"My work is done, now get out of here." Hadi Shah grabbed Meerab by the arm and pushed her towards the door. She stumbled and fell to the ground, her hair scattered across her face, clothes disheveled and eyes full of tears. He looked at her with hatred, mocking her helplessness and warning her never to show her face to him again. Meerab quietly picked up her shawl, composed herself, and walked out without arguing, but at the door she turned and said, "You will regret this one day, Hadi Shah." He just laughed at her. Meerab was an orphan with no one in this world to share her pain with, and after that day she completely disappeared. Hadi soon forgot about the incident too, as his life continued with a double face - in the Shah Haveli during the day he pretended to be a pious, obedient son who prayed five times and bowed his head before his Bade Abu, Shamshir Shah, who considered him the best boy and had raised him like his own son after his brother's death and decided to make him his heir. But as soon as he stepped outside the haveli, his real face came out; at night he would go to clubs, drink, spend time with girls, and use his wealth to crush others, confident that Shamshir Shah had no idea about his reality.
Two months passed with no trace of Meerab, until one day a car stopped at the gate of Shah Haveli and Meerab stepped out, looking tired and pale in simple clothes, holding a file tightly to her chest. She walked straight inside and asked to meet Shamshir Shah. When she was called into his room, he asked who she was and what she wanted. With trembling hands she placed the file on his table and said, "I want justice from you, Shamshir Shah Sahib. Your nephew has ruined my life. I am going to be the mother of Hadi Shah's child." Shamshir opened the file and found a medical report inside. He was stunned and asked if she knew what she was saying, and she replied that she did, that she had no one, that she wanted to bring this child into the world and did not want her child to be deprived of its father's identity before birth.
Shamshir immediately summoned Hadi, who entered with a tasbeeh in his hand, standing respectfully as usual. Shamshir asked him if any girl had ever been in his life, and Hadi acted innocent, saying what would a girl do in his life, that he doesn't even look at girls and will only have a wife after marriage. Shamshir then signaled the servant at the door, and Meerab walked in. The tasbeeh stopped in Hadi's hand, his face turned pale and his eyes widened as if the ground had been pulled from under his feet. Shamshir said, "This girl says you are the father of her child, and she has brought her medical report. Now tell me, if no girl ever came into your life, how is she going to be the mother of your child?" Hadi had no answer. Shamshir slammed his hand on the table demanding an answer, but Hadi just lowered his head and his silence made everything clear. Furious and disappointed, Shamshir said he had raised him like a son and this is how he repaid him, and declared his punishment and his only path to redemption - that he must marry this girl, give her a place in his life, and give his name to this child.
"میرا کام ہو گیا اب دفع ہو جاؤ یہاں سے۔"
ہادی شاہ نے میرب کو بازو سے پکڑ کر دروازے کی طرف دھکا دیا۔ وہ لڑکھڑاتی ہوئی زمین پر جا گری۔ اس کے بکھرے ہوئے بال چہرے پر پھیل گئے۔ کپڑے بے ترتیب تھے۔ آنکھوں میں آنسو تھے۔
