Meri Wafa Tum Se By Rabiya Janzaib - Urdu Novelians

Urdu Novelians

Novel NameMeri Wafa Tum Se
WriterRabiya Janzaib
CategoryRevenge Based

Most Attractive Sneak Peak Of Meri Wafa Tum Se By Rabiya Janzaib

"Give me back my dupatta." "Why don't you want the right??? You were so eager to become my wife, now I will give you the right." Rustam unbuttoned his shirt and threw Rumisa on the bed, taking her lips in his captivity. She was the daughter of his secretary who had accused Rustam of rape and married her...
"Tell me whose child is in your belly?? Who did you have a bad relationship with that you blamed on me???" He shouted, pulling the hem of her saree from the front, putting his hand on her stomach and feeling the baby's heartbeat...
"Mm...Mm...I am not pregnant, I lied, I loved you and I am not with anyone else..." She had just said that when Rustam suddenly leaned over her lips. "You are probably forgetting who you are. If you tell me, I will remind you?" Rustam Shah fixed his deep gaze on the delicate girl standing in front of him and said...
Who could have made anyone fall in love with her in a black saree at that moment. But in front of him was Rustam Shah. Rumisa, with a faint smile on her makeup-free, beautiful face, said, "Yes, I know, I am Rustam Shah's wife." Saying this, she grabbed the collar of Rustam Shah's coat with a gesture and brought him closer to her.
A wave of anger immediately ran across Rustam Shah's face. He jerked Rumisa's hands away from him and pushed her away, who fell straight onto the bed. Before Rumisa could recover, Rustam Shah gritted his teeth and glared at her, "No, you can't be my wife. You got me by deception! Your status in this house is nothing more than the daughter of a maid, and you will remain that, nothing more, you will never be able to have me, understand?" Rustam Shah's voice was so harsh that Rumisa fell silent.
"And you can't make me crazy by wearing this vulgar dress.. There is no place in my heart for a girl like you!" Saying this, he took off his coat and started walking towards the washroom. But Rumisa quickly got up and grabbed him from behind. She placed her hands on Rustam's chest, and said in a tearful voice, "The method was wrong, but I love you. I can't live without you. If I saw you with someone else, I would die...then how could I let you marry someone else?"
She was crying profusely, and was trying to bring Rustam closer. Rustam's heart softened for a moment, but soon he remembered what had happened a short while ago. He immediately removed Rumisa's hands from his chest and cast a cold glance at her face, which had turned red from crying. Rustam held Rumisa's face in both his hands and whispered softly.
"Don't you realize what I can do to you? After destroying my honor, you are claiming love? Haven't you thought about what the punishment for this crime will be?" There was a mixed expression of anger and helplessness in Rustam's eyes, he kept looking at Rumisa's face... Rumisa placed her hands on both his hands and took a deep breath and said...
"I agree, I agree to all your punishments, whatever punishment you want to give me, I will endure all the punishments but I can never bear being away from you. Please forgive me, now we start a new life." She said anxiously holding Rustam's face with her hands. The next moment after hearing her words, Rustam separated from her and frowned and started looking at her.
"What are you talking about? Should I forget that you have violated my honor? You have humiliated me in front of everyone! Will you testify to everyone that you were a liar? I can never forget all that! What else did you say? Will you endure the punishment? Okay, let's see how long you endure this punishment. Now I will give you such a punishment that you will remember for the rest of your life. You will cry every day and regret why you committed this crime!" Saying this, Rustam quickly started unbuttoning his shirt. Rumisa's face changed color upon realizing the meaning of his words.

