Sneak Peak From The Novel
"جب تک تم معافی نہیں مانگ لیتی یہاں سے جانے کا سوچنا بھی مت۔ خاموشی کا ڈھونگ بہت رچا لیا بس!" ازلان حیدر کی سرد آواز پر بارش میں کپکپاتی ہالے نے لب کچلے۔ آنسو بارش کے پانی کے ساتھ بہتے جا رہے تھے جبکہ اس سنگدل کو ذرا پرواہ نہیں تھی۔ ہالے کے کزن نے ازلان کی بہن کو محبت کے جال میں پھنسا کر چھوڑ دیا۔ وہ اتنی دل برداشتہ ہوئی کہ مر گئی اور اس کا بدلہ لینے کیلئے ازلان نے اس گھر کی لڑکی کا رشتہ مانگا۔ تایا نے جھوٹ بول اپنی بیٹی کی جگہ یتیم ہالے کو اس جہنم میں دھکیل دیا تھا۔ وہ ٹھنڈ کی تاب نہ لا کر وہیں بے ہوش ہوگئی۔"میں تمہیں اتنی آسانی سے مرنے نہیں دوں گا" وہ نفرت سے اس کے وجود کو دیکھتے ہسپتال لایا مگر ڈاکٹر کے الفاظ اس کو سکت کر گئے۔"آپ کی وائف کے سامان میں نوٹ بک دیکھی۔ ایک بات افسوس ہوا کہ وہ بول نہیں سکتیں مگر مسٹر ازلان آپ کے لیے گڈ نیوز ہے۔ شی از پریگننٹ۔۔۔۔۔۔۔
نکاح کے الفاظ ادا ہوتے ہی ہالے نے ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کر لیں۔ قاضی صاحب کی آواز ابھی اس کے کانوں میں گونج رہی تھی۔۔۔ "قبول ہے؟" وہ بول نہیں سکتی تھی۔ ہمیشہ کی طرح اس نے ہلکا سا سر ہلاتے اپنی رضامندی دی۔ بس۔۔۔ اتنے سے وقت میں اس کی پوری زندگی بدل گئی تھی۔
ہالے نے اپنے کانپتے ہاتھ اپنی گود میں بھینچ لیے۔ آج اس کے ماں باپ زندہ ہوتے تو شاید اس کی شادی ایسے نہ ہوتی۔ اس طرح وہ کبھی بھی کسی اجنبی کے حوالے نہ کی جاتی۔ لیکن قسمت نے تو برسوں پہلے ہی اس سے سب کچھ چھین لیا تھا۔
"گاڑی میں بیٹھو۔" سرد لہجے میں بولنے والے شخص کی طرف اس نے پہلی بار نظر اٹھا کر دیکھا۔ لمبا قد، سیاہ پینٹ کوٹ، تیز نگاہیں اور چہرے پر ایسی سختی جیسے مسکرانا اسے آتا ہی نہ ہو۔ یہ اس کا شوہر تھا۔۔۔ "ازلان حیدر"۔
ہالے خاموشی سے گاڑی میں جا بیٹھی۔ پورے راستے دونوں کے درمیان ایک لفظ بھی ادا نہ ہوا۔ گاڑی کے شیشے سے باہر دیکھتے ہوئے ہالے نے اپنے آنسو چھپا لیے۔ وہ جانتی تھی۔۔۔ یہ اس کی شادی محبت سے نہیں ہوئی، یہ رشتہ صرف ایک سمجھوتہ تھا۔ لیکن کیوں؟ یہ کوئی نہیں جانتا تھا۔
ادھر ازلان سٹیئرنگ پر نظریں جمائے بیٹھا تھا۔ اس کے ذہن میں صرف ایک چہرہ گردش کر رہا تھا، اپنی چھوٹی بہن کا۔ وہ معصوم ہنستا ہوا چہرہ جو اب ہمیشہ کے لیے مٹی میں سو چکا تھا۔ "تم لوگوں کو میں چھوڑوں گا نہیں" اس کی آنکھوں میں نفرت اتر آئی۔ اس نے ایک نظر ہالے کی طرف دیکھا۔ وہ لڑکی خاموشی سے سر جھکائے ہوئے تھی جیسے اس نے زندگی سے کوئی امید ہی نہ رکھی ہو۔ ازلان نے فوراً نظریں ہٹا لیں۔ "انہیں معصوم بننے کی اداکاری کرنا آتی ہے" اس نے دل میں سوچا اور حقارت سے سر جھٹکا۔
مینشن پہنچتے ہی ملازم دروازے پر قطار بنائے کھڑے تھے۔ "مبارک ہو سر۔" ملازم نے آگے بڑھ کے اسے مبارکباد دی مگر ازلان نے کسی کو جواب نہیں دیا وہ سیدھا اندر چلا گیا۔ ہالے آہستہ آہستہ اس کے پیچھے چلتی رہی۔
دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی ہالے نے چاروں طرف دیکھا۔ جب ایک ملازمہ اس کے قریب آئی۔ "بیگم صاحبہ، آئیے۔" ہالے نے شکر گزار نظروں سے اسے دیکھا اور اس کے پیچھے پیچھے ازلان کے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔
