Sneak Peak From The Novel
"اسد پلیز رخصتی کروا لیں -" اسد کو اپنے کمرے کی طرف جاتا دیکھ کر شیزہ اس کے پیچھے لپکی تھی۔ اسد نے اسے کوفت بھری نگاہوں سے دیکھا۔ وہ اسد کا ہاتھ تھام کر منت بھرے لہجے میں گویا ہوئی۔ "میں اب اور نہیں چھپا سکتی اس خبر کو، میری حالت دن بہ دن بگڑتی جا رہی ہے میں اپنے اندر رونما ہونے والی تبدیلیوں کو کہاں تک کسی سے چھپا پاؤں گی یا تو آپ رخصتی کی بات کریں گھر میں یا پھر سب کو سچ بتا دیں جیسے جیسے وقت گزرتا جائے گا سب کو معلوم ہو جائے گا کہ میں پریگننٹ ہوں۔"
روز کی طرح آج بھی شیزہ اسے سمجھا رہی تھی کہ وہ گھر میں سب کو سچ بتا دے، بتا دے اپنے اور شیزہ کے تعلق کے بارے میں، لیکن وہ تھا کہ ٹالتا ہی جا رہا تھا۔ وہ دونوں کزن ایک ہی گھر میں رہتے تھے بچپن میں ان کا نکاح ہو گیا تھا وہ دونوں ساتھ ایک ہی یونیورسٹی میں پڑھتے تھے شیزہ بہت پڑھاکو لڑکی تھی لیکن اسد بہت عیاش ضدی جنونی انسان تھا پڑھائی میں اسے خاص دلچسپی نہیں تھی بس اسے ڈگری چاہیے تھی جو وہ نقل کر کے بہ آسانی حاصل کر سکتا تھا۔ شیزہ اس سے فاصلہ بنائے رکھتی تھی یونیورسٹی میں زیادہ تر لڑکوں کی اکثریت شیزہ کے اچھے مزاج اور خوش شکل ہونے کی وجہ سے اسے پسند کرتی اور یہ بات اسد کو ہر گز گوارہ نہ تھی، شیزہ کا اسد سے محتاط انداز اس کے اندر آگ بھڑکائے رکھتا تھا۔
اس نے ایک دن دھوکے سے شیزہ کو اپنے کمرے میں بلا کر اس کے ساتھ زبردستی کی اور اب وہ اسے آئے دن بلیک میل کرتا رہتا اور اپنا شوہر ہونے کا حق وصول کر چکا تھا۔ ان دونوں کے اس خفیہ تعلق کو دو ماہ گزر چکے تھے گھر میں کسی کو یہ بات معلوم نہیں تھی اور اب ایک ماہ پہلے ہی شیزہ کو خبر ملی تھی کہ وہ پریگننٹ ہے تو اس نے یہ بات اسد کو بتائی مگر اس کا رد عمل لاپرواہی تھا وہ بات ٹالتا رہتا۔ اب بھی شیزہ اس کی منت کر رہی تھی کہ وہ گھر میں یہ بات سب کو بتا دے جب اچانک اسد کی نگاہ کمرے کے باہر دروازے پر کھڑی اپنی ماں پر گئی تو وہ گھبرا ہوا الٹا الزام شیزہ پر لگا گیا۔
"کیا بکواس کر رہی ہو تم؟" اس نے بے دردی سے شیزہ کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہا۔ "تمہیں ایسی حرکت کرتے شرم نہیں آئی اور اب دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا، بے ہودہ عورت کسی اور کا گناہ میرے سر ڈال رہی ہو تاکہ باپ مجھے برا سمجھے اور گھر سے نکال دیں۔" وہ تلخی سے کہتا ہوا خود بری ہو کر سارا الزام شیزہ کے کھاتے میں ڈال گیا۔ شیزہ ساکت ہوئی اسکے بدلتے روپ کو دیکھ کر، وہ نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی جبکہ اسد کی ماں نے آگے بڑھ کر شیزہ کو زور دار تھپڑ مار دیا۔
"شرم نہیں آتی بے شرم لڑکی میرے بیٹے پر الزام لگانے آگئی ہو۔۔۔" تائی امی نے اسے اتنا زور دار طمانچہ مارا تھا کہ وہ لڑکھڑا کر گرتے ہوئے بچی تھی اپنے لال دہکتے ہوئے انگارہ گال پر ہاتھ رکھے وہ تائی امی سے روتے ہوئے کہنے لگی۔ "نہیں تائی امی یہ جھوٹ ہے جھوٹ بول رہا ہے اسد۔" وہ منمنائی۔ "اسد تم تائی امی کو سچ کیوں نہیں بتاتے۔" وہ اسد کا گریبان پکڑ کر جھنجھوڑنے لگی اسے سرزنش کرنے لگی۔ "بتاؤ تائی امی کو کہ یہ بچہ تمہارا ہے۔۔"
