Yaar Se Hai Yeh Gilla By NK Novels - Urdu Novelians

Urdu Novelians

 




Sneak Peak From The Novel


"آپ میرے ساتھ گزاری رات کی قیمت کیوں دے رہے ہیں۔ میں آپکی بیوی ہوں۔"انزل روتی ہوئی ان پیسوں کو دیکھنے لگی۔"بیوی نہیں ہو تم میری۔ یہ صرف کاغذی نکاح تھا۔ اپنے بھائی کو میرا نام بتانا تو وہ بتائے گا تم جیسی لڑکی سے نکاح کیوں کیا۔" تیمور نے نفرت سے انزل کو ہوٹل کے کمرے میں چھوڑا اور وہاں سے چلا گیا۔

انزل کا بھائی پولیس والا تھا جس نے ایک بار تیمور شیرازی کی بہن کے بارے میں غلط بولا تو اسکا بدلہ لینے کے لیے تیمور نے انزل کی زندگی برباد کر دی۔ انزل کا بھائی تو اسے جان سے مار دیتا۔ وہ ایک حویلی میں ملازمہ بن گئی۔ اسی دوران پریگننٹ ہو گئی۔ ایک رات حویلی کی مالکن کا پوتا باہر ملک سے آیا اور اس کی اس سے ٹکر ہوئی وہ تیمور شیرازی ہی تھا وہ حیرت سے انزل کے بڑھے پیٹ کو دیکھنے لگا۔


"اتنا غصے میں کیوں لگتے ہے بھائی؟ دنیا کا ہر مسئلہ آپ ٹھیک نہیں کر سکتے۔ چار سو لوگ اچھے ہوں گے تو پانچ سو برے بھی ہوں گے، اس میں کیا ہے؟ آپ اپنا خون جلا کے رکھیں گے بھائی تو کیسے لگے گا؟ پولیس والے ہونے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ہر برائی کا ٹھیکہ آپ نے اٹھا کے رکھا ہے۔"


"انزل پولیس والا ہوں اس لیے ہر برائی بری لگتی ہے۔ مگر آج میں اس لیے غصے میں نہیں ہوں۔"


"تو غصے میں کیوں ہیں؟ جس کو جس چیز سے منع کرو، وہ وہی کرتا ہے۔"


"آپ نے کس کو کس چیز سے منع کیا تھا؟"


"دعا کی بات کر رہا ہوں۔"


"اوہ، دعا، کیا کیا ہے دعا نے؟"


"میں نے اسے منع کیا تھا کہ وہ اپنے اس چھچھورے دوستوں کے ساتھ ٹرپ پہ نہیں نکلے گی، مگر نکل گئی۔ اب میں کیا کروں اس امیر باپ کی بگڑی ہوئی بیٹی کا، جس کو میری محبت سے سمجھانے کا بھی کوئی اثر نہیں ہوتا؟ غصہ کرو تو پھر روٹھ جاتی ہے، نہ بات کرو تو گھر چلی آئے گی۔ دماغ خراب کیا ہوا ہے اس لڑکی نے میرا۔ شادی کے بعد کیا بات مانے گی یہ میری؟ اوپر سے اس کے گھر والوں کو منانا ایک الگ آفت ہے، کیونکہ شیرازی خاندان کا بس چلے تو وہ اپنے جیسے ہی پتلے بنا لے۔"


وہ ہنسے جا رہی تھی اپنے بھائی کی باتوں پر۔


"اتنی محبت کرتے ہیں دعا سے؟"


"محبت؟ یار میں اس کے علاوہ زندگی کو تصور نہیں کرتا۔ ٹھیک ہے تو پھر جا کے بات کر لینا اس سے۔ اب چلی گئی ہے نا، وہ ٹرپ پر۔ واپس آئے گی تو بات کر لوں گا۔ فی الحال میں بہت تپا ہوا ہوں۔"



"یہ کون ہے دعا، دوست ہے میرا۔ حالت دیکھی ہے تم نے اس کی، نشے میں ہے۔ تم اس کے ساتھ یہاں آئی ہو ٹرپ سے واپس؟"


"ہاں، مگر وہ دوست ہے میرا، مجھے اس سے کوئی نقصان نہیں ہے۔"


"دعا، میں نے تمہیں کتنی دفعہ سمجھایا ہے کہ ان مردوں سے، جن کو تم جانتی نہیں ہو، جو تمہارے بلڈ میں نہیں آتے، ان سے دور رہا کرو۔ کس لینگویج میں تم میری بات سمجھو گی؟"