کمرے کا دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوئی تو وسیع سا کمرہ تھا لیکن عجیب سی ویرانی تھی وہاں۔ ازلان بالکنی میں کھڑا سگریٹ سلگا رہا تھا۔ کافی دیر بعد اس نے مڑ کر دیکھا، ہالے اب بھی دروازے کے قریب کھڑی تھی۔
"یہ ڈرامہ میرے سامنے مت کرنا۔" اس کی آواز میں برف جیسی ٹھنڈک تھی۔ "میں تمہیں بیوی مان کر اس گھر میں نہیں لایا۔" ہالے کی پلکیں لرز گئیں۔ "اس کمرے میں رہ سکتی ہو، مگر میری زندگی میں کوئی جگہ نہیں۔"
اس نے جیب سے ایک چھوٹی نوٹ بک اٹھا کر بیڈ پر پھینکی۔ "سنا ہے تم بول نہیں سکتیں، جو کہنا ہو، اس میں لکھ دینا۔"
ہالے نے خاموشی سے نوٹ بک اٹھا لی۔ اس کی انگلیاں کانپ رہی تھیں۔ چند لمحے بعد اس نے ایک جملہ لکھا۔۔۔ "آپ مجھ سے ایسے بات کیوں کر رہے ہیں میری کیا غلطی۔"
ازلان نے پڑھا پھر تلخی سے ہنس پڑا۔ "غلطی؟ تم لوگوں نے صرف غلطی نہیں کی، میری بہن کو مارا ہے۔"
اس کی بات پہ ہالے حیرت سے اسے دیکھتی رہ گئی۔ وہ کچھ سمجھ ہی نہ سکی۔ "کون سی بہن؟ کس کی بات کر رہے ہیں آپ" اس نے حیرت سے دوبارہ لکھا۔ "میں آپ کی بات نہیں سمجھ سگئی" ازلان نے پڑھتے ہی وہ صفحہ بند کر دیا۔ "آہستہ آہستہ سب سمجھ آجائے گا" یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر نکل گیا مگر دروازہ اتنی زور سے بند ہوا کہ ہالے اچھل کے رہ گئی۔
چند لمحوں بعد اس نے اپنی ڈائری نکالی، یہ ڈائری اس کی واحد دوست تھی۔
"امی۔۔ ابو۔۔۔ آج میری شادی ہو گئی، آپ دونوں کے بعد میں ہمیشہ تنہا رہی، تایا ابو نے کہا یہی میری قسمت ہے، اس لیے خاموشی سے نکاح کر لیا مگر میرے شوہر مجھ سے نفرت کرتے ہیں، لیکن وجہ مجھے معلوم نہیں، کاش آپ دونوں آج میرے ساتھ ہوتے تو شاید یہ دن ایسے نہیں دیکھنا پڑتا"
ڈائری کے صفحے پر آنسوؤں کے قطرے گر گئے۔ دروازے کے پردے ہلے اور اسی وقت دروازے کے باہر کھڑا ازلان، جو کسی فائل کے لیے واپس آیا تھا، چند لمحوں کے لیے رک گیا۔ اندر سے سسکیوں کی آواز آرہی تھی۔ اس نے دروازے پر ہاتھ رکھا مگر اگلے ہی لمحے خود کو جھٹک کر واپس مڑ گیا۔
"یہ آنسو مجھے کمزور نہیں کر سکتے" وہ سخت لہجے میں خود سے بولا جبکہ اسے اندازہ بھی نہیں تھا کہ جس لڑکی سے وہ نفرت کر رہا تھا، وہ دراصل اس کی دشمن نہیں، بلکہ سب سے بڑی مظلوم تھی۔
صبح کی پہلی کرن ابھی پوری طرح مینشن میں نہیں اتری تھی کہ ہالے کی آنکھ کھل گئی۔ وہ چند لمحے چھت کو دیکھتی رہی پھر پورے کمرے میں نظر دوڑائی تو ازلان کہیں نہیں تھا۔ اس نے اداسی سے گہرا سانس بھرا اور پھر آہستہ سے اٹھ کر وضو کیا اور نماز ادا کرنے لگی۔ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو آنکھیں نم ہو گئیں۔
"یا اللہ۔۔ اگر میری قسمت میں آزمائش لکھی ہے تو مجھے صبر بھی عطا کرنا۔"
دعا ختم کر کے اس نے آنسو صاف کیے اور کمرے کی صفائی میں لگ گئی۔ اسی وقت دروازہ کھلا اور ازلان اندر آیا۔ اس نے ایک نظر صاف ستھرے کمرے پر ڈالی، پھر ہالے پر۔
"تمہیں کیا لگتا ہے تم یہ سب کر کے میری نظروں میں اچھی بن جاؤ گی" اس نے سخت لہجے میں کہا تو ہالے نے نوٹ بک اٹھائی اور لکھنا شروع کیا۔