ہادی نے نفرت سے اسے دیکھا۔ "ایسے کیا دیکھ رہی ہو تم مجھے۔ کیا کر لو گی میرا۔"
میرب نے اپنی چادر اٹھائی۔ اپنے وجود کو سمیٹا۔ خاموشی سے دروازے کی طرف چل دی۔ ہادی کو اس کی خاموشی پر بھی غصہ آیا۔ "سن لو میرب۔ دوبارہ میری زندگی میں آنے کی کوشش مت کرنا۔"
میرب دروازے پر رکی۔ اس نے پلٹ کر کہا۔ "تمہیں اپنی اس حرکت پر ایک دن بہت پچھتاوا ہوگا ہادی شاہ۔"
ہادی قہقہہ لگا کر ہنسا۔ "میں اور پچھتاؤں گا۔"
وہ کمرے سے باہر نکل گئی۔
میرب ایک یتیم لڑکی تھی۔ اس دنیا میں اس کا کوئی ایسا نہیں تھا جس کے کندھے پر سر رکھ کر وہ اپنے دکھ بیان کر سکتی۔ ہادی نے اسے اپنی دولت اور طاقت کے نشے میں روندنے کی کوشش کی تھی۔ میرب اس دن کے بعد غائب ہو گئی۔
ہادی نے بھی چند دن بعد اس واقعے کو ذہن سے نکال دیا۔ دن کے وقت وہ شاہ حویلی میں ایک فرمانبردار بیٹے کا روپ دھارے پھرتا۔ پانچ وقت کی نماز پڑھتا۔ بڑے ابو کے سامنے نظریں جھکا کر بات کرتا۔ شمشیر شاہ کی نظر میں ہادی سے بہتر کوئی لڑکا نہیں تھا۔
ہادی ان کے مرحوم بھائی کا بیٹا تھا۔ انہوں نے اسے بچپن سے اپنے بیٹے کی طرح پالا تھا۔ اسے اپنی جائیداد کا وارث بنانے کا فیصلہ بھی کر چکے تھے۔ ہادی جانتا تھا کہ اس حویلی میں اس کی اصل حیثیت کیا ہے۔ شمشیر شاہ کے سامنے اس کی ایک غلطی بھی معاف نہیں ہوتی تھی۔ مگر حویلی کے دروازے سے باہر نکلتے ہی اس کا اصل چہرہ سامنے آ جاتا۔ رات ہوتے ہی وہ کلبوں میں پہنچ جاتا۔ شراب پیتا۔ لڑکیوں کے ساتھ وقت گزارتا۔ وہ جانتا تھا کہ شمشیر شاہ کو اس کی حرکتوں کی خبر نہیں تھی۔
دو مہینے گزر گئے۔ میرب کا کہیں کوئی نام و نشان نہیں تھا۔ پھر ایک دن شاہ حویلی کے دروازے پر ایک گاڑی آ کر رکی۔ یہ میرب تھی۔ اس کے چہرے پر تھکن تھی۔ لباس سادہ تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک فائل تھی۔ وہ سیدھی حویلی کے اندر داخل ہوئی۔ اس نے صرف اتنا کہا کہ اسے شمشیر شاہ سے ملنا ہے۔
شمشیر شاہ نے اسے اپنے کمرے میں بلانے کا حکم دے دیا۔ "بیٹی تم کون ہو۔ تمہیں مجھ سے کیا کام ہے۔"
میرب نے اپنے لرزتے ہاتھوں سے فائل میز پر رکھ دی۔ "مجھے آپ سے انصاف چاہیے شمشیر شاہ صاحب۔ آپ کے بھتیجے نے میری زندگی برباد کر دی ہے۔ میں ہادی شاہ کے بچے کی ماں بننے والی ہوں۔"
شمشیر شاہ نے فائل کھولی تو اندر طبی معائنے کی رپورٹ موجود تھی۔
"تم جانتی ہو تم کیا کہہ رہی ہو۔"
"جی۔ میں جانتی ہوں۔ میرے پاس کوئی نہیں ہے۔ میں اس بچے کو دنیا میں لانے والی ہوں۔ میں نہیں چاہتی کہ میرا بچہ پیدا ہونے سے پہلے ہی باپ کی پہچان سے محروم ہو جائے۔"
شمشیر شاہ نے فوراً ہادی کو بلانے کا حکم دیا۔ ہادی ہاتھ میں تسبیح لیے حسب معمول ادب سے کھڑا ہو گیا۔ "جی بڑے ابو آپ نے بلایا۔"
"ہادی مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔ پہلے یہ بتاؤ کیا تمہاری زندگی میں کبھی کوئی لڑکی آئی ہے۔"
"لڑکی میری زندگی میں کیا کام کرے گی بڑے ابو۔ میں تو لڑکیوں کی طرف دیکھتا تک نہیں ہوں۔"
شمشیر شاہ نے دروازے کی طرف دیکھا۔ ملازم کو اشارہ کیا تو اگلے ہی لمحے میرب اندر داخل ہو گئی۔ ہادی کے ہاتھ میں موجود تسبیح رک گئی۔ اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ آنکھیں پھیل گئیں۔ محسوس ہوا جیسے کسی نے اچانک اس کے قدموں تلے سے زمین کھینچ لی ہو۔
"یہ لڑکی کہہ رہی ہے کہ تم اس کے بچے کے باپ ہو۔ اب مجھے بتاؤ کہ اگر تمہاری زندگی میں کبھی کوئی لڑکی آئی ہی نہیں تو یہ تمہارے بچے کی ماں کیسے بننے والی ہے۔"
ہادی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
شمشیر شاہ نے میز پر ہاتھ مارا۔ "یہ کیا ہادی۔ میں تم سے جواب مانگ رہا ہوں۔"
ہادی نے سر جھکا لیا۔ اس کی خاموشی نے سب کچھ واضح کر دیا تھا۔
شمشیر شاہ کی آنکھوں میں شدید غصہ اتر آیا۔ "مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی۔ میں نے تمہیں اپنا بیٹا سمجھ کر پالا۔ تم نے میری تربیت کا یہ صلہ دیا ہے۔ تمہیں اس لڑکی سے نکاح کرنا ہوگا۔ اسے اپنی زندگی میں جگہ دینی ہوگی۔ اس بچے کو اپنا نام دینا ہوگا۔ یہی تمہاری غلطی کی سزا ہے۔ یہی تمہاری اصلاح کا راستہ ہے۔"
ہادی نے فوراً سر اٹھایا۔