"شوہر نہیں ہو تم میرے حمزہ، اس لیے مجھ پہ یہ رعب نہیں کرو۔"


"بننے والا شوہر تو ہوں نا، میں تمہیں ہمیشہ اس نظر سے دیکھتا ہوں کہ تم فیوچر وائف ہو میری۔ محبت کی دعویدار ہوتے ہوئے بھی تمہیں میری بات سمجھ میں نہیں آتی؟ کیا میں تمہارے لیے غلط سوچ سکتا ہوں؟"


"تم میرے کردار کو جج کر رہے ہو۔"


"میں ایسا کچھ بھی نہیں کر رہا۔ پولیس والے ہو میں جانتی ہوں پولیس والوں کے دماغ میں گند ہوتا ہے، مگر حمزہ، تم نے مجھ سے محبت کرنے سے پہلے یہ نہیں دیکھا تھا کہ تم کون ہو، اس لیے مجھ سے محبت کرنے سے پہلے تم بھی یہ نہ دیکھتے کہ میں کیسی ہوں، کیونکہ محبت میں کریکٹر سرٹیفیکیٹ نہیں دیے جاتے۔ اینڈ آئی ایم سوری، مسٹر حمزہ، تم نے مجھے مایوس کیا ہے۔"


"دعا رکو تو سہی، مجھے کوئی بات نہیں سنی تمہاری۔ رو کیوں رہی ہو؟"


"تیمور بھائی، پلیز جائیں یہاں سے، مجھے رونے دیں، کیونکہ میں رونا ڈیزرو کرتی ہوں۔"


"ارے، تم آج ہی تو ٹرپ سے واپس آئی ہو۔ ٹرپ سے تو سب خوش واپس لوٹتے ہیں، مگر تم نے تو گھر میں آتے ہی ماتم منایا ہوا ہے۔ عجیب سا رویہ ہے۔ کیوں رو رہی ہو؟ کس نے میری بہن کو پریشان کیا ہے؟ بتاؤ تو سہی مجھے جان سے مار دوں گا میں اسے۔"


"کیا میرا کردار برا ہے، بھائی؟" وہ چپ ہوا۔


"تم سے کس نے کہا کیوں تم لوگوں کو اپنا کردار جسٹیفائی کرتی پھرو؟"


"ایسے ہی، بھائی، بس پوچھ رہی تھی۔" وہ آنسو صاف کرتی اٹھ کے چلی گئی تھی۔ وہ بہن کو بغور دیکھنے لگا، جو ٹھیک نہیں لگتی تھی۔


"جواد، تم یہاں کیا کر رہے ہو؟"


"آج بہت خوبصورت لگ رہی ہو تم۔"


"جواد، پلیز ڈونٹ ٹچ می۔ نشے میں ہو تم، پی کے آئے ہو۔ دیکھو، میں شکایت کر دوں گی تمہاری۔ اس وقت یونیورسٹی میں موجود ہیں۔ یہ بکواس میرے ساتھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔"


"بہت پیاری ہو تم۔"جواد نے اسے دھکا دیا تھا، وہ بینچ پہ گری تھی۔ وہ اس پہ جھپٹا چلا گیا تھا۔ تبھی دروازہ دھڑام سے کھولا۔


وہ جواد کو دھکا دیتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ حمزہ تھا۔


"حمزہ! مجھے بچاؤ، یہ تباہ کر دے گا مجھے۔"


حمزہ آگے بڑھا، جواد کو تیز مارنے لگا۔ "تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہ سب کچھ کرنے کی؟ میری دعا کو چھوؤ گے تم؟ اتنی اوقات ہے تمہاری؟" وہ اسے مارے جا رہا تھا، شدید مارے جا رہا تھا۔ یونیورسٹی کے انتظامیہ تھوڑی ہی دیر میں جمع ہو گئی تھی اور جواد کو یونیورسٹی سے نکال دیا گیا تھا۔


"تمہیں میں نے سمجھایا تھا نا، ایسے لڑکوں پہ اعتبار مت کیا کرو۔ مگر وہ دعا ہی کیا جو حمزہ کی بات مان لے۔" وہ غصہ کر رہا تھا، شدید غصہ۔


"غلطی صرف اس کی نہیں ہے، میری بھی ہے۔ تم نے اس کو اتنی کمفرٹ دی کہ وہ تمہارے اس قدر پاس آیا۔"