"اسد نے ایک جھٹکے سے اپنا گریبان چھڑایا اور شیزہ کو دھکا دیا۔ "بکواس مت کرو میں نہیں جانتا ہوں کہ تم کس کا گناہ میرے سر پر مسلط کرنا چاہتی ہو۔" تائی امی کی سرخ انگارہ آنکھوں میں دیکھتے ہوئے شیزہ روتے ہوئے بولی۔ "مم میرا یقین کریں مم۔ میں سچ کہہ رہی ہوں تائی امی میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔" وہ روتے گڑگڑاتے ہوئے اپنی صفائی دیتی رہی۔ تائی امی اسے گھسیٹ کر لے گئیں اور سارے گھر والوں کو اس کے کرتوت بتانے لگی۔
"ہمارے خاندان کی عزت کو خاک میں ملاتے ہوئے تمہیں شرم نہیں آئی اب تمہاری اس گھر میں کوئی جگہ نہیں نکل جاؤ یہاں سے۔" تایا ابو نے اسے سخت لہجے میں کہتے ہوئے گھر سے باہر پھینکا تھا۔ وہ ہاتھ جوڑتی رہی منت کرتی رہی مگر کسی نے اسکا یقین نہیں کیا اور شیزہ کو گھر سے نکال دیا۔ وہ یتیم سڑک پر تنہا چلی جا رہی تھی سارے وجود میں خوف کی لہر دوڑی ہوئی تھی جب وہ اپنے ہی گھر میں محفوظ نہیں رہ سکی تھی تو گھر سے باہر کیسے اور کب تک محفوظ رہتی، وہ بے بسی سے خدا کو مدد کے لئے پکارتی چلی جا رہی تھی کچھ نہ کھانے کی وجہ سے اب جسم میں توانائی بھی ختم ہو چکی تھی بھوک سے نڈھال وہ چکرا کر اچانک سڑک پر ہی بے ہوش ہو گئی۔ جب اسے ہوش آیا تو اس نے خود کو ایک انجانے کمرے میں پایا وہ بے چین ہو کر ارد گرد دیکھنے لگی مگر جیسے ہی نگاہ سامنے کھڑے شخص پر اٹھی اسکی روح فنا ہوئی۔ "میری باتیں نہ ماننے کا انجام دیکھ لیا۔۔۔۔۔۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"مجھے ایک کپ کافی بنا کر دے دو۔" اسد نے اسے حکم کیا تو وہ سٹپٹا کے رہ گئی۔ "مگر۔" وہ منع کرنے ہی لگی تھی جب اسد یکدم بول پڑا۔ "تو کیا اب اتنا بھی اختیار نہیں مجھے کہ تمھیں ایک کپ کافی کا کہہ دوں۔۔۔" شیزہ نے سرد آہ بھری اور کہا۔ "اچھا ٹھیک ہے میں بناتی ہوں۔۔" "شیزہ کے مان جانے پر اسد کی آنکھوں میں چمک آئی۔" "میرے کمرے میں لے آنا۔۔" شیزہ کو حکم دیتا ہوا وہ چلا گیا اور شیزہ کچن میں چلی گئی۔
شیزہ نے کافی بنا کر اسد کے کمرے کے باہر دستک دی۔ اسد نے اندر سے جواب دیا۔ "میں واش روم میں ہوں تم روم میں رکھ کر چلی جاؤ۔۔" اسد کی بات سن کر شیزہ نے کچھ سوچ کر اس کے کمرے کا دروازہ کھولا وہ واقعی کمرے میں نہیں تھا واش روم سے پانی گرنے کی آواز آ رہی تھی۔ شیزہ مطمئن ہو کر کمرے میں چلی گئی اور کافی کو بیڈ سائیڈ ٹیبل کے دراز پر رکھا وہ پلٹ کر جانے ہی لگی تھی جب کمرے کا دروازہ بند ہونے کی آواز سن کر چونکی۔ اسد اپنا روم لاک کر چکا تھا وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی جو تولیہ لپٹے ہوئے تھا اس کا جسم گیلا تھا اور بالوں سے بھی پانی ٹپک رہا تھا۔
شیزہ نے اس کی طرف سے رخ پھیرا وہ اس کی طرف دیکھنے سے گریز کرتی ہوئی بولی۔ "کہا کرتی ہو مجھے باہر جانے دو دروازہ کھولو۔۔" بولی۔۔ "یہ کیا حرکت ہے مجھے جانے دو دروازہ کھولو۔۔" اس نے ڈرنے کے بجائے مضبوط لہجے میں کہا تھا۔ اسد اپنے اور اس کے درمیان کا فاصلہ طے کرتا ہوا اس کے بے حد نزدیک کھڑا ہو گیا۔ اسد کی سانسیں شیزہ کو اپنے چہرے پر محسوس ہو رہی تھیں وہ گھبرا کر دو قدم پیچھے ہٹی۔ اسد اس کی اس حرکت پر مسکرا کر بولا۔ "میں شوہر ہوں تمھارا اتنا بھاگتی کیوں ہوں مجھ سے؟" اسد نے اسے ایکدم اپنی طرف کھینچا تھا وہ کسی پرندے کی طرح پھڑپھڑانے لگی۔ "دیکھو اسد یہ سب ٹھیک نہیں ہے مجھے جانے دو پلیز۔۔" شیزہ نے اب کی بار اس سے گزارش کی تھی۔ اسد کے حواسوں پر شیزہ کا دلربا حسن چھایا ہوا تھا وہ مدہوش ہو کر اسے اپنے بے حد قریب کر گیا۔ "اتنی مشکلوں سے تو ہاتھ آئی ہو ایسے کیسے جانے دوں۔ میرے نکاح میں ہو تم۔ تم پر حق ہے میرا۔" وہ گھمبیر لہجے میں کہتا ہوا اس کے گرد اپنی بانہوں کا حصار کھینچ چکا تھا۔
