Ishq Main Haare Hum By Habiba Writes - Urdu Novelians

Urdu Novelians

 



Sneak Peak From The Novel


 

 Buraq and Ishaa grew up together in a haveli. Ishaa loved Buraq since she was 7, running behind him even when she fell. At 14, she overheard Dada fixing their marriage as her late father's last wish. Buraq however loved another girl, Hoorain. When Dada told him about the fixed rishta, Buraq refused and left the haveli, but returned after 2 days and agreed. On their wedding night he clearly told Ishaa - "Don't expect anything from me." Ishaa only asked for respect.

After marriage Buraq ignored her completely. He stayed out all day, talked to Hoorain on calls at night, and left for office without breakfast. Ishaa waited for him on the sofa till 2 AM, prayed Tahajjud alone in the hall, and hid her tears from Dada and Taya. She never complained, thinking if love is not in her destiny she cannot fight destiny. Her only dua was - "Ya Allah put my love in his heart, or remove his love from my heart."

One evening Buraq was laughing at a club with friends and his girlfriend. The hospital called - "Your wife had a severe accident, needs blood or she will die." His girlfriend laughed and said "Such a dramatic wife," and Buraq thought it was Ishaa's lie. Then Dada called angrily - "Your wife is taking her last breaths and you are partying, reach hospital now!" When Buraq rushed to the hospital, the doctor said - "You came too late, we couldn't save your wife." He ran into the ICU where Ishaa lay motionless in a white sheet, and Dada pushed him out shouting - "You killed my child." At that moment he remembered little 7-year-old Ishaa who fell while running behind him and said - "Because you will laugh."


"ہسپتال سے کال ہے تمہاری بیوی کا بری طرح ایکسیڈنٹ ہوا ہے اسے بلڈ کی ضرورت ہے۔ ورنہ مر جائے گی!--- اور تمہیں یقین آگیا قسم سے بہت ڈرامے باز بیوی ملی ہے مجھے"۔ براق خانزادہ اپنی پہلی محبت کے ساتھ بیٹھا دوستوں کے گروپ میں اپنی ہی بیوی کا مذاق اڑانے لگا اسکا فون ساتھ بیٹھی گرل فرینڈ کے پاس تھا تو کال سنتی اسے ہنس کر بتانے لگی۔ جبکہ وہ خود سیریس نہیں ہوا اور عشاء کا جھوٹ سمجھ کر بیٹھا رہا۔ پھر کہیں دل میں ایک بار خیال ضرور آیا اور اسکا دل بے چین ہوا کہ ایک بار کال کر کے اسکی خبر لے لے ایسے واحیات مذاق پر۔۔ لیکن وہ جانتا تھا عشاء اسکی ایک نگاہ کو بھی ترستی تھی اور وہ دور رہتا تھا اس زبردستی کے بے جوڑ رشتے سے۔ "کہاں ہو تم۔؟ وادا میں دوستوں کے ساتھ پارٹی--- شٹ اپ" - "وادا کی کال پر وہ سیدھا ہوا اور انکی خوب ڈانٹ سنی"۔ براق خانزادہ تمہاری بیوی آخری سانس لے رہی ہے اور تمہیں پارٹی کرنی ہے۔۔۔ جو کرنا اسکے مرنے کے بعد کرنا اور فوراً ہسپتال پہنچو! وہ دھڑکتے دل کے ساتھ جو نہیں ہسپتال پہنچا تو اگلی خبر پر اسکے قدم لڑکھڑا گئے۔ "سوری آپ کی وائف" "کیا ہوا ہے اسے" براق نے ڈاکٹر کی بات کاٹ کر پوچھا۔ "بہت برا ایکسیڈنٹ ہوا ہے سر پر گہری چوٹ ہے خون سارا ضائع ہوچکا ہے" ڈاکٹر نے گہری سانس لے کر بتایا۔ "کتنا خون چاہیے بتائیں مجھے میرا خون نکالیں جتنا چاہیے پر عشاء کو کچھ نہیں ہونا چاہیے" براق نے چیخ کر کہا۔


