Mere Pass Jo Ho By NK Novels - Urdu Novelians

Urdu Novelians



Sneak Peak From The Novel


" میں زویا کی دادی ہوں، وہ اتنی کھڈوس ہے کہ ہر وقت مجھ پر ظلم کرتی ہے۔" وہ بڑھیا ڈرائنگ روم میں تنہا بیٹھے زریز کو بتاتی، روتے ہوئے بولی تو زریز بے یقینی سے اس روتی ہوئی بڑھیا کو دیکھنے لگا، جو خود کو زویا کی دادی بتا رہی تھی۔


زریز اپنے باپ کی ضد پر پاکستان لڑکی دیکھنے آیا تھا، پر ارادہ کر چکا تھا، لڑکی دیکھ کر ریجیکٹ کر دے گا۔ جسے دیکھنے وہ آیا تھا، وہ زویا ہی تھی۔ بڑھیا بن کر اس نے زریز کے سامنے زویا کی اتنی برائی کی تھی کہ وہ غصے سے الٹے قدم پلٹنے لگا تھا، جب زریز کے پاؤں میں اس کی ساڑی اٹکی اور ایک جھٹکے سے کھل گئی۔


زریز آفریدی کی آنکھیں پھٹی رہ گئیں، کیونکہ وہ بڑھیا ساڑی کے نیچے جینز پہنی ہوئی تھی۔ "استغفراللہ، بے ہودہ آدمی! میری ساڑی اتار دی۔" وہ زریز کو کوسنے دیتے ہوئے بھاگی تھی، جبکہ زریز کا چہرہ غصے سے سرخ پڑا تھا۔


"مجھے یہ رشتہ منظور ہے۔" کچھ دیر بعد زویا کے والد کے سامنے انتہائی سرد لہجے میں بولا تھا، کیونکہ اسے پتہ چل گیا تھا کہ وہ ناٹک کر رہی تھی۔ وہ کوئی اس کی بوڑھی دادی نہیں تھی، وہ وہی تھی جس سے وہ شادی کرنے کے لیے آیا تھا۔ زویا شاہ، مراد شاہ کی اکلوتی بیٹی، جو شاید شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اسی لیے ایک گھنٹے سے زریز کو بیوقوف بنانے کی کوشش کرتی رہی اور کہیں نہ کہیں وہ بیوقوف بنتا رہا، اور انہی لمحوں میں زویا کو بہت برا تصور کرتے، اسے اپنے والد اور ماں کے فیصلے پر مزید غصہ آیا تھا، مگر جیسے اس کا پاؤں اس کی ساڑی پہ پڑا اور اس کی نظر جینز پہ پڑی، لڑکی کے چہرے کی بدحواسی واضح ہوئی تو وہ سمجھ گیا تھا کہ سامنے بیٹھی لڑکی ناٹک کر رہی تھی۔ اسی لیے اس نے غصے میں شادی کے لیے ہاں کر دی تھی، کیونکہ اس نے اس کا بہت سر کھایا تھا۔


"یعنی تم شادی کے لیے مان گئے ہو؟"

"ہاں، امی، آپ کو یقین نہیں آ رہا کیا؟"

"ہاں، یقین نہیں آ رہا۔ تم تو کہتے تھے کہ تم کبھی شادی نہیں کرو گے۔"

"بس کر رہا ہوں۔ وہ لڑکی جتنی نوٹنکی ہے نا، اس گھر میں ایک مہینے میں آ کر آپ کو اندازہ لگوا دے گی کہ میری شادی کا آئیڈیا بے حد غلط تھا۔"

"ایسا کیوں کر رہے ہو؟ آئیڈیل بہو ہے وہ آپ کے..."


