Rooh E Ashqam By TH Novels - Urdu Novelians

Urdu Novelians



Sneak Peak From The Novel


وہ دلہن بنی بیڈ پر بیٹھی مسلسل اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی۔ قسمت آج پھر اسے اس شخص کے در پر لے آئی تھی جس سے وہ بچپن سے دور بھاگتی آئی تھی۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے دروازہ لاک کیا اور اس کے قریب بیٹھتے ہوئے اس کا گھونگھٹ الٹ دیا تھا۔کہاں وہ سینتیس سال کا بھرپور نوجوان اور کہاں وہ بائیس سال کی کمسن لڑکی، دلہن بن کر اس پر ٹوٹ کر روپ آیا تھا۔ ایک لمحے کے لیے تو وہ اس کا قیامت کا حسن دیکھ کر دنگ رہ گیا تھا۔ ہانیہ نے اس کی آنکھوں میں ابھرتے جذبات دیکھتے ہی پلکیں جھکا لی تھیں۔


" پلیز میرا ایک کام کر دیں، مجھے میرا بچہ لا دیں، میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ وہ بہت روئے گا، بہت چھوٹا ہے ابھی۔" اس کے حسین لبوں سے شادی کی پہلی رات یہ الفاظ سنتے ہی بہرام کے ماتھے پر بل پڑ گئے اور چہرے کے تاثرات سخت ہو گئے تھے۔ " کیوں تم کوئی پہلی دفعہ شادی کر رہی ہو جو تمہیں نہیں پتا کہ شادی کی رات شوہر کو کیا چاہیے ہوتا ہے؟ اسے بیوی کی طلب ہوتی ہے نہ کہ اس کے ساتھ اس دم چھلے کی جو اس کے پہلے شوہر سے ہو۔ اور ویسے بھی تمہارا بچہ تو فیڈر پیتا ہے نا، وہ کون سا تمہارا دودھ پیتا ہے جو وہ تمہارے بغیر نہیں رہ سکے گا اور تم اس کے بغیر نہیں رہ سکو گی؟.... " وہ اس کے بھرپور نسوانی حسن کو دیکھتا انتہائی بے باکی سے بولا تھا۔ جبکہ ہانیہ نے بے اختیار اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر جیسے خود کو اس کی بے لگام نگاہوں سے چھپانے کی کوشش کی۔


 تو بہرام نے بمشکل اپنی مسکراہٹ چھپائی تھی کیونکہ اس کی یہ بے اختیاری میں کی گئی حرکت بے حد معصوم تھی اس نے ہانیہ کا بھاری دوپٹہ اس کے وجود سے الگ کر کے اس کے وجود کو بہت توجہ سے دیکھا تھا اور اگلے ہی لمحے اس نے ہانیہ کو کھینچ کر اپنے سینے سے لگا لیا تھا۔ جبکہ اس کا نازک سا وجود اس کے بازوؤں میں کپکپا کر رہ گیا۔ وہ اس کا شوہر تھا اس کے جسم و جان کا مالک اور وہ اسے چاہ کر بھی روک نہیں پا رہی تھی۔ دھیرے دھیرے بہرام کے مضبوط سلگتے ہاتھوں نے اس کے وجود کو ناپنا شروع کیا تھا۔


 بھرپور مرد کے اس جاندار لمس پر وہ جیسے لمحہ بہ لمحہ خود کو پگھلتا ہوا محسوس کر رہی تھی۔ " بہرام پلیز مجھے چھوڑ دیں مجھے پتہ نہیں کیا ہو رہا ہے میرا دل بہت گھبرا رہا ہے پلیز مجھے چھوڑ دیں وہ سسکتے لہجے میں سرگوشی نما انداز میں بولتی اسے حیران کر گئی تھی۔ لیکن بہرام نے اسے چھوڑنے کی بجائے اس کے لمبے بالوں کو گردی سے دبوچ کر اس کے لبوں کو اپنے پیاسے سلگتے لبوں کے ساتھ پیوست کر دیا تھا۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ شخص شادی کی پہلی رات ہی اس کے ساتھ اس طرح کا کوئی بھی تعلق بنائے گا۔ لیکن یہ اس کی خام خیالی ثابت ہوئی تھی۔