"آپ نے دیر کردی آنے میں اور یہ چیخ کر مت دکھائیں اتنی فکر ہوتی تو پہلے آپ یہاں موجود ہوتے نہیں بچ سکی آپ کی وائف" ڈاکٹر غصے سے بول کر سیڑھیاں چڑھتا ہوا اوپر چلا گیا۔۔۔ براق بند ہوتے دل کے ساتھ لڑکھڑا گیا۔ ابھی کچھ گھنٹے پہلے کی تو بات تھی۔ عشاء مسکرا کر اسے اللہ حافظ کر رہی تھی۔ گیٹ پر کھڑی۔ اور براق بے زاری دیکھتا ہوا چلا گیا تھا۔۔ اسکے کانوں میں عشاء کی آوازیں گونجنے لگی۔۔ "براق آج جلدی آ جائیے گا پلیز میرا آپ کے ساتھ مووی دیکھنے کا دل کر رہا ہے" "براق آج میں نے اللہ سے دعا کی ہے۔ اللہ آپ کے دل میں میری محبت ڈال دے۔ یا میرے دل سے آپ کی محبت ختم کردے۔ تاکہ میرے بے چین دل کو سکون آ جائے" براق کو اسکی بھیگی روتی ہوئی آنکھیں یاد آئی۔۔ "عشاء" اسکا نام لیتا ہوا براق آئی سی یو روم کا دروازہ کھول کر اندر بھاگا۔۔۔ سامنے بیڈ پر سفید چادر میں عشاء ساکت لیٹی تھی۔۔۔ دادا اپنے کپکپاتے ہاتھوں سے عشاء کو اٹھانے کی کوشش کر رہے تھے۔۔۔

"دادا پریشان مت ہو عشاء ٹھیک ہو جائے گی" براق امید سے کہتا ہوا آگے بڑھا۔۔ "ابھی بھی تم بول رہے ہو ٹھیک ہو جائے گی۔ میری بچی کو مار کر بول رہے ہو ٹھیک ہو جائے گی۔ براق خانزادہ دفعہ ہو جاؤ یہاں سے جب تمہاری ضرورت تھی۔ تم دوستوں کے ساتھ عیاشی کر رہے تھے۔۔ نکالو اسے ہسپتال سے اسنے میری بچی کو مار دیا ظالم ہے یہ انسان" دادا ہانپتے ہوئے ڈاکٹروں کو آواز دینے لگے۔۔ ہسپتال کا عملہ شور سن کر اندر آیا۔۔ "اس آدمی کو اندر کس نے آنے دیا۔ ابھی اسی وقت اسے باہر کرو یہاں سے" دادا ڈاکٹروں پر چیخنے لگے۔۔ گارڈ آگے بڑھ کر براق کو لے جانے لگا۔۔ "دادا میری بات تو سنے عشاء کو کچھ نہیں ہوگا میں نے عشاء کو نہیں مارا" براق خود کو چھڑانے کی کوشش کرنے لگا۔۔ "لے کر جاؤ اس بے غیرت انسان کو" دادا نے براق کو پیچھے دھکیلا۔۔۔۔ "براق بھائی" سات سال کی عشاء دس سال کے براق کے پیچھے پنگلے کر بھاگ رہی تھی۔۔ براق نے بھاگنے کی اسپیڈ ڈبل کردی۔۔ "براق بھائی رک جائے نا" عشاء بھاگتی ہوئی اپنی فراک میں الجھ کر گرگئی۔ براق نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور بھاگتا ہوا اس کے پاس آکر کھڑا ہوا۔۔ "لگی ہے" براق نے اپنی چھوٹی سی ناک چڑھا کر پوچھا۔۔ عشاء آنکھوں میں آنسوں لیے سر ہلانے لگی۔۔ "جھوٹی" پھر تم روئی کیوں نہیں" براق نے اسکے ہاتھوں پر سے مٹی صاف کرتے ہوئے کہا۔۔ "کیوں کے آپ ہنسیں گے" عشاء نے سر جھکا کر بتایا... اسی طرح عشاء اور براق کھیلتے ہوئے بڑے ہوگئے۔۔ براق نے شہر کی یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا تھا۔ اب وہ حویلی چھٹیوں میں آتا تھا۔۔ عشاء کے لیے وہ بہت خوبصورت دن ہوتے تھے۔۔۔ بہانے بہانے سے وہ تایا کی حویلی میں چکر لگاتی رہتی براق کو دیکھنے کے لیے۔۔ یہ سوچ کر خوش ہوتی رہتی۔ بہت جلد براق اسکا ہو جائے گا۔۔ چودہ سال کی عمر میں اسنے چھپ کر دادا اور تایا ابا کی باتیں سنی تھی۔ "اکرم براق اب جوان ہو گیا ہے اس کو بتا دینا چاہیے۔ بچپن میں اسکا اور عشاء کا رشتہ پکا کر چکے ہیں ہم" دادا نے سامنے بیٹھے تایا کو کہا۔۔ "ابا مجھے اپنے براق پر بھروسہ ہے وہ کبھی بھی مخالفت نہیں کرے گا اس رشتے کی۔ یہ اسکے چچا کی خواہش تھی" تایا ابا نے دادا کو مان سے بتایا۔۔۔ عشاء مسکرا کر کچن میں چلی گئی۔۔ "بابا آپ جاتے جاتے بھی میری دل کی خواہش پوری کر گئے۔ کاش آپ ابھی بھی میرے ساتھ ہوتے" عشاء نم آنکھوں سے اپنے بابا کو یاد کرنے لگی۔۔