"جو نوٹنکیاں وہ یہاں آ کے کرے گی نا، میں بس دعا کر رہا ہوں کہ آپ برداشت کر سکیں۔"

"زریز، یہ کیسی باتیں ہیں؟ وہ ایک بہت اچھی اور پیاری بچی ہے۔"

"ہاں، ہاں، بہت اچھی اور پیاری بچی، جو اپنی دادی کا روپ لیتے ہوئے مجھے بیوقوف بنانے پہ تلی ہوئی تھی۔"

"میں سمجھی نہیں۔"

"خیر، آپ سمجھیں گی بھی نہیں۔ آج کل کے چرچلے ہیں۔"


سین میں: "دیکھیں، میں زویا ہی ہوں میری شکل نہ دیکھیں۔ تم نے شادی کے لیے ہاں کیوں کی ہے؟" وہ منہ بناتے ہوئے چڑتے بولی۔

"میری دادی نے تمہیں نہیں بتایا تھا کہ میں کتنی بری ہوں؟"

"ہاں، دادی بہت اچھی تھیں آپ کی۔ میری تو کرش ہیں، وہ تبھی میں نے شادی کے لیے ہاں کر دی۔"

"کیا؟ دادی پر کرش ہے آپ کو، تو پھر انہی سے شادی کریں نا۔ مجھ سے شادی کیوں کرنا چاہتے ہیں؟"


وہ ٹیبل پہ تھوڑا سا جھکا اور زویا سے نظریں ملائیں۔ "میرے خیال میں آپ کے اندر مینرز نام کے برابر نہیں ہے۔"

"اوہ، یو شٹ اپ! یہ آپ ڈیسائیڈ کریں گے کہ میرے اندر مینرز ہیں کہ نہیں؟ میں تم سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔ پہلے تم ڈیسائیڈ کرو گی کہ تم مجھے آپ کہو گی یا تم؟" 


جیسے دونوں بائیں ہاتھ پھنسائی تھیں۔ اسے چیلنجز اچھے لگتے تھے، اور سامنے بیٹھی لڑکی اسے کب سے چیلنج ہی کیے جا رہی تھی۔ "میرا جو دل میں آئے گا، میں کہوں گی۔ آپ کوئی وزیر اعظم نہیں لگے ہوئے کہ اتنی عزت چاہیے آپ کو۔ جو میرے منہ سے نکلتا ہے، اسے قبول کر لیں۔"

"قبول ہی تو کر رہا ہوں، جیسے بھی تم ہو۔ شادی کرنے کا ارادہ نہیں تھا میرا، مگر تم اکسا رہی ہو مجھے کہ میں شادی کر لوں۔"

"کیا پاگل ہو تم؟ اگر شادی نہیں کرنی تو مت کرو، میری زندگی کیوں خراب کر رہے ہو؟"

"مجھے تمہارے جیسا ان رومینٹک اور بورنگ بندہ زندگی میں نہیں چاہیے۔"

"تمہیں کس نے کہا کہ میں ان رومینٹک اور بورنگ بندہ ہوں؟ لگتا تو یہی ہے۔ اتنی حسین لڑکی سے ملنے آیا ہے کوئی بندہ، پھول لے کر آتا ہے، تعریف کرتا ہے، مگر تم نے تو مجھ سے شادی کرنی ہی نہیں ہے تو میں اتنے سارے ایفرٹس کیوں کروں؟ میں بہت پریکٹیکل قسم کا انسان ہوں۔ جو میری زندگی میں ہوتا ہے، میں ان کی عزت کرتا ہوں، جو نہیں آنا چاہتا، وہ پھر سے اس کے نزدیک ہوا، انہیں گیٹ آؤٹ کر دیتا ہوں۔"


"پھر مجھ سے شادی کیوں کر رہے ہو؟"

"کیونکہ تم چیلنج کر رہی ہو مجھے۔ تم نارمل بھی رہتے ہوئے مجھے جواب دے سکتی تھی، اپنی دادی کا روپ لے کر ایک گھنٹہ میرا سر کھاتی رہی۔"

"میں بس زویا کے لیے آپ کو بھڑکا رہی تھی اور مجھے اتنا آئیڈیا ہے کہ آپ زویا کے لیے بھڑک گئے ہیں، تو رشتے کے لیے منع کر دیں۔"

"اب تو میں نا نہیں کر رہا، مجھے تو زویا سے ہی شادی کرنی ہے۔"


"ارے کیوں؟ کیوں شادی کرنی ہے زویا سے؟ وہ تو اتنی اچھی ہے ہی نہیں، جتنا میں نے کل بتایا تھا۔ وہ اس سے زیادہ بری ہے۔ مجھے کھانے میں نمک تک کا اندازہ نہیں ہوتا، کافی تو بہت دور کی بات ہے کہ میں اچھی بنا لوں۔"