شیزہ اس کی بانہوں میں بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپتی رہی۔ "پلیز اسد مجھے جانے دو یہ ٹھیک نہیں ہے ابھی۔۔" وہ روتے ہوئے اس کی منت کرنے لگی مگر اسد اس کی صداؤں کو ان سنی کرتا ہوا اس پر جھکتا چلا گیا۔ شیزہ نے بہت کوشش کی تھی خود کو چھڑانے کی مگر اسد کے آگے اس کی ہر مزاحمت کمزور پڑ گئی اور اسد اسے حاصل کر گیا۔
رات کا جانے کون سا پہر تھا جب وہ اپنا دوپٹہ خود پر اچھے سے پھیلاتی ہوئی دبے پاؤں اسد کے کمرے سے باہر نکلی تھی صدا شکر تھا کہ سب سو رہے تھے اور کسی نے اسے دیکھا نہیں تھا وہ اپنے بے جان ہوتے ہوئے وجود کو بہت مشکل سے اپنے کمرے تک گھسیٹتے ہوئے لائی تھی۔۔۔۔ وہ خوب پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی مگر اس کا دل تھا کہ ہلکا ہی نہیں ہوتا تھا۔اگلے دو دن تک وہ گھر میں ہر شخص سے چھپتی رہی تھی کہ کہیں کوئی اس پر ٹوٹی قیامت کو نہ جان لے۔ وہ کسی کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی اس کا بس چلتا تو وہ خود کو مار لیتی مگر یہ بھی اس کے اختیار میں نہ تھا وہ کمزور تھی بہت کمزور اور اس کی اسی کمزوری کا فائدہ اسد نے اٹھایا تھا۔۔۔۔۔
کئی دنوں کے بعد اس کا سامنا اسد سے ہوا تھا جو اس کے سرد تاثرات دیکھ کر لاپرواہی سے بولا ۔ "اوہ کم آن شیزہ ۔ ہم نے کچھ غلط نہیں کیا تم بیوی ہو میری ۔ ہمارا نکاح ہو چکا ہے تم نہ خود گلٹ کرو اور نہ مجھے کراؤ ۔" اسد کی بے حسی پر شیزہ نے حیرانگی سے اسے دیکھا اور تلخی سے بولی ۔ "تمھیں لگتا ہے کہ تم نے کچھ غلط ہی نہیں کیا ۔ میری مرضی شامل نہیں تھی اس سب میں ۔ اور جب عورت کی مرضی شامل نہ ہو تو وہ کام غلط ہی ہوتا ہے ۔" وہ اسے جتا کر بولی مگر اسد پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا وہ ڈھیٹ بن کر کہنے لگا ۔ "اچھی بیویوں کو شوہر کی مرضی میں ہی راضی ہونا چاہیے ۔ کیا ہوا جو ہماری رخصتی نہیں ہوئی عین قریب ہو جائے گی ۔" اس نے لاپرواہی سے کندھے اچکائے۔۔۔۔
شیزہ اسے سرخ پڑتی انگارہ آنکھوں سے گھورتی رہی ۔ اسد اسے کبھی بھی پسند نہیں تھا مگر دادی کے کہنے پر اس نے یہ نکاح کر لیا تھا اس وقت اس میں اتنی عقل سمجھ بھی نہیں تھی جو کہا جاتا وہ مان لیتی تھی ۔ اب اکثر اسد یا تو رات کو اس کے کمرے میں داخل ہو جاتا یا پھر اسے بلیک میل کر کے اپنے کمرے میں بلا لیتا وہ اب شیزہ سے اپنے شوہر ہونے کا حق وصول کرنے لگا تھا اس نے شیزہ کو تسلی دی تھی کہ وہ جلد گھر میں رخصتی کی بات کرے گا شیزہ اس کی ضد اور من مانی کے آگے ہار جاتی تھی مگر جب ان دونوں کے اس خفیہ تعلق کو دو ماہ گزرے تو شیزہ پر ایک بہت بڑا انکشاف ہوا ۔ اس کا جی متلانے رہا تھا اور اسے الٹیاں لگ رہی تھیں وہ اپنی کیفیت بھانپ کر خوفزدہ ہو گئی اس نے یونیورسٹی کے بعد اسد کو اپنی حالت کے بارے میں بتایا ۔ اسد بھی ایک لمحے کے لیے پریشان ہو گیا اور اسے چیک اپ کرانے ہسپتال لے گیا جہاں ڈاکٹر نے اس کے حاملہ ہونے کی تصدیق کر دی تھی ۔ اب شیزہ اسے زور دیتی کہ وہ گھر میں اس کی رخصتی کی بات کرے یا ان دونوں تعلقات کے بارے میں سب کو سچ بتا دے مگر اسد اسے صرف جھوٹی تسلیاں دے کر ٹالتا رہا۔۔۔۔۔