"دادا میں حورین سے ہی شادی کرونگا" براق بیٹھا دادا کے ہوش اڑا رہا تھا۔۔ "بھول جاؤ براق خانزادہ یہ ممکن نہیں ہے" دادا رعب سے بیٹھے نا میں سر ہلانے لگے۔۔ "پر کیوں" براق کہتا ہوا کھڑا ہوا۔۔ "کیونکہ تمہاری اور عشاء کی شادی طے ہو چکی ہے۔ اور یہ ہی تمہارے چچا مرحوم کی خواہش تھی" دادا نے کہہ کر واپس بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔ "یہ چچا کی خواہش تھی دادا پر میری نہیں ہے۔ میں اپنی بات سے ایک قدم پیچھے نہیں ہٹوں گا میری محبت حورین ہے اور میں اسی سے شادی کرونگا۔" براق نے بدتمیزی سے کہا۔۔ "آواز نیچی رکھو براق خانزادہ تمہاری مرضی ہے شادی کرنا۔۔ لیکن ایک بات یاد رکھو اب مجھے تم حویلی میں نظر نہیں آؤ۔ ابھی کے ابھی اپنا بوریا بستر سمیٹ کر شہر نکلو" دادا نے بلند آواز میں کہا۔۔ دروازے کے باہر کھڑی عشاء دادا کی آواز پر کانپتی ہوئی کچن میں بھاگی۔۔ براق غصے سے پیر پٹختا ہوا حویلی سے نکل گیا۔۔ دو دن وہ حویلی سے باہر رہا۔ اور تیسرے دن آکر دادا کو شادی کے لیے رضامندی دے دی۔۔۔۔ جتنی تکلیف عشاء کو یہ جان کر ہوئی تھی کہ براق کسی اور سے محبت کرتا ہے۔۔۔ اس سے زیادہ تکلیف اسے براق کے ساتھ شادی پر ہو رہی تھی۔۔۔ عشاء بیڈ پر سمیٹ کے بیٹھی اپنے ہاتھ میں پہنے گجرے دیکھ رہی تھی۔۔ براق دروازہ کھول کر اندر آیا۔ آکر براق نے کوٹ اتار کر صوفے پر پھینکا اور عشاء کو دیکھا۔۔ جو دلہن بنی براق کو ہی دیکھ رہی تھی۔۔ "عشاء تم سب جانتی ہو اس لیے میں چاہوں گا تم مجھ سے کوئی امید نہیں رکھو" براق نے گھڑی اتار کر ڈریسنگ پر رکھی۔۔ "میں آپ سے پھر بھی ایک چیز چاہتی ہوں" عشاء نے اپنے آنسو اندر اتار کر کہا۔۔ "کیا" براق نے حیرانی سے پوچھا۔۔ "آپ مجھے عزت دیںگے ہمیشہ زلیل نہیں کرینگے میں آپ کے راستے میں نہیں آؤنگی۔ میری قسمت میں اگر آپ کی محبت نہیں ہے تو میں قسمت سے نہیں لڑ سکتی" عشاء اپنے آنسو چھپاتی گجرے نکالتی ہوئی کہنے لگی۔ براق جواب دیے بغیر واش روم میں چلا گیا۔۔۔ شادی سے پہلے جو تھوڑی بہت وہ عشاء سے باتیں کر لیتا تھا۔ شادی کے بعد براق نے وہ بھی چھوڑ دی تھی۔۔ پورا دن باہر رہتا تھا۔ رات کو کمرے میں آکر بھی سچ پر لگا رہتا۔۔ عشاء سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی انجان بن جاتی تھی۔۔۔ اس کا دل کرتا تھا جا کر وہ اپنے دادا کو بتائے۔۔ پر وہ کوئی تماشا نہیں چاہتی تھی۔ براق رات کے دس بجے گھر آیا تھا۔۔ تایا تائی اور دادا سو چکے تھے۔۔۔ عشاء ہال کے صوفے پر انتظار کرتی کرتی سو گئی۔ براق نے عشاء کو دیکھا اور سیڑھیاں چڑھ کر کمرے میں چلا گیا۔۔ عشاء کی آنکھ رات کے دو بجے تہجد کے لیے کھلی۔۔ تو ڈائنگ ٹیبل پر رکھے کھانے کو دیکھا جو ویسے ہی رکھا تھا۔۔ ہال میں ہی اسنے تہجد پڑھیں اسکا دل کمرے میں جانے کا نہیں کر رہا تھا۔۔ لیکن وہ ہال میں دوبارہ نہیں سو سکتی تھی صبح دادا دیکھ لیتے تو شرمات آ جانی تھی براق کی۔۔ بے دلی سے چلتی ہوئی کمرے میں آئی براق فون پر ہنستے ہوئے حورین سے بات کر رہا تھا۔۔ عشاء اسے دیکھ کر صوفے پر لیٹ گئی۔۔ صبح سات بجے عشاء کمرے سے باہر آئی تو براق آفس جانے کے لیے تیار کھڑا تھا۔۔ "میں ناشتہ بنا دیتی ہوں کر کے جائیے گا" عشاء نے براق کو دیکھ کر کہا جو آفس جاتے جاتے بھی فون دیکھ رہا تھا۔۔ "نہیں میں آفس میں ہی کرونگا" براق نے نظریں فون پر ہی رکھی۔۔ "رات میں کب تک آئینگے" عشاء نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔۔ "جاؤںگا تو پتا چلے گا نا کتنا کام ہے" فون جیب میں رکھتے ہوئے براق سرد لہجے میں بول کر باہر چلا گیا۔۔ عشاء اس کے پیچھے دروازے تک آئی براق اسے دروازے پر کھڑا دیکھ کر بے زاری سے دیکھتا ہوا چلا گیا۔۔ عشاء نے رات کے کھانے میں تین چار ڈش بنائی تھی۔۔ اسکا دل کہہ رہا تھا۔۔ براق آج جلدی آئے گا۔۔۔ ڈائنگ ٹیبل پر وہ گھر والوں کا کھانا رکھ رہی تھی۔۔ "عشاء بیٹا تم بھی بیٹھ کر کھاؤ سب کے ساتھ" تایا ابا اسے بار بار کچن سے کھانا لاتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔۔ "نہیں بڑے ابا مجھے بھوک نہیں ہے" عشاء نے دادا کی پلیٹ میں میٹھا نکالتے ہوئے کہا۔۔ "بیٹا اس بیغیرت کو پرواہ نہیں ہے تو کیوں اس کے لیے بھوکی رہتی ہے چل بیٹھ جا کر" دادا نے اسکا ہاتھ پکڑ کر ساتھ والی کرسی پر بٹھایا۔۔ عشاء پیچھا سا مسکرا کر پلیٹ میں چاول نکالنے لگی۔۔ "اکرم مجھے لگتا ہے میں نے اپنی بچی کے ساتھ غلط کر دیا تیرے بیٹے سے ویاہ کر کے" دادا رات کی چائے پیتے ہوئے سامنے بیٹھے بیٹے سے کہنے لگے۔۔ "ابا میں نے سمجھانے کی کوشش کی ہے براق کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتا ہے" اکرم نے شرمندگی سے باپ کو بتایا۔۔۔ "میں کیا منہ دکھاؤں گا اپنے بیٹے زاہد کو اسکے جانے کے بعد اسکی اولاد کی خوشی کا خیال نہیں رکھ سکا اس کا باپ" دادا نے دکھی ہو کر کہا۔۔ "کس نے کہا میں دکھی ہوں جب اتنے محبت اور خیال رکھنے والے دو بوڑھے میرے پاس ہے" عشاء نے کمرے میں آکر ہنستے ہوئے کہا۔۔ "اے لڑکی بوڑھا ہوگا تمہارا یہ تایا تمہارا دادا تو ابھی جوان ہے۔۔ اور تم ہماری باتیں سن رہی تھی" دادا نے رعب والی آواز نکال کر کہا۔۔ "نہیں دادا آپ بول ہی اتنا تیز رہے تھے کچن تک آواز آرہی تھی" عشاء نے خالی چائے کے کپ اٹھائے اور بول کر بھاگ گئی۔۔۔ براق نو بجے آفس سے آ گیا تھا۔۔ عشاء تائی کے ساتھ بیٹھے باتیں کر رہی تھی۔۔۔ براق کو دیکھ کر اسکے چہرے پر رونق آگئی اور وہ یہ سوچ کر خوش ہوگئی تھی۔۔ مجھے پتا تھا براق جلدی آئے گا۔۔۔




Download Complete Novel By Clicking download Button Below


DOWNLOAD