"تو پھر ایسی بیوی کیوں چاہیے آپ کو؟"

"مجھے بیوی چاہیے، ملازمہ نہیں۔ یہ سارے کام ملازم کر لیں گے۔ کافی نہیں بنانا آتی تو وہ بھی میں پی لوں گا۔ یوں بھی میں کئی سال اکیلا رہا ہوں دوسرے ملک میں، تو مجھے اپنا کام خود کرنے کی عادت ہے۔ تو اب بس بے فکر رہیں اور دلہن بننے کی تیاری کریں۔ یہ جو بہانے آپ بنا رہی ہیں نا کہ آپ کو کھانا نہیں بنانا آتا، کافی نہیں بنانی آتی، نمک کا اندازہ نہیں ہوتا، مجھے ان چیزوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔"


"ہاں، ظاہر ہے مردوں کو کیا فرق پڑے گا؟ آپ کی ماں باتیں سنائیں گی نا مجھے کہ ناکارہ بہو لے کر آ گئی ہوں۔"

"میری مما ایسی نہیں ہے۔"

"آپ کو اس گھر میں آ کر ہر چیز کا اندازہ ہو جائے گا۔ مجھے معلوم ہوا تھا کہ آپ نکاح کر کے مجھے یہاں چھوڑ جائیں گے۔ میں ایسے ہی ایسی شادی نہیں کرنا چاہتی کسی سے بھی۔"

"اب نہیں جاؤں گا۔ کینسل۔"

وہ چپ چاپ زوریز کو دیکھنے لگی۔ "دماغ خراب ہے کیا آپ کا؟ میرے وجہ سے اپنے فیصلے کیوں بدلیں گے؟ کسی ایسی لڑکی سے شادی کریں جو آپ کے ساتھ شادی کے بعد رہنا ہی نہ پسند کرتی ہو۔"


"یعنی تم رہنا چاہتی ہو میرے ساتھ؟" وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سوالیہ ہوا، تو وہ چپ ہوئی۔ زویا پوری کی پوری سرخ پڑی تھی۔

"ایسی کوئی بات نہیں ہے۔" وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ "میں چلتی ہوں۔" اپنا بیگ اٹھاتی ہوئی ریسٹورنٹ سے باہر نکل گئی تو زوریز کے پیچھے بڑی ہنسی آئی۔ عجیب لڑکی تھی، شادی نہیں بھی کرنا چاہتی تھی اور اس چیز پہ بھی لڑ رہی تھی کہ وہ شادی کے بعد اس کے ساتھ نہیں رہے گا۔


"دادی جان، آپ کی ایکٹنگ تو ناکام گئی ہے میرے لیے۔ پوتی کیا ہو گیا ہے؟ بیٹھ جاؤ۔ تم نے مجھے سلا دیا تھا؟"



"I am Zoya's grandmother, she is so rude, she tortures me all the time." That old woman was telling Zareez, who was sitting alone in the drawing room, crying. Zareez started looking at the crying old woman in disbelief, who was telling him she was Zoya's grandmother.


Zareez had come to Pakistan to see a girl because of his father's insistence, but he had already decided that he would reject the girl after seeing her. The girl he had come to see was Zoya herself. Disguised as an old woman, she had bad-mouthed Zoya so much in front of Zareez that he was about to turn back in anger, when Zareez's foot got caught in her sari and it suddenly opened with a jerk.


Zareez Afridi's eyes were left wide open, because that old woman was wearing jeans under the sari. _"Astaghfirullah, you shameless man! You took off my sari."_ She ran away cursing Zareez, while Zareez's face was red with anger.


"I accept this proposal." After some time, he said in an extremely cold tone in front of Zoya's father, because he had realized she was acting. She was not some old grandmother of hers, she was the same girl he had come to marry. Zoya Shah, the only daughter of Murad Shah, who probably didn't want to get married. That's why for an hour she had been trying to fool Zareez and somewhere she succeeded in fooling him, and in those moments thinking very badly of Zoya, he got even more angry at his parents' decision, but as soon as his foot fell on her sari and his eyes fell on the jeans, the panic on the girl's face became clear, then he understood that the girl sitting in front of him was acting. That's why he said yes to the marriage in anger, because she had annoyed him a lot.