جب اسے ہوش آیا تو اس نے خود کو ایک انجانے کمرے میں پایا وہ بے چین ہو کر ارد گرد دیکھنے لگی مگر جیسے ہی نگاہ سامنے کھڑے شخص پر اٹھی اسکی روح فنا ہوئی ۔ "میری باتیں نہ ماننے کا انجام دیکھ لیا ۔ کتنا سمجھایا تھا تمھیں صبر کرو سب ٹھیک کر دوں گا مگر نہیں تمھیں تو صبر ہی نہیں تھا ۔ بھگت لو اب ۔" اسد لاپرواہی سے کہتا ہوا اس کے تن بدن میں آگ لگا گیا وہ غصے سے اٹھنے لگی تھی مگر کمزوری اور نقاہت محسوس کر کے اٹھ نہ سکی ۔ "شرم آنی چاہیے تمھیں ۔" وہ غصے سے کہتے ہوئے چلائی ۔ "تم جیسا بے حس انسان میں نے اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھا ۔ اب یہاں کیوں لائے ہو مجھے ۔" وہ غصے سے چلائی ۔ اسد مسکرا کر بولا ۔ "خیر اب اتنا بھی بے حس نہیں ہوں میں کہ اپنی پریگننٹ بیوی کو یوں سڑک پر چھوڑ دیتا۔۔" شیزہ نے سپاٹ لہجے میں کہا ۔ "میں لعنت بھیجتی ہوں تم جیسے انسان پر ۔ جس نے سب کے سامنے اپنے بچے کو گالی دی اور اب آئے ہو حق جتانے ۔ مجھے تم جیسے انسان کی کوئی مدد نہیں چاہیے میں یہاں نہیں رہوں گی ۔" اسد نے اس کی طرف قدم بڑھائے اور سنجیدگی سے بولا ۔ "تم کیا چاہتی تھی میں سب کے سامنے اس بچے کو اپنی اولاد مان لیتا تاکہ ان سب کی نظروں میں گر جاتا۔" شیزہ نے اسے ملامت بھری نگاہوں سے دیکھا اور غصے سے بولی۔ "کیوں پہلے تو تمھارے نزدیک یہ سب غلط نہیں تھا تم ہی کہہ رہے تھے نا ہم میاں بیوی ہیں سب جائز ہے پھر اپنی جائز اولاد کو تم سب کے سامنے قبول کیوں نہیں کر سکے۔۔" وہ طیش میں اسد کا گریبان پکڑ کر جھنجھوڑنے لگی۔
سد نے اسے دھکا دے کر بیڈ پر گرا دیا۔ "کر لوں گا قبول بھی فلحال اپنی بکواس بند کرو۔ تمھاری ان ہی جلد بازیوں نے سب کام خراب کیا ہے۔ اب خاموشی سے یہاں رہو جب تک میں اس معاملے کو سلجھا نہیں لیتا۔۔" اسد اسے سخت لہجے میں ہدایت کر کے چلا گیا اور وہ بے بسی سے وہاں پڑی آنسو بہاتی رہی۔ اس کے کردار پر جو داغ اس کے شوہر نے لگایا تھا کوئی بھی اس داغ کو مٹا نہیں سکتا تھا وہ اپنی جائز اولاد کو بھی اس کا جائز حق نہیں دلا سکتی تھی۔ یہ معاشرہ اس پر اور اس کی اولاد پر خوشیوں کو تنگ کر سکتا تھا۔ اپنی ہی اولاد کو لوگوں کی نظروں میں مشکوک بنانے والا اس کا سنگدل شوہر اب بھی لاپرواہ نظر آرہا تھا۔
Sheiza was desperate for Asad to arrange her rukhsati (the formal departure of a bride to her husband’s home) because she could no longer hide her pregnancy from their family. She begged him to either announce their relationship or tell everyone the truth before her changing condition became obvious. Asad and Sheiza were cousins who had been married in childhood and lived under the same roof, but their personalities were completely different. Sheiza was a hardworking university student, while Asad was arrogant, reckless, and possessive. Unable to tolerate the attention Sheiza received from other boys, Asad had taken advantage of her trust and repeatedly forced himself on her despite her resistance, using their secret marriage to justify his actions. When Sheiza discovered she was