"حمزہ، میرے کردار کو جج نہیں کر سکتے تم۔"


"ٹرپ سے لوٹنے کی رات تم نشے میں ساری رات اس کے ساتھ سفر کرتی آئی۔ ایک مرد کے لیے یہ اشارہ کافی ہے کہ ایک عورت اس کے ساتھ نشے میں کمفرٹیبل ہے۔ دوبارہ بھی اس نے وہی حرکت کی تمہارے ساتھ، مگر میں جو تمہارے ساتھ سر پھوڑتا رہتا ہوں کیا بکواس کرتا ہوں؟ آج اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو میں کیا کرتا؟"


"تم مجھ پہ شک کر رہے ہو۔" وہ روتی ہوئی اس سے دور ہوئی۔


"شک؟ میں تمہاری پرواہ کر رہا ہوں۔"


"یوں ڈیم اٹ۔ مجھے تمہاری یہ پرواہ نہیں چاہیے، چونکہ تمہیں مجھ پہ اعتبار ہی نہیں ہے۔ دعا تم یہ کیا کہہ رہی ہو؟ نفرت کرتی ہو میں تم سے۔ تم ہر وقت بس میرے کردار کو جسٹیفائی کرتے رہتے ہو۔ تمہیں بس میری پیورٹی چاہیے، مجھ سے محبت نہیں ہے تمہیں۔ اگر مجھ سے محبت ہوتی تو تمہیں میرے لیے پریشانی ہوتی، مگر نہیں، تمہیں اس چیز کا ڈر تھا کہ میں تباہ ہو جاتی تو تمہارا کیا ہوتا؟"


حمزہ نے اپنے سر پہ ہاتھ رکھ لیا تھا۔ "پاگل لڑکی، اگر ایسا ویسا کچھ ہوتا تو میں تمہیں تکلیف میں نہ دیکھ پاتا۔ تم ایسے کیسے سوچ سکتی ہو میرے بارے میں؟ میری ہی غلطی تھی کہ مجھے تم سے محبت ہو گئی۔"


"میں جا رہی ہوں۔"


"دعا، میری بات تو سنو۔"


"مجھے تمہاری کوئی بات نہیں سننی، حمزہ۔"


"اچھا، مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے؟ تین دن سے کھانا کیوں چھوڑا ہوا ہے تم نے؟ حمزہ سے کوئی جھگڑا ہوا ہے تمہارا؟" وہ بے ساختہ بھائی کی طرف دیکھنے لگی۔


"ایسے مت دیکھو مجھے، تمہیں کیا لگتا ہے، تم کچھ بتاتی نہیں ہو تو میں جانتا نہیں ہوں؟ کیا کیا ہے اس نے؟ بتاؤ مجھے۔" وہ چھوٹے چھوٹے لفظوں میں سب کچھ اپنے بھائی کو بتا گئی تھی۔


"بھائی، میں اسے ایک بگڑے ہوئے باپ کی بگڑی ہوئی بیٹی لگتی ہوں جس کو اپنی عزت پیاری نہیں، اسے لگتا ہے میں کسی کے ساتھ بھی کبھی بھی۔۔۔"


"چپ کر جاؤ۔" تیمور نے بے ساختہ اسے روکا تھا، کیونکہ وہ سن نہیں پا رہا تھا۔


"حمزہ ایسا کیسے کر سکتا ہے تم سے بہت محبت کرتا ہے وہ۔"


"کرتا ہے یا ہوگا، مجھے نہیں پتا، مگر میں نے اس کے لفظوں میں اپنے لیے بے اعتباری دیکھی ہے، بھائی۔ صرف اس لیے کیونکہ میں اونچے خاندان سے ہوں، وہ میرا دل توڑتا ہے، میرے کردار کو جج کرتا ہے، بھائی۔" وہ روتے ہوئے بھائی کے سینے سے لگ گئی تھی۔


"میری بہن کا دل توڑتے ہوئے تم نے یہ نہیں سوچا کہ خود بھی ایک بہن کے بھائی ہو تم۔"


حمزہ اٹھ کھڑا ہوا۔ "یہاں میری بہن ڈسکس کیوں ہو رہی ہے؟ اس کا اس سب میں کوئی تعلق نہیں۔"