"خالی بیٹھنے سے دل زیادہ اداس ہوتا ہے، بس اس لیے خود کو مصروف رکھ رہی ہوں"
ازلان نے ایک لمحے وہ جملہ پڑھا، پھر نوٹ بک بند کر کے بیڈ پر رکھ دی۔ "اپنی اداسی سنبھال کے رکھو آگے کام آئے گی" سفاکی سے کہتا وہ وارڈروب سے کپڑے نکالنے لگا۔ ہالے خاموشی سے ایک طرف ہو گئی۔ اس کے دل میں بار بار یہی سوال اٹھ رہا تھا۔۔۔ آخر وہ اس سے اتنی نفرت کیوں کرتا ہے۔
The moment the Qazi said "Qabool Hai?", Hale closed her eyes. She couldn't speak, as always she just nodded slightly to give her consent, and in that second her whole life changed. If her parents were alive, she would never have been handed over to a stranger like this. A cold voice said, "Get in the car." She looked up for the first time at her husband - tall, in a black suit, sharp eyes and a face that never knew how to smile. It was Azlan Haider. The whole drive to his mansion was silent. She knew this marriage was not out of love, but a compromise. What she didn't know was why.
For Azlan, this marriage was revenge. His little sister was trapped in love by Hale's cousin, who then left her, and she died heartbroken. To avenge his sister, Azlan asked for a girl from that house. Hale's Taya lied and sacrificed his orphan niece Hale instead of his own daughter, pushing her into this hell. As soon as they reached the mansion, Azlan made it clear. "Don't do this drama in front of me. I didn't bring you here as my wife. You can live in this room, but you have no place in my life." He threw a notebook at her and said, "I heard you can't speak, write whatever you want to say." When she wrote, "Why are you talking to me like this, what is my mistake?" he laughed bitterly and said, "You people didn't just make a mistake, you killed my sister." Hale was shocked, she didn't understand anything.
Days passed in loneliness. Hale would write in her only friend, her diary, crying and praying to Allah for patience. One night in heavy rain, Azlan's anger crossed all limits. "Until you apologize, don't even think of leaving. Enough of this silent act!" he shouted, leaving the shivering Hale outside in the rain. She was crying, her tears mixing with the rainwater, while that heartless man didn't care. She couldn't bear the cold and fainted there. "I won't let you die so easily," he said with hatred and took her to the hospital. But there the doctor's words shocked him completely. He saw the notebook in her belongings and said, "It's sad that she cannot speak, but Mr. Azlan, I have good news for you. She is pregnant..."
Download Complete Novel By Clicking download Button Below
DOWNLOAD