pregnant, Asad initially took her for a medical checkup, but afterward he kept postponing the announcement of their relationship. One day, when his mother overheard Sheiza pleading with him, Asad cruelly denied everything and accused her of carrying another man’s child. His mother slapped Sheiza, and the family refused to believe her desperate explanations. Her uncle ultimately threw her out of the house, leaving the pregnant, orphaned girl alone on the streets with nowhere to go.
Sheiza wandered helplessly until exhaustion and hunger caused her to collapse on the road. When she regained consciousness, she found herself in an unfamiliar room with Asad standing before her. Instead of apologizing for abandoning her, he blamed her for being impatient and insisted that she should have waited for him to resolve the situation. Sheiza confronted him furiously, reminding him that he had publicly disowned their unborn child and destroyed her reputation to protect himself. Asad defended his actions by claiming that he could not admit the pregnancy in front of his family without damaging his standing in their eyes. Sheiza bitterly pointed out that he had previously insisted their marriage made their relationship legitimate, so why was he now ashamed to acknowledge his own child? Asad remained unmoved by her pain and ordered her to stay in the room until he could settle the matter. Sheiza was devastated that the very man who should have protected her had become the source of her suffering. Despite being legally married to him, she had been forced into a situation where she could neither defend her dignity nor secure her unborn baby’s rightful place in the family.
The memories of how their secret relationship began continued to haunt Sheiza. Asad had once deceived her into entering his room, where he forced himself on her despite her repeated pleas to let her go. Later, he dismissed her trauma by claiming that she was his wife and that nothing wrong had happened between them. Sheiza firmly told him that without her consent, his actions were wrong, regardless of their marriage. However, Asad continued exploiting her vulnerability, either entering her room at night or blackmailing her into meeting him privately. When she eventually discovered her pregnancy, she hoped that he would finally take responsibility and arrange their rukhsati, but his promises proved empty. Now abandoned by her family and betrayed by her own husband, Sheiza feared that society would question both her character and her child’s legitimacy, even though the baby was Asad’s own. Asad continued to prioritize his reputation over her suffering, leaving Sheiza heartbroken, frightened, and uncertain about her future.
Download Complete Novel By Clicking download Button Below