"اچھا، اور دوسروں کی بہن کی عزت کو جج کرنا بہت آسان ہے تمہارے لیے۔ میں دعا سے بہت محبت کرتا ہوں، تیمور۔ میرے لیے اس کی عزت مذاق نہیں ہے، اسی لیے میں اسے پروٹیکٹ کرتا ہوں، اسے سمجھاتا ہوں، مگر وہ میری بات نہیں سمجھتی۔ تم تو بڑے ہو اس سے، کم سے کم تم تو مجھے سمجھو کہ میں کیا سمجھاتا ہوں اسے۔ بے شک وہ تمہاری بہن ہے، مگر اپنی بہن کو غلط اور صحیح تو سمجھا سکتے ہو نا؟"


"تم چپ کر جاؤ۔ آئندہ اگر تم نے میری بہن کو جج کیا یا اسے ہرٹ کرنے کی کوشش کی تو مجھ سے برا اور کوئی نہیں ہوگا۔ میں تم سے وہ انتقام لوں گا کہ تم اپنا چہرہ چھپاتے پھرو گے۔ یہ بات یاد رکھنا۔"


"آئی ایم سوری۔"


"اٹس اوکے، مگر میں تم سے خفا ہوں۔ میں جانتا ہوں، دعا، مگر اس سب سے کچھ نہیں ملے گا تمہیں۔ میں جانتا ہوں تم میرے بغیر نہیں رہ سکتی، تم جانتی ہو میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا، تو یہ جنگ کیسی ہے؟"


"تم مجھے جج کرتے ہو؟"


"نہیں، میں تم سے پیار کرتا ہوں۔"


"میں بھی تم سے پیار کرتی ہوں۔"


"ہم جن سے پیار کرتے ہیں دعا ان کے لیے پروٹیکٹو ہوتے ہیں بہت۔ میں تمہیں سیف دیکھنا چاہتا ہوں۔ کبھی ایسا مت سوچنا کہ حمزہ تم پر شک کر سکتا ہے۔ میں شک نہیں کرتا تم پر، تمہارے ارد گرد کے لوگوں سے ڈرا ہوا ہوتا ہوں کہ وہ ٹھیک نہیں ہے۔ بیٹھو۔ کیا غلط چاہتا ہوں؟ چلو ٹھیک ہے، تمہارا ایک دو میل فرینڈ ہے بھی تو کم سے کم وہ مجھے کوئی اچھے گھر کے تو لگے۔ سب موالی قسم کے ہیں اور میں تمہیں ایسے گروپس میں نہیں دیکھ سکتا۔ خون کھولتا ہے میرا۔ ہم جن کی عزت کرتے ہیں یا جو ہماری عزت ہوتے ہیں، ہم انہیں ایسے ماحول میں نہیں دیکھ سکتے۔" وہ اس کے ہاتھ تھامتے ہوئے چوم گیا۔


"میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں، دعا، بہت جلد۔ تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا، اور اپنے ذہن سے بھی یہ خیال نکال دو کہ حمزہ تمہارے بغیر جی سکتا ہے۔"دعا مسکرائی تھی۔


"انزل، کیا حمزہ گھر پر ہے؟"


"نہیں یار، بھائی تو گھر پہ نہیں ہے۔ پتہ نہیں کہاں چلے گئے ہیں۔ جلدی کہہ کر گئے تھے کہ آئیں گے، مگر ابھی تک نہیں آیا۔ اچھا، میں کال کر کے دیکھتی ہوں۔" دعا کی کال کرنے پہ اسے معلوم ہوا کہ وہ پولیس اسٹیشن بھی نہیں ہے، تو پھر وہ کہاں جا سکتا تھا؟

"Why are you paying me for the night we spent together? I am your wife." Anzal stared at the money, tears streaming down her face. "You are not my wife. It was merely a marriage on paper. Ask your brother my name; he will tell you why he agreed to a marriage with a girl like you." With a look of pure contempt, Taimoor left Anzal in the hotel room and walked away.

Anzal’s brother was a police officer who had once made an inappropriate remark about Taimoor Shirazi’s sister. To exact his revenge, Taimoor destroyed Anzal’s life. Her brother would have killed her for it. She ended up working as a maid in a *haveli* (mansion), where she eventually became pregnant. One night, the grandson of the *haveli’s* owner returned from abroad, and Anzal happened to cross paths with him—it was Taimoor Shirazi. He stared, stunned, at Anzal’s visibly pregnant belly.


"Why do you seem so angry, brother? You can’t fix every problem in the world. For every four good people, there will be five bad ones—what’s so surprising about that? If you keep burning yourself up like this, what good will it do? Being a police officer doesn’t mean you’ve taken it upon yourself to single-handedly eradicate every evil."


