Hijr E Mohabbat By NK Novels - Urdu Novelians

Urdu Novelians



Sneak Peak From The Novel


" اللہ اکبر، اللہ اکبر۔" سلام پھیرتے ہوئے وہ جائے نماز بند کرتا، جیل کی دیواروں سے ٹیک لگا گیا۔ وہ بہت خوبصورت مرد تھا۔ جو کافی سال سے جیل کاٹ رہا تھا۔ لیکن پچھلے ایک سال سے کسی حیا نام کی لڑکی وکیل نے اس کا کیس ری اوپن کر رکھا تھا۔ عمر نہیں جانتا تھا وہ لڑکی کون ہے اور اسے کیوں بچانے کے لیے دن رات ایک کر رہی ہے۔ آپ کی ملاقات آئی ہے۔ عمر حیران ہوا تھا اس سے بھلا اس جیل میں ملنے کون آسکتا ہے۔ عمر نہیں جانتا تھا جو لڑکی اسے بچانے کی کوشش کر رہی ہے، وہ اسی عورت کی بیٹی ہے جس کے قتل کا الزام اس پر لگا ہے۔۔۔۔۔


"میری عدالت سے یہ درخواست ہے کہ مجھے کچھ وقت دیا جائے۔ میں اگلی سنوائی پہ کوشش کروں گی کہ دلائل مضبوط رکھ سکوں اور عمر شاہ کو بے قصور ثابت کر سکوں۔ یور آنر، آپ کے وقت دینے کا شکریہ۔" وہ اپنے دلائل مکمل کرتی ہوئی کرسی پہ جا کے بیٹھ گئی تھی۔


کورٹ کے اس کمرے میں گہپ سناٹا تھا۔ پن کی ٹک ٹک ٹک کے ساتھ جج نے حیا بلال کو وقت دے دیا تھا۔ "عدالت کی کارروائی ملتوی کی جاتی ہے۔"


راہداری میں حیا شاہ کے چلنے کی آواز تھی۔ ٹک ٹک ٹک کی مدھم آواز جو اس کے قدم اٹھانے کے ساتھ ساتھ مزید بڑھتی تھی۔ وہ چلتی چلتی رک گئی، کیونکہ اس کے مقابل کوئی کھڑا تھا۔ دونوں کی نظریں ملیں تو وہ کئی ثانیے اس شخص کے مقابل کھڑی رہی۔


"پھپھو، میرا راستہ چھوڑیں۔"


"کیا کرنا چاہتی ہو تم؟ تم ایک ایسے شخص کو بے گناہ ثابت کروانا چاہتی ہو، جو تمہاری ماں کا قاتل ہے۔"


وہ مسکرائی۔ حیا مسکرائی تو اس کے دونوں گالوں میں ڈمپل پڑے تھے، گہرے ڈمپل۔ وہ لڑکی بہت پیاری اور خوبصورت تھی۔


"وہ میری ماں کے قاتل نہیں ہو سکتے۔"


"اتنا یقین کے ساتھ تم اس عمر کا ساتھ کیسے دے سکتی ہو؟"


حیا اپنی ماں جیسی پھپھو کے نزدیک ہوئی۔ نین تارا کی آنکھیں حیا پہ ہی مرکوز تھیں۔ "اپنے دل سے پوچھیں، کیا عمر شاہ قاتل ہو سکتا ہے؟ یہ کیس آپ کیوں لڑ رہی ہیں؟ اپنے دل سے پوچھیں کہ آپ کیوں چاہتی ہیں کہ انہیں سزا ہو۔ یہ کیس آپ اس لیے نہیں لڑ رہی کہ آپ سمجھتی ہیں کہ وہ قاتل ہے، یہ کیس آپ اس لیے لڑ رہی ہیں کیونکہ آپ ان سے اپنی تکلیف کا بدلہ لے رہی ہیں۔"


حیا! وہ تیز ہوئی تھی۔ "آپ کو سمجھائیے مت۔ انہیں کوئی سزا نہیں ہوگی۔"


"بیٹھو۔" وہ اپنا کوٹ اتارتی ہوئی بریک فاسٹ ٹیبل پر بیٹھ گئی تھی۔ بلال شاہ جو فرنٹ سیٹ پہ بیٹھے تھے، اپنی بیٹی کی طرف دیکھنے لگے۔


"کر آئی جو کر کے آنا تھا۔ ماں کے قاتل کی رہائی میں بہت دلچسپی ہے تمہاری۔ پہلی بیٹی دیکھی ہے میں نے جو اپنی ماں کے قاتل کی رہائی کروانے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔" وہ پلیٹ میں کانٹا چلانے لگی۔ اس کے بال کانوں تک سیدھے تھے، اس کے بعد کمر تک گھنگریالے ہو جاتے تھے۔ ہونٹوں کے اوپر ایک خوبصورت تل تھا۔


