، تبھی روحان غصے سے اٹھ کھڑا ہوا۔


"یہ جھوٹ بول رہا ہے۔ اس کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ میں جانتا ہوں۔" وہ بولا تو ہر کوئی حیران ہو کر اسے دیکھنے لگا۔ سردار محسن خان نے بیٹے کو چپ رہنے کا اشارہ کیا، مگر وہ غصے سے اس لڑکے کی طرف بڑھا اور جا بجا اس پر برسنے لگا۔


پاس کھڑی زونیا نے یہ منظر دیکھا تو بے ہوش ہو کر زمین بوس ہو گئی۔ وہ پریشانی سے اس کی طرف بھاگا۔ پنچایت میں بیٹھے معزز لوگوں کی پروا کیے بغیر وہ اسے اٹھا کر گاڑی میں ڈال کر گاؤں کے باہر کلینک کی طرف بڑھا تھا۔ اس لڑکی کی طبیعت بہت خراب تھی۔ وہ اس سے بہت محبت کرتا تھا، مگر بدلہ لینے کی ضد میں وہ اسے اس حالت تک پہنچا چکا تھا۔


"آنکھیں کھولو، تم ٹھیک تو ہو؟" وہ گھبرا کر اس کا ہاتھ تھام کر بولا تو وہ اس کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے ڈرپ دور پھینک کر اٹھ کھڑی ہوئی اور پاس پڑی سفید چادر بیڈ سے اتار کر خود کے گرد لپیٹتے ہوئے۔وہاں سے بھاگی۔ وہ بھی اس کے پیچھے بھاگا تھا۔


"کہاں جا رہی ہو تم؟ پاگل ہو گئی ہو؟" وہ اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولا۔ "اگر بچے کو کچھ ہو گیا تو..." وہ اس کے گرنے سے پہلے ہی اسے تھام کر بولا تو وہ زخمی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی۔ وہ کس قدر بدل چکا تھا۔ اسے اندازہ بھی نہیں تھا۔


"کیوں خیال کر رہے ہیں؟ یہ بچہ آپ کا نہیں ہے نا، تو پھر دور رہیں مجھ سے۔ میں یہاں سے کہیں دور چلی جاؤں گی، جہاں آپ جیسے انسان کا ان پر سایہ بھی نہ پڑے۔" وہ روتے ہوئے بول رہی تھی۔ وہ شرمندہ سا ہو کر اس کی طرف بڑھا۔


"میں صرف اپنی بہن کا بدلہ لے رہا تھا، باقی میرا مقصد تمہیں اس طرح ذلیل کرنا نہیں تھا۔" وہ صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے بولا تو وہ بے بسی سے دیکھنے لگی۔


"میرے بھائی نے جو کیا، اسے سزا دیجیے۔ یوں مجھے اپنی محبت کہہ کے ذلیل و رسوا کر دیا۔ آپ تو کہہ رہے تھے کہ تم سردار کی بیوی ہو، تم پر کسی کی بری نگاہ بھی نہیں..."


 Zonia stood silently as Rohan Khan accused her of carrying another man's child. He knew perfectly well that the baby was his, but his wounded ego and desire for revenge had blinded him. He expected Zonia to fall at his feet and beg for forgiveness, but she refused to surrender. When the village council gathered to decide her fate, she finally removed her veil and declared through tears that she was a woman of bad character and that the child belonged to her college friend, Shehraz Hamdani, not Rohan. Meanwhile, the haveli was already drowning in grief after the sudden death of Nazia, Rohan's beloved sister, who had died of a heart attack at such a young age. Zonia, who had always been close to Nazia, was devastated by her death. With her parents gone, her father living abroad, and her brother absent, she had no one left to protect her. Rohan, who was supposed to be her husband, had abandoned her too.

After discovering Zonia's pregnancy, Zubeda Begum cruelly accused her of dishonoring the family and demanded that she terminate the pregnancy. Zonia desperately pleaded with Rohan to acknowledge his own child, reminding him that he had secretly called her to his farmhouse at night and that she had sacrificed her education for their love. But Rohan coldly denied everything, claiming he had nothing to do with her. Determined to avenge the slap she had once given him, he allowed his family to humiliate and mistreat her. She was locked in a storeroom, deprived of food, and treated worse than a servant. A week later, she was brought before the village council in chains. When the elders threatened to punish her, Zonia spoke bitterly about how the powerful always won while helpless women were crushed in the name of love, power, and traditions. To escape the humiliation, she introduced Shehraz as the father of her child and presented a fake marriage certificate. Shehraz, who had agreed to help her in exchange for money she had previously lent him, supported her lie.

Rohan was furious when he heard Zonia name another man as the father of her child. Unable to control himself, he stood up and declared that Shehraz was lying and that the baby was actually his. Zonia, overwhelmed by the emotional trauma, collapsed unconscious. Forgetting the entire council, Rohan rushed her to a nearby clinic. When she regained consciousness, she pushed his hand away, removed her IV drip, wrapped a white sheet around herself, and tried to escape. Rohan stopped her, worried that something might happen to the baby. Looking at him with tearful, wounded eyes, Zonia asked why he cared when he had already declared that the child wasn't his. She told him she would go somewhere far away, where a cruel man like him could never reach them. Rohan finally admitted that he had only wanted revenge for his sister's death and had never intended to humiliate her so severely. But Zonia reminded him that if he wanted revenge, he should have punished her brother for his actions instead of destroying the woman he once claimed to love and protect.



Download Complete Novel By Clicking download Button Below


DOWNLOAD