دھیرے بہرام شاہ کی گستاخیاں اس کے وجود پر بڑھتی جا رہی تھیں۔ بہرام کے تپتے ہاتھوں نے جب اس کی دھڑکنوں کو چھوا تو وہ جیسے اس کی بانہوں میں پگھل کر رہ گئی تھی۔ اس کا بھرپور اور پر تپش لمس محسوس کرتی وہ اس کی بانہوں میں پگھل رہی تھی۔ بہرام شاہ نے دھیرے سے اس کے کرتے کی ڈوریاں کھینچ کر توڑتے ہوئے اس کی کمر پر اپنے ہاتھوں کا بے باک بے لگام لمس چھوڑا تھا۔ ہانیہ کی بے چین میٹھی میٹھی سسکیاں اسے حیرت میں مبتلا کرنے کے ساتھ ساتھ اسے مجبور بھی کر رہی تھیں تبھی تو وہ خود کو مزید بھرتا ہوا محسوس کر رہا تھا۔


اس کی کرتی کو اس کے کندھوں سے سرکاتے ہوئے بہرام نے اس کو خود سے جدا کیا۔ لبوں کو آزادی ملتے ہی وہ گہرے گہرے سانس لینے لگی تھی۔ اپنی اکھڑتی سانسوں کو سنبھالتی، وہ اس کے سامنے مزید بے نقاب ہو رہی تھی۔ اس کا بھرپور نسوانی حسن سانسوں کی اتھل پتھل کے ساتھ بہرام شاہ کو مزید بھڑکانے لگا تھا۔ "ماشاءاللہ سے تم بہت خوبصورت ہو، ابھی بھی ایک بچہ پیدا کرنے کے بعد بھی نہیں لگتا کہ تم شادی شدہ ہو یا تمہارے وجود کو کسی مرد نے چھوا بھی ہے۔" وہ انتہائی بے باک انداز میں اس کی دھڑکنوں کو چھو کر بولتا ہانیہ کے حواس سلب کر گیا۔


اس سے پہلے کہ ہانیہ خود کو چھپانے کی کوشش کرتی، بہرام نے اسے دونوں کندھوں سے تھام کر اسے بیڈ پر لٹانے سے پہلے اس کی کرتی کو اس کے وجود سے الگ کیا تھا۔ اس کے نازک دودھیا وجود پر حاوی ہوتے ہوئے بہرام شاہ نے ہاتھ بڑھا کر لائٹ آف کی تھی۔ اس کی گردن اور کندھوں پر دھیرے دھیرے اپنے سلگتے لمس کو چھوڑ دیا۔ وہ اس کے وجود کی ایک ایک حرکت کو بخوبی نوٹ کر رہا تھا اسے ہر پردے سے آزاد کرتا وہ نائٹ بلب کی روشنی میں اس کے وجود کے انگ انگ کو بھرپور نظروں سے دیکھتا ایک بار پھر سے اس پر حاوی ہوا تھا۔


دھیرے دھیرے وقت گزر رہا تھا اور ان دونوں کی قربت لمحہ بہ لمحہ بڑھتی جا رہی تھی۔ بہرام نے جب دیکھا کہ وہ اسے اس مقام تک لے آیا تھا جہاں سے واپسی ناممکن تھی تو وہ ایک جھٹکے سے اس کے وجود کا حصہ بنا۔ ہانیہ نے بھی درد کی ایک لہر کو اپنے وجود میں اترتے محسوس کیا تھا اور وہ بے اختیار بہرام سے لپٹ گئی تھی۔


" میری جان کچھ نہیں ہوگا بہت پیار سے کر رہا ہوں ریلکس تمہیں بالکل بھی درد نہیں دوں گا۔ تم میری بیوی ہو۔ کوئی جانور تو نہیں ہو جس کے ساتھ میں درندگی کروں گا۔" وہ بہت ہی پرسکون اور ٹھہرے لہجے میں بولتا اس کے بالوں کو سہلاتا اسے "relax" کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔


ہانیہ بری طرح تڑپتے ہوئے ایک بار پھر سے بہرام کے سینے میں منہ چھپا گئی تھی۔ جبکہ بہرام اس کی...


