" سر مجھے لیو چاہیے۔۔!..." "کس خوشی میں؟ مجھے دیکھنے کے لیے کچھ لوگ آ رہے ہیں۔۔۔" وہ بولی تو پروفیسر جہان کا ماتھا ٹھنکا۔۔۔ "آپ یہ لیو میرے آفس میں آ کر مانگیں۔۔۔" دانت کچکچا کر بولتا وہ اپنے کیبن کی جانب بڑھ گیا۔۔۔ کلاس میں چہ مگوئیاں ہونے لگیں۔۔۔ مشائم اس کے آفس کا دروازہ کھولتی اندر داخل ہوئی جب وہ اسے جھٹکے سے دیوار کے ساتھ لگاتا اس کی گردن پہ دانت گاڑھ گیا۔۔۔ " کون آرہا ہے دیکھنے؟۔۔۔" وہ غراتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔۔۔ " بابا کے فرینڈز۔۔۔" اس نے سسکتے ہوئے کہا۔۔۔ " انکار آپ کریں گی یا میں کروں؟ بھول گئی ہیں کہ کون ہوں میں؟۔۔۔۔ " کاٹ دار لہجہ اس کا دل چیر گیا! " کیوں کرنا ہے انکار؟ کسی نا کسی کا تو گھر بسانا۔۔۔ آہہہ۔۔۔" وہ بول رہی تھی کہ جہان نے ایک جھٹکے سے اس کی ابھری دھڑکن کو دبایا اور زور سے مسلا۔۔۔ " دوبارہ دہرائیں اپنے لفظ پھر بتاتا ہوں میں آپ کو۔۔۔" وہ اسکی نازکی پر۔۔۔
"سر۔۔" اس نے ہاتھ ملتے ہوئے اسے پکارا۔۔ باہر کی جانب بڑھتا جہان ٹھٹک کر رکا۔۔ "کہیے؟" وہ بنا اس کی جانب دیکھے سوالیہ ہوا۔۔ "لیو چاہیے۔۔!" مشائم نے کانپتی آواز میں بات شروع کی۔۔۔ جہان نے ٹھٹک کر اسے دیکھا۔۔ "کس خوشی میں؟ آواز اتنی بھاری اور چبھتی ہوئی تھی کہ مشائم کا کلیجہ منہ کو آیا۔۔ رک رک کر دھڑکتا دل مزید رکنے لگا۔۔ "مجھ۔۔ مجھے دیکھنے کے لیے کچھ لوگ آ رہے ہیں۔۔" وہ دھیمی آواز میں منمنائی تو جہان کے ماتھے پر بل پڑے۔۔ "سوری؟؟؟" اسے لگا شاید سننے میں غلطی ہوئی ہے۔۔ "مجھے دیکھنے کے لیے۔۔۔" وہ بول ہی رہی تھی کہ وہ ٹوک گیا۔۔ "آپ یہ لیو میرے آفس میں آ کر مانگیں۔۔" دانتوں کو پیس کر بولتا وہ اس کی رونگٹے کھڑے کر گیا۔۔ سب کے لیے بظاہر یہ نارمل گفتگو تھی۔۔ مگر مشائم کے لیے یہ موت کا کھیل تھا۔ جو اسے کھیلنا تھا۔۔
وہ جا چکا تھا مشائم کانپتی کھڑی رہ گئی۔۔ پھر کچھ دیر بعد اس نے حوصلہ باندھا۔۔ اور اس کے کیبن کی جانب چل دی۔۔ ابھی دروازے پہ ہاتھ رکھا ہی تھا کہ دروازہ جھٹکے سے کھلا۔۔ کسی نے جھٹکے سے اس کا بازو پکڑ کر اسے اندر کھینچا تھا۔۔ مشائم کے لبوں سے چیخ نکلی۔۔ وہ ڈر کے پیچھے ہٹی کہ پشت دیوار سے جا لگی۔۔ جہان کے دونوں ہاتھ اس کے گرد حصار بنائے ہوئے تھے۔۔ اس سے پہلے کہ مشائم کچھ سمجھ پاتی، جہان نے جھک کر اپنے دانت اس کی گردن پہ گاڑے۔۔ "آہہہ۔۔!" مشائم کے منہ سے بے اختیار سسکی نکلی۔۔ درد اور جلن سے اس کی آنکھیں چھلکی تھیں۔۔ "کون آ رہا ہے دیکھنے؟" وہ اس کے بالکل قریب گھورتے ہوئے غرا رہا تھا۔ اس کی آواز میں زہرِ قاتل تھا جو روح کو گھائل کر دے۔۔ "بابا۔ کے۔۔ فرینڈز۔۔" مشائم نے سسکتے ہوئے، کانپتے ہونٹوں کے ساتھ جواب دیا۔۔ آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو گالوں پر لڑھک گئے۔۔ "کون سے فرینڈ؟" ٹھنڈے لہجے میں استفسار کیا۔۔ "نہیں جانتی۔۔" اس نے لاتعلقی کا اظہار کیا۔۔ "انکار آپ کریں گی یا میں کروں؟" جہان نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے یک طرفہ مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا۔ "بھول گئی ہیں کہ کون ہوں میں۔۔؟" کاٹ دار لہجہ اس کا دل چیر گیا۔۔ "کیسے بھول سکتی ہوں؟" اب کی بار وہ بھی طنزیہ مسکرائی۔۔ مگر کہنے کی ہمت نہیں تھی۔۔ تبھی دل میں ہی سوچ سکی۔۔ "کیوں کرنا ہے انکار--؟" مشائم نے ہمت جمع کر کے خود کو سسکنے سے روکا۔ "کسی نہ کسی کا تو گھر بسانا ہے--" ابھی وہ بول ہی رہی تھی کہ-- "آہہہ--!!" اس کا جملہ منہ میں ہی رہ گیا۔ جہان نے اپنا دوسرا ہاتھ آگے بڑھایا اور ایک ہی جھٹکے سے اس کی ابھری دھڑکن کو اپنی مٹھی میں دبا کر اس اسے سسکنے پر مجبور کر دیا۔۔ مشائم کی رنگت پتھروں کی مانند سرخ پڑی۔۔ چہرہ بھانپ چھوڑنے لگا۔۔ اسے اس وقت اس بے باکی کی امید نہیں تھی۔۔ "دوبارہ دہرائیں اپنے لفظ۔۔ پھر بتاتا ہوں میں آپ کو۔۔" جہان کا چہرہ غصے سے لال ہو چکا تھا، آنکھوں میں جنون کا طوفان ناچ رہا تھا۔۔
اس نے مشائم کی شرٹ کو گلے سے سرکا کر اس کے حساس حصے کو اپنی آہنی گرفت میں اس طرح جکڑا کہ مشائم درد سے بلبلا اٹھی۔ "بھول رہی ہیں کہ کون ہیں آپ مشائم!!" اس نے دانت پیس کر اس کے چہرے کے بالکل قریب سرگوشی کی۔ "آپ کو یہ بات دماغ میں بٹھا لینی چاہیے تھی کہ آپ کون ہیں! کیسے اجازت دے سکتی ہیں آپ کسی اور کو کہ وہ آئے اور آپ کو دیکھے؟؟ ڈیکوریشن پیس ہیں آپ؟؟؟" وہ غرا رہا تھا۔۔ مشائم اس کی بے درد گرفت پہ سسکیاں بھر رہی تھی۔ جہان نے اپنی انگلیوں کی حرکت تیز کی۔۔ مشائم مچلی تھی۔۔ "چھو۔۔ چھوڑیں۔۔ خدا۔۔ کے لیے" وہ روتے ہوئے بول رہی تھی۔۔ لہجہ التجائیہ تھا۔۔ "جواب دیں آپ" وہ اب اس حصے کو نرمی سے سہلانے لگا۔۔ مقابل کی تکلیف سے لال ہوتی رنگت نے اسے کچھ نرم کیا تھا۔۔ "انکار کریں گی آپ یا میں کروں مشائم؟" وہ پھر سے پوچھنے لگا مشائم کے حواس ساتھ چھوڑنے لگے۔۔ اس نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر دھکیلنے کی ناکام کوشش کی۔ "بابا بہت اصرار کر رہے ہیں۔۔ وہ مانیں گے نہیں۔۔ اگر میں نے انکار کیا تو وہ مر جائیں گے۔۔!" وہ اسے اپنی بے بسی بتا رہی تھی۔۔ "تو کیا میں مر جاؤں؟" وہ دھاڑا تھا۔۔ مشائم کانپ اٹھی۔۔ "آپ۔۔ نے۔۔۔ مجھ۔۔ کہا تھا۔ کہ آپ۔۔" وہ سسکتے ہوئے اسے کچھ یاد دلانے لگی۔۔ "بکواس کی تھی میں نے" اب وہ خود کو کوس رہا تھا۔۔ "انکار کریں گی آپ آج ہی جا کر اگر آپ ان کے سامنے بھی گئیں تو یاد رکھیے گا جان لے لوں گا آپ کی۔۔ اور پھر آپ کے بعد خود کی بھی لے لوں گا" اس کے کندھے پہ سر ٹکائے اب وہ پھنکار رہا تھا۔۔ مشائم نے اس کے بالوں میں ہاتھ ڈالا۔ اس کی نرم و ملائم انگلیاں اس کے بال سہلا رہی تھیں۔۔ وہ مکمل مشائم پہ چھایا ہوا تھا جب کہ مشائم اسے خود میں سمیٹنے محسوس کر رہی تھی۔۔
"ہٹ جائیں جہان" وہ بولی تو لہجہ زخمی تھا۔۔ "کیوں کر رہی ہیں آپ ایسے؟" وہ بھی کم درد میں نہیں تھا۔۔ "آپ جانتے ہیں یہ بابا کر رہے ہیں " وہ بولی تو لہجہ بے بسی میں ڈوبا تھا۔ "میں آ جاؤں مشی؟" وہ اجازت چاہ رہا تھا۔ مشائم کی دھڑکنیں ساکت پڑیں۔۔ "ہرگز نہیں" وہ انکار کر گئی۔۔ "کیوں روک رہی ہیں؟" اس نے سرخ نگاہیں اٹھا کر مشائم کو دیکھا۔ وہ نظریں چرا گئی۔۔ "بابا کا مان نہیں توڑ سکتی میں" اس نے نگاہیں جھکا کر جواب دیا۔۔ "میرا دل توڑ سکتی ہیں؟" وہ ہنستے ہوئے بولا۔۔ لہجے میں کرب تھا۔ مشائم لب کترنے لگی۔۔ "میں اب آپ کے وعدوں میں نہیں آؤں گا مشائم۔۔ اگر اب کی بار ایسا کچھ بھی ہوا تو میں آ جاؤں گا۔۔ اپنی شناخت سمیٹ۔۔" اس کے گال پہ جھک کر ناک ٹریس کرتا وہ گہری سانس بھر کر اس کے وجود سے اٹھتی مہک کو انہیل کرتا اینٹیڈ واشروم کی جانب بڑھ گیا۔۔ پیچھے مشائم گہری سانس بھر کر ساکت و جامد کھڑی رہ گئی۔۔