حیا نے نظریں اٹھائیں تو بلال پتھر کا ہوا۔ "بابا جان، میں پہلی اور آخری ہی سہی، مگر غلط ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی۔"


"اتنا یقین کے ساتھ تم کیسے کہہ سکتی ہو کہ وہ شخص تمہاری ماں کا قاتل نہیں؟ کافی وقت سے تم نے اس کیس کو ری اوپن کرنے کی ضد کر رکھی تھی کس بیس پر؟"


"کیونکہ وہ بے گناہ سزا کاٹ رہے ہیں، اور میں کسی بے گناہ کو سزا نہیں کاٹنے دوں گی۔ یہ پروفیشن میں نے اسی لیے چوز کیا تھا کہ غلط نہیں سہوں گی۔ سمجھ رہے ہیں نا آپ میری بات؟"


بلال اس کی آنکھوں میں بغاوت دیکھ سکتے تھے۔ شہریار شاہ نے بیٹے کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھا، جیسے ریلیکس رہنے کا اشارہ کیا ہو۔


"ٹھیک کر رہے ہیں آپ، دادا جان۔ اپنے بیٹے کو ٹھنڈا رکھیں، کیونکہ وہ مجھے روک نہیں سکتے۔ یہ 10 سال پہلے کا وقت نہیں ہے کہ بیٹیوں کو ڈانٹ ڈپٹ کے چپ چاپ گھر پہ بٹھا دیا جاتا۔ 2026 چل رہا ہے، دنیا بہت آگے نکل گئی ہے۔ اسی لیے آپ لوگ بھی آگے نکلیں، اس سوچ سے کہ کسی کی سوچ کو بدلا جا سکتا ہے۔"


وہ بنا ناشتہ کیے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ نین تارا جو وہیں پہ بیٹھی حیا کو دیکھ رہی تھی، اس کے یوں اٹھ کر جانے پر اسے ٹوکا۔


"یوں بڑوں کی باتوں کا برا مناتے ٹیبل چھوڑ کے نہیں جاتے۔"


"پھپھو، میں آپ کی بات مان لیتی، مگر مجھے نہیں لگتا کہ یہاں میرے کسی بھی فیصلے کی عزت ہوتی ہے۔ اسی لیے میں چلی۔"


وہاں موجود سب ایک دوسرے سے نظریں چراتے رہ گئے تھے، کیونکہ حیا نے انہیں نظریں چرانے پہ مجبور کر دیا تھا۔ وہ ڈائری کھولتی ہوئی ڈائری کے پننے پلٹنے لگی۔


*****************


" اللہ اکبر، اللہ اکبر۔" سلام پھیرتے ہوئے وہ جائے نماز بند کرتا، جیل کی دیواروں سے ٹیک لگا گیا۔ عجیب مدھم روشنی تھی جو اس کے چہرے پہ پڑتی تھی۔ جیسے جیسے روشنی اس کے چہرے پہ پڑ رہی تھی، اس کے نقوش واضح ہو رہے تھے۔ وہ بہت خوبصورت تھا۔ آنکھیں سنہری تھیں جو روشنی کے پڑنے پر چمکتی تھیں۔ اس کا رنگ سرخو سفید تھا۔ مسکرانے پر کوئی بھی اس کی مسکراہٹ رک کر دیکھ لیتا، اتنی خوبصورت مسکراہٹ تھی اس کی۔ بال گھنگریالے تھے جو اس کی شخصیت پہ بہت جچتے تھے، بہت زیادہ۔


اس نے اپنی زندگی کا آدھا عرصہ اس جیل میں ہی گزارا تھا۔ وہ تقریباً انتیس سال کا تھا جب اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ پچھلے ایک سال سے اس کا کیس پھر سے ری اوپن تھا۔ کوئی حیا بلال اس کا کیس لڑ رہی تھی۔ عمر کی آنکھیں چمکیں، تبھی اسے چنگھاڑتی ہوئی آواز سنائی دی۔ "عمر شاہ، آپ کی ملاقات ہے۔" وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ ہفتہ کے دنوں میں اس سے کون ملنے آیا تھا، یہ حیرت انگیز بات تھی۔ اس کے ہاتھوں میں پھر سے زنجیریں پہنائی گئیں۔ وہ انہی زنجیروں کے ساتھ چلتا ہوا اپنی ملاقات تک پہنچا تھا۔ بیچ میں ایک قاری سی دیوار تھی جو چند منٹ کے بعد ہٹا دی گئی تھی۔ وہ چپ چاپ بیٹھ گیا۔