"Anzal, because I am a police officer, every evil bothers me. But that’s not why I’m angry today."


"Then why are you angry? People always end up doing exactly what you tell them not to do."


"Who did you tell not to do something, and what was it?"


"I’m talking about Dua."


"Oh, Dua—what has she done?" "I forbade her from going on this trip with those frivolous friends of hers, yet she went anyway. What am I supposed to do with this spoiled daughter of a wealthy man—someone who remains completely unmoved even when I try to reason with her out of love? If I get angry, she sulks; if I stop speaking to her, she shows up at my doorstep. This girl has driven me absolutely crazy! How will she ever listen to me after we’re married? On top of that, convincing her family is a whole other ordeal—if the Shirazi clan had their way, they’d mold everyone else into carbon copies of themselves."


She kept laughing at her brother’s words.


"Do you love Dua that much?"


"Love? Man, I can’t even imagine life without her. Alright, then—why don’t you go and talk to her? She’s already gone on that trip, hasn’t she? I’ll talk to her once she’s back. For now, I’m just fuming."


"Who is this, Dua? He’s a friend of mine. Look at the state he’s in—he’s intoxicated! Did you return from the trip with him?"


"Yes, but he’s a friend; he poses no threat to me."


"Dua, how many times have I told you to stay away from men you don’t know—men who aren’t part of your own circle? In what language do I need to explain this to you?"


"You aren’t my husband yet, Hamza, so don’t try to exert that kind of authority over me."


"But I *am* your future husband, aren’t I? I’ve always viewed you as my future wife. Even while claiming to love me, you still don’t understand where I’m coming from? Do you really think I’d ever wish for anything but the best for you?"


"You’re judging my character." "I’m not doing anything of the sort. You’re a policeman—I know how the minds of policemen are, full of filth. But Hamza, didn’t you consider who *you* were before you fell in love with me? By that same logic, shouldn’t you have looked at who *I* was before falling for me? Because in love, one doesn’t demand a 'character certificate.' And I’m sorry, Mr. Hamza—you’ve disappointed me."


"Dua, wait a minute—I don’t want to hear any of that. Why are you crying?"


"Taimoor Bhai, please, just leave. Let me cry; I deserve to cry."


"Hey, you just returned from your trip today! People usually come back from trips happy, yet here you are, mourning the moment you stepped into the house. This is strange behavior. Why are you crying? Who has upset my sister? Tell me—I’ll kill whoever it is!"


"Is my character bad, Bhai?" He fell silent.


"Who told you that? And why do you feel the need to go around justifying your character to people?"


"Oh, nothing, Bhai—I was just asking." Wiping away her tears, she got up and walked away. He watched his sister closely; something clearly wasn't right.


"Jawad, what are you doing here?"


"You look so beautiful today."


"Jawad, please—don’t touch me. You’re drunk—you’ve been drinking! I’m going to report you, you know. We’re at the university right now; there’s no need for this kind of nonsense with me."


"You’re so lovely." Jawad shoved her, and she fell onto a bench. He lunged toward her—just then, the door was flung open with a crash. She stood up, pushing Jawad away. It was Hamza.


"Hamza! Save me—he’s going to ruin me!"


Hamza stepped forward and began striking Jawad fiercely. "How dare you do all this? You’d lay a hand on *my* Dua? Is that all you’re worth?" He kept hitting him—relentlessly. Before long, the university administration arrived, and Jawad was expelled.


"I told you, didn't I? Don't trust guys like that. But then again, would Dua ever actually listen to Hamza?" He was furious—absolutely seething.


"It’s not just his fault; it’s yours, too. You gave him so much leeway—made him feel so comfortable—that he ended up getting this close to you."


"Hamza, you have no right to judge my character."


"The night you returned from the trip, you spent the entire journey with him while intoxicated. For a man, that’s all the signal he needs—that a woman is comfortable enough to be in an inebriated state in his presence. He tried the same thing again, didn't he? And here I am, constantly trying to knock some sense into you—am I just spouting nonsense? If something had happened to you today, what would I have done?"


"You’re doubting me." She moved away from him, weeping.


"Doubting? I’m looking out for you."


"Damn it! I don't want this kind of 'looking out' from you—not when you don't even trust me!" "Dua, what are you saying? I hate you! You’re always just..."


Download Complete Novel By Clicking download Button Below


DOWNLOAD


Tags