Mishaim nervously approached Professor Jahan and requested a leave of absence. When he asked why, she hesitantly revealed that some people were coming to see her for a marriage proposal. Jahan's expression instantly darkened with jealousy and anger. He ordered her to come to his office to discuss the matter. As soon as she entered his cabin, he grabbed her arm, pulled her against the wall, and demanded to know who was coming to see her. Trembling, she explained that they were her father's friends. His possessive gaze made his feelings clear as he reminded her that she had forgotten who he was and demanded to know whether she would reject the proposal herself or leave that responsibility to him.
Mishaim tried to explain that her father was insisting on the proposal and that she could not break his heart. However, Jahan could not bear the thought of another man coming to see her as a potential bride. His jealousy turned into anger as he reminded her that she belonged to him and questioned how she could allow someone else to consider marrying her. When she suggested that someone deserved a chance to build a home with her, his anger intensified. He demanded that she repeat those words and insisted that she refuse the proposal immediately. In desperation, Mishaim told him that her father might not survive the disappointment, but Jahan painfully asked whether she expected him to suffer instead.
Despite their emotional confrontation, Mishaim reminded him that he had once made promises to her. Jahan regretted his earlier words and warned her that if she appeared before those people, he would lose control and might even take his own life afterward. Their conversation eventually softened as Jahan rested his head against her shoulder, revealing the pain hidden beneath his anger. Mishaim gently ran her fingers through his hair, but when he asked whether he should come to her, she firmly refused, saying she could not disappoint her father. Jahan bitterly asked whether she could break his heart instead. Before leaving, he warned her that he would no longer believe her promises and that if she allowed the proposal to proceed, he would come into her life openly, revealing his true identity and claiming his place beside her.