گردن اور اس کے چہرے کے ایک ایک نقوش کو جا بجا چومتا ہوا اسے مسلسل پر سکون کرنے کی کوشش میں تھا۔ اس کا یہ پیار بھرا انداز ہانیہ کو ایک بار پھر سے میٹھی میٹھی سسکیاں بھرنے پر مجبور کرنے لگا تھا۔ وہ چاہ کر بھی خود کو اس کے ساتھ پگھلنے سے روک نہیں پا رہی تھی۔ ایسا اس کے ساتھ کیوں ہو رہا تھا وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔ اس کے نازک ہاتھ بہرام کی چوڑی پشت اور اس کے بالوں کو سہلاتے ہوئے اسے اور قریب آنے کا اشارہ دے رہے تھے۔


اور شدت کی بری رات گزارنے کے بعد بہرام نے بہت مشکل سے اسے بخش دیا ورنہ جو سکون اور جو مصروفیت اسے ہانیہ کے وجود سے ملی تھی، اسے شاید ہی پوری دنیا میں کہیں میسر ہوتی۔ ہانیہ نے بھی بنا کوئی مزاحمت کیے اپنا وجود اسے سونپ دیا تھا، آخر وہ اس کا شوہر تھا۔ وہ کب تک اسے روک کے رکھتی؟ اگر وہ اسے روک دیتی یا ضد کرتی تو وہ غصے میں آکر اس کے بچے کو اس سے اور بھی دور کر دیتا اور وہ ایسا بالکل بھی نہیں چاہتی تھی، اپنے چھوٹے سے فارس کے بنا رہنا اس کے لیے ناممکن تھا۔ وہ اس کی جان تھا، اس کی روح کا حصہ۔ ہر انجام کی پرواہ کیے بنا اس نے یہ قدم اٹھایا تھا اور بہرام شاہ سے نکاح کیا تھا۔


پوری رات بہرام شاہ نے اسے جگائے ہی رکھا تھا۔ صبح چار بجے اس کی جان بخشی ہوئی تو نیند نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا۔۔۔ لیکن صبح کے چھ بجے تک وہ اسے بری طرح جھنجھوڑ کر رکھ گیا۔


"سچ سچ بتاؤ کہ یہ بچہ کس کا ہے؟ آخر کس کا گندا خون لیے پھرتی ہو۔۔ کس کا گناہ ہے یہ؟ بچہ تمہارا تو بالکل بھی نہیں ہے؟"


شادی کی پہلی رات تھی اور بستر کی چادر پر اس لڑکی کی زندگی کی کہانی بکھری پڑی تھی اور بہرام شاہ کا خون جیسے کھول اٹھا تھا۔ اس نے سہم کر جانب دیکھنے لگی۔


"تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں بتاؤ، مجھے یہ کس کا بچہ ہے جس کی خاطر تم نے شادی سے پہلے اتنا شور مچایا ہوا تھا؟"


ہانیہ نے انتہائی گھبراہٹ کے عالم میں خود کو چادر میں لپیٹ لیا۔ بہرام کو سہمی نگاہوں سے دیکھا جو انتہائی غصے میں تھا۔


"دیکھو ہانیہ میں تم پر کوئی بھی سختی نہیں کرنا چاہتا لیکن میں تمہارا شوہر ہوں، تم سے سوال کرنے کا حق رکھتا ہوں۔ تمہارے ساتھ ایک بھرپور رات گزاری ہے میں نے۔ تمہارے جسم کی ایک ایک حرکت سے واقف ہوا ہوں میں۔ تمہیں چھونے والا، تمہارے قریب آنے والا جو پہلا مرد ہے، وہ میں ہوں، تو پھر یہ بچہ کہاں سے آیا؟ تمہیں تو تمہارے اپنے شوہر نے نہیں چھوا تھا۔۔۔ اب مجھے سچ سچ بتاؤ کہ یہ بچہ کس کا ہے؟"


ہانیہ چہرہ گھٹنوں میں چھپاتے ہوئے بری طرح سے سسکتی تھی۔


"پپ۔۔۔ پلیز۔۔ خدا کے لیے مجھ۔۔۔ سے۔۔۔۔۔مت پوچھیں--- میں--- میں--- آپ کو نہیں بتا سکتی ---- میں بہت مجبور ہوں۔ میں آپ کو نہیں بتا سکتی۔"


"آپ نے میرے وجود پر اپنا حق جمایا۔ کیونکہ آپ میرے شوہر تھے میں آپ کو منع نہیں کر سکتی تھی۔ لیکن اس بچے میں میری جان بستی ہے۔ میں کبھی نہیں چاہوں گی کہ آپ اسے مجھ سے دور کریں۔ اگر آپ نے ایسا کیا تو میں اپنی جان لے لوں گی لیکن اس بچے سے دور ہونا میرے لیے ناممکن ہے۔"


اسے یوں سسکتے دیکھ کر بہرام کے دل میں وہ جذبات سر اٹھانے لگے تھے جنہیں کبھی اس نے تھپک کر سلا دیا تھا۔ اس نے قریب ہوتے ہوئے دھیرے سے ہانیہ کو اپنی باہوں میں بھرا۔