جیسے ہی کچھ روشنی واضح ہوئی، اس کی آنکھیں چندھیا گئیں۔ ایک خوبصورت عورت سامنے بیٹھی تھی۔ "کیسے ہو؟" وہ آواز پہ نظریں پلٹنا بھولا تھا۔ یہ آواز اس کی اپنی ذات کی تھی۔ مشکل سہی، مگر اتنی مشکل نہیں تھی پہچاننا۔ نین تارا نے کچھ ڈاکومنٹس اس کے سامنے پھینکے۔ "ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟ حیا کو کیس بند کرنے کے لیے تم کہو گے، کہو گے نا عمر؟" عمر مسکرایا۔ "میں ایسا کیوں کروں گا؟ میں اسے کیس سے نہیں رکوں گا۔" "اچھا، اتنے سالوں بعد بھی تمہارے اندر سے یہ نہیں گیا کہ تم بے قصور ہو؟"


"نین، میں بے قصور ہوں۔ یہ میرا اللہ جانتا ہے۔" "میرا نام نین تارا ہے۔" وہ ٹیبل پہ سختی سے ہاتھ مارتی ہوئی گرائی تھی۔ عمر ٹس سے مس نہیں ہوا، جیسے اس کے غصے کا عادی ہو، جیسے اس کے لیے نین تارا کا غصہ نیا نہ ہو۔ وہ چپ چاپ بیٹھا رہا۔ "نین، میں بے قصور ہوں۔" اس نے پھر سے اسے نین کہہ کے ہی مخاطب کیا تھا۔


نین نے مٹھیاں بھینچی۔ "میں تمہیں آزاد نہیں ہونے دوں گی۔ یہ بات یاد رکھنا۔" عمر گہرا مسکرایا۔ نین تارا کو اس کی مسکراہٹ سے کوفت ہوئی، کیونکہ اس کی مسکراہٹ حسین تھی۔ وہ مسکراتا تھا تو ارد گرد کے لوگ جل جاتے تھے۔ اتنے سال گزر جانے کے بعد بھی اس کی خوبصورتی پر ان سالوں کے گزرنے کا اثر نہیں ہوا تھا۔


وہ آج بھی وہی عمر شاہ تھا جو لڑکیوں کے دل پہ راج کیا کرتا تھا۔ وہ آج بھی اتنا ہی دل فریب تھا کہ اس کی خوشبو سارے ماحول کو معطر کر کے رکھ دیتی تھی۔ وہ آج بھی اتنا سنگین تھا کہ سامنے بیٹھی نین تارا سانس نہیں لے پا رہی تھی۔ "کیا ہوا؟ تمہیں تو میرے سامنے ڈگمگانا نہیں چاہیے۔ نین، تم کیوں گھبرا رہی ہو؟ اٹس اوکے۔ اگر حیا کوشش کر رہی ہے تو اسے کرنے دو۔ کون سا وہ کیس جیت جائے گی؟ وہ تئیس چوبیس سالہ لڑکی، تم سے تجربے میں کم ہے۔ تم جیت جاؤ گی اس سے۔"


نین نے گہرا سانس لیتے ہوئے اپنا پرس اٹھاتے پہنا تھا۔ "بھاڑ میں جاؤ تم اور تمہاری یہ فلاسفی۔" اس کے جانے پر عمر گہرا مسکرایا، مزید گہری مسکراہٹ۔۔۔۔۔۔۔



Umar Shah was a very handsome man who had been spending years in jail, sentenced to life imprisonment for the murder of a woman. He was a religious man, every day he would finish his prayer saying "Allahu Akbar," fold his prayer mat and lean against the prison walls. For the past one year, his case had been reopened because a young lawyer named Haya Bilal was working day and night to prove his innocence. Umar didn't even know who this girl was and wondered why she was fighting for him, and he had no idea that this girl is the daughter of the same woman whose murder he is accused of.


On the other side, Haya Shah was fighting her own family. In court, she asked the judge for more time, saying she would prove Umar Shah innocent. In the corridor, her aunt Neen Tara stopped her and said you want to save your own mother's killer, but Haya smiled and said he cannot be the killer. Haya told her aunt to ask her own heart, you are not fighting this case for justice but to take revenge for your own pain. At home on the breakfast table, her father Bilal Shah and grandfather Shahryar Shah also scolded her, saying she is the first daughter they have seen who is struggling to release her mother's killer, but Haya replied with rebellious eyes that this is not the time of 10 years ago when daughters were scolded and made to sit quietly at home, it's 2026, and she will not let an innocent person be punished.


When someone came to meet Umar in jail, it was Neen Tara. Neen threw documents at him and told him to tell Haya to close the case, but Umar smiled and refused, saying I am innocent and my Allah knows it. Even after all these years, Umar's beauty, his golden eyes, curly hair and charming smile were the same, which annoyed Neen but she couldn't even breathe in front of him. Umar said let Haya try, she is a 23-24 year old girl, less experienced than you, you will win against her, but Neen angrily said "go to hell" and left, and Umar smiled deeply.

 

Download Complete Novel By Clicking download Button Below


DOWNLOAD