Urdu Sneak Peek

" میرا دوپٹہ واپس کریں۔" " کیوں حق نہیں چاہیے تمہیں؟؟؟ بہت شوق تھا نا میری بیوی بننے کا اب حق تو دوں گا۔۔" رستم اپنے شرٹ کے بٹن کھولتا رومیسہ کو بیڈ پہ پھینکتا اس کے لبوں کو اپنی قید میں لے چکا تھا۔ وہ ان کے منشی کی بیٹی تھی جس نے رستم پر زیادتی کا الزام لگا کر اس سے نکاح کیا تھا۔۔۔
" بولو کس کا بچہ ہے تمہارے پیٹ میں؟؟ کس کے ساتھ منہ کالا کیا تھا تم نے جس کا الزام تم نے میرے سر ڈال دیا؟؟؟ " وہ چیخی آگے سے اس کی ساڑھی کا پلو کھینچتا اس کے پیٹ پہ ہاتھ لگاتا بچے کی دھڑکن محسوس کرنے لگا۔۔۔۔
" مم۔۔۔۔۔مم۔۔۔۔۔میں پریگننٹ نہیں ہوں میں نے جھوٹ بولا تھا میں آپ سے محبت کرتی تھی اور میں آپ کو کسی اور کے ساتھ نہیں۔۔۔۔ "ابھی اس نے اتنا ہی کہا تھا کہ رستم ایک جھٹکے سے اس کے ہونٹوں پر جھک گیا۔۔"تم شاید بھول رہی ہو کہ تم کون ہو۔ اگر کہو تو یاد دلا دوں؟" رستم شاہ نے اپنی گہری نظریں سامنے کھڑی اس نازک سی لڑکی پر جماتے ہوئے کہا۔۔۔
جو اس وقت سیاہ ساڑھی میں کسی کو بھی اپنا گرویدہ بنا سکتی تھی۔ لیکن سامنے رستم شاہ تھا۔ رومیسہ نے ایک خفیف مسکراہٹ اپنے میک اپ سے پاک، خوبصورت
چہرے پر سجاتے ہوئے کہا، "ہاں، جانتی ہوں، میں رستم شاہ کی بیوی ہوں۔" یہ کہتے ہوئے وہ ایک ادا سے رستم شاہ کے کوٹ کے کالر کو پکڑ کر اسے اپنے قریب لے آئی۔
رستم شاہ کے چہرے پر فوراً غصے کی ایک لہر دوڑ گئی۔ اس نے جھٹکے سے رومیسہ کے ہاتھ اپنے وجود سے دور ہٹائے اور اسے دور دھکیل دیا، جو سیدھی بیڈ پر جا گری۔ اس سے پہلے کہ رومیسہ سنبھلتی، رستم شاہ نے دانت پیستے ہوئے اور سخت نظریں جماتے ہوئے کہا، "نہیں، تم میری بیوی نہیں ہو سکتی۔ تم نے دھوکے سے مجھے حاصل کیا ہے! تمہاری حیثیت اس گھر میں ایک ملازمہ کی بیٹی سے زیادہ کچھ نہیں ہے، اور تم وہی رہو گی، اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے، تم مجھے کبھی نہیں پا سکو گی، سمجھی؟" رستم شاہ کی آواز میں اتنی سختی تھی کہ رومیسہ ساکت ہو گئی۔
" اور یہ بے ہودہ لباس پہن کر تم مجھے اپنا دیوانہ نہیں بنا سکتی.. میرے دل میں تم جیسی لڑکی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے!" وہ یہ کہتے ہوئے کوٹ اتار کر واشروم کی طرف بڑھنے لگا۔ مگر رومیسہ تیزی سے اٹھی اور پیچھے سے اسے پکڑ لیا۔ اس نے اپنے ہاتھ رستم کے سینے پر رکھ دیے، اور آنسوؤں سے لبریز آواز میں بولی، "طریقہ غلط تھا، پر میں آپ سے محبت کرتی ہوں۔ آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ اگر آپکو کسی اور کے ساتھ دیکھتی تو مر جاتی۔۔۔۔پھر کیسے آپ کی شادی کسی اور سے ہونے دیتی؟"
وہ بلک بلک کر رو رہی تھی، اور رستم کو مزید قریب کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ رستم کا دل پل بھر کے لیے نرم پڑا، مگر جلد ہی اسے یاد آیا کہ تھوڑی دیر پہلے کیا ہوا تھا۔ اس نے فوراً رومیسہ کے ہاتھ اپنے سینے سے ہٹا دیے اور ایک سرد نظر اس کےچہرے پر ڈالی، جو رو رو کر سرخ ہو چکا تھا۔ رستم نے رومیسہ کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھاما اور دھیرے سے سرگوشی کی۔۔
" تمہیں ذرا بھی احساس نہیں ہوا کہ میں تمہارا کیا حال کر سکتا ہوں؟ میری عزت کو خاک میں ملانے کے بعد تم محبت کا دعویٰ کر رہی ہو؟ کیا تم نے سوچا نہیں کہ اس جرم کی سا کیا سزا ہوگی؟" رستم کی آنکھوں میں غصے اور بے بسی کا ملا جلا تاثر تھا، وہ رومیسہ کے چہرے کو دیکھتا رہا۔۔۔ رومیسہ نے اس کے دونوں ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھے اور گہری سانس لے کر کہنے لگی کہ۔۔۔
" منظور ہے، مجھے آپ کی ساری سزائیں منظور ہیں، آپ مجھے جو سزا دینا چاہتے ہیں، میں ساری سزائیم سہ لوں گی لیکن آپ سے دوری میں کبھی بھی برداشت نہیں کر سکتی۔ پلیز مجھے معاف کر دیں، اب ہم زندگی کی نئی شروعات کرتے ہیں۔" وہ بے چینی سے رستم کے چہرے کو اپنے ہاتھوں سے تھام کر بولی تھی اس کی باتیں سن کر اگلے ہی پل رستم اس سے الگ ہوا تھا اور بھنویں سکیڑ کر اسے دیکھنے لگا تھا۔
"کیسی بات کر رہی ہو؟ کیا میں بھول جاؤں کہ تم نے میری عزت کی دھجیاں اڑائی ہیں؟ سب کے سامنے مجھے ذلیل کیا ہے! کیا تم سب کو گواہی دوگی کہ تم جھوٹی تھی؟ میں وہ سب کبھی بھی بھول نہیں سکتا! اور کیا کہا تم نے؟ تم سزا برداشت کر لو گی؟ ٹھیک ہے، دیکھتا ہوں کہ تم کب تک یہ سزا برداشت کرتی ہو۔ اب میں تمہیں ایسی سزا دوں گا کہ تمہیں ساری زندگی یاد رہے گی۔ تم روز روؤ گی اور پچھتاؤ گی کہ آخر تم نے یہ جرم کیوں کیا تھا!" یہ کہتے ہوئے رستم نے جلدی سے اپنی شرٹ کے بٹن کھولنا شروع کر دیے تھے۔ اس کی بات کا
مطلب جان کر رومیسہ کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔۔۔۔

Ready to Download?

Secure links will be generated after verification