"اچھا ٹھیک ہے میں اسے تم سے دور نہیں کر رہا بس سوال کر رہا ہوں ہانیہ تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے میں نے تم سے نکاح کیا ہے تمہیں بیوی بنایا ہے تو تمہیں ہر قدم پر support بھی کروں گا۔ مجھے تم اعتماد میں لے کر حقیقت بتا سکتی ہو۔"


وہ ہانیہ کے دونوں گالوں کو محبت سے چوم کر بولتا جیسے اس کے اندر کے خوف کو کم کرنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن وہ مزید سہم کر اس کے سینے سے لپٹ گئی تھی۔ اور بہرام نے لب بھینچ کر اسے اپنی باہوں میں بھرتے جیسے اسے پر سکون کرنے کی کوشش کی تھی لیکن من ہی من میں وہ خود بری طرح الجھ گیا تھا۔


اگلی صبح جب وہ اٹھا تو دن کے دس بج رہے تھے اور ہانیہ جانے کب بستر سے نکل کر چلی گئی تھی۔ وہ گہری سانس بھرتا خود کو ہشاش بشاش محسوس کرتا بستر سے اٹھا تو اس کی نظریں بیڈ شیٹ پر پڑیں۔ دل میں ہزاروں سوال ہونے کے باوجود اس کے لب خوبصورت انداز میں مسکرائے تھے۔


جو کچھ بھی تھا وہ اس کی زندگی میں آنے والی ایسی لڑکی تھی جسے کبھی کسی مرد نے چھوا تک نہیں تھا، اس کی پاکیزگی اور شرم و حیا کا وہ خود گواہ بن...


Hania sat on the bed dressed as a bride, silently staring at her hands. Fate had once again brought her to the doorstep of the very man she had spent her entire life trying to escape. When Behram Shah entered the room, he locked the door and lifted her bridal veil. The thirty-seven-year-old man was momentarily stunned by the breathtaking beauty of his twenty-two-year-old bride. However, Hania lowered her eyes and made a desperate request. “Please, bring me my baby. I cannot live without him. He is so little, and he will cry without me.” Behram's expression immediately hardened. He reminded her that it was their wedding night and that a husband naturally expected his wife's attention. He cruelly referred to her son as a burden from her previous marriage. As he pulled her closer, Hania nervously pleaded with him to let her go, explaining that she was feeling extremely anxious. Despite her fear and hesitation, Behram continued asserting his marital rights. Hania felt helpless, knowing that she had married him for one reason alone: to stay close to her beloved little son, Faris. She feared that if she displeased Behram, he might take her child away from her forever.

After an exhausting night, Hania finally fell asleep around four in the morning. But by six, Behram was shaking her awake, his face filled with anger. Looking at the bedsheet, he was shocked and immediately began questioning her. “Tell me the truth! Whose child is this? Whose illegitimate blood are you raising? This baby cannot possibly be yours!” Hania wrapped herself in the bedsheet, trembling with fear. Behram demanded to know why she had made such a fuss about her child before their wedding when, according to him, she had never been intimate with another man. “I am the first man to touch you, the first to come close to you. Your previous husband never even touched you, so where did this child come from?” Hania broke down in tears, begging him not to question her. “Please, for God's sake, don't ask me. I am helpless. I cannot tell you the truth.” She then reminded him that she had accepted him as her husband and allowed him into her life because he had the right to do so, but Faris was her entire world. “My life resides in that child. If you ever separate me from him, I will take my own life, but I can never live without my son.” Seeing her heartbreaking condition, Behram's anger softened. He pulled her into his arms and gently assured her that he had no intention of taking Faris away. He promised to support her and asked her to trust him enough to reveal the truth whenever she felt ready.

The following morning, Behram woke up around ten o'clock and realized that Hania had already left the bed. Despite having countless questions about her mysterious past and the identity of her child's father, a faint smile appeared on his face as he looked at the bedsheet. He began thinking about the beautiful young woman who had entered his life and the innocence and modesty he had witnessed in her. He was convinced that he was the first man she had ever allowed to come close to her, yet the mystery surrounding little Faris continued to trouble him. He wanted to understand why Hania was so terrified of revealing the truth and what terrible secret she was hiding. Although he had married her, he was beginning to realize that winning her trust would be far more difficult than he had imagined.



Download Complete Novel By Clicking download Button Below


DOWNLOAD