_"So you agreed to the marriage?"_

_"Yes, Mom, you can't believe it?"_

_"Yes, I can't believe it. You used to say you would never get married."_

_"I'm doing it now. That girl is so dramatic, once she comes to this house for a month, she will make you realize that my idea of marriage was extremely wrong."_

_"Why are you doing this? She is the ideal daughter-in-law for you..."_


_"The dramas she will do once she comes here, I'm just praying that you will be able to tolerate them."_

_"Zareez, what kind of talk is this? She is a very good and lovely girl."_

_"Yes, yes, a very good and lovely girl, who was hell-bent on fooling me by taking the form of her grandmother."_

_"I didn't understand."_

_"Well, you won't understand either. These are the trends of today's youth."_


*In the restaurant scene:* _"Look, I am Zoya herself, don't look at my face. Why did you say yes to the marriage?"_ She said with a frown, irritated.

_"Didn't your dadi tell you how bad I am?"_

_"Yes, your dadi was very nice. She is my crush, that's why I said yes to the marriage."_

_"What? You have a crush on dadi, then marry her. Why do you want to marry me?"_


He leaned a little over the table and made eye contact with Zoya. _"I think you have zero manners."_

_"Oh, you shut up! Will you decide whether I have manners or not? I don't want to marry you. First you decide whether you will call me 'aap' (formal you) or 'tum' (informal you)?"_


It was as if both were stuck. He liked challenges, and the girl sitting in front of him had been challenging him for a long time. _"Whatever comes to my heart, I will say it. You are not the Prime Minister that you need so much respect. Accept whatever comes out of my mouth."_

_"I am accepting it, however you are. I had no intention of getting married, but you are provoking me to get married."_

_"Are you crazy? If you don't want to get married, then don't, why are you ruining my life?"_

_"I don't want a boring and unromantic person like you in my life."_

_"Who told you that I am unromantic and boring? It seems like that. When a guy comes to meet such a beautiful girl, he brings flowers, compliments her, but you don't even want to marry me so why should I make so many efforts? I am a very practical type of person. I respect those who are in my life, and those who don't want to come, I get them out of my way again."_


_"Then why are you marrying me?"_

_"Because you are challenging me. You could have answered me even while being normal, you kept eating my head for an hour in the guise of your dadi."_

_"I was just trying to make you angry at Zoya and I have this idea that you got angry at Zoya, so just reject the proposal."_

_"Now I'm not saying no, I have to marry only Zoya."_


_"Why? Why do you have to marry Zoya? She is not as good as I told you yesterday. She is worse than that. I don't even know how much salt to put in food, making good coffee is far away."_

_"Then why do you want such a wife?"_

_"I want a wife, not a maid. Servants will do all these chores. If you don't know how to make coffee, I'll drink it anyway. Anyway, I have lived alone in another country for many years, so I am used to doing my own work. So now just don't worry and prepare to become a bride. These excuses you are making that you don't know how to cook, you don't know how to make coffee, you don't know how much salt to add, I don't care about those things."_


_"Yes, obviously what difference will it make to men? Your mother will taunt me that she has brought an useless daughter-in-law."_

_"My mama is not like that."_

_"You will get an idea of everything once you come to this house. I had heard that you will do Nikkah and leave me here. I don't want to do such a marriage with anyone."_

_"I won't go now. Cancelled."_

She looked at Zareez silently. _"Are you out of your mind? Why will you change your decisions because of me? Marry some girl who doesn't even like to live with you after marriage."_


_"So you want to live with me?"_ He asked questioningly, looking into her eyes, then she became silent. Zoya was completely red.

_"There is no such thing."_ She stood up. _"I'm leaving."_ Picking up her bag, she walked out of the restaurant, then Zareez laughed a lot behind her. Strange girl, she didn't even want to get married and she was fighting over the fact that he would not live with her after marriage.


_"Dadi jaan, your acting has failed for me. What happened to your granddaughter? Sit down. Did you make me sleep?"_



Download Complete Novel By Clicking download Button Below


DOWNLOAD