Sazish E Dill By Umme Hani - Urdu Novelians Complete PDF

Urdu Novelians
Novel NameSazish E Dill
WriterUM
CategoryKidnapping Based

Most Attractive Sneak Peak Of Sazish E Dill By UM

"I have five thousand rupees. I will give you all the money. Let me go," she said sobbing, and Zaran Shah looked at her as if she were turned to stone. She had stepped out of the mansion for the first time in her life in fear. Because she had no status in the Khan mansion because her mother had run away with her father and married him. Till today, no one had accepted her, but she had only fled from the mansion after being persecuted by her aunts, but she had ended up in the hands of the Khan mansion's biggest enemy. Seeing the cruelty he intended to inflict on her, her innocence turned to stone. "So much money. Where did it come from?" Zaran asked curiously, seeing her innocence.
"How can you people be so careless??" "Malik Sahib is an innocent and young girl. That's all. That's why.." "Damn it." He said angrily. "Let's see now. Who is it. And what use can it be to us.." He said as he moved inside, his steps continued to increase towards the room where she was imprisoned. When the door opened, she was shocked and sat up straight and saw the person standing in front of her. Is this the person for whom she was kidnapped, but why?? For money? The haveli people won't even give a penny for that...
"Why have I been brought here?" She was asking while looking at him. "I am Zaran Shah." He introduced himself, as if he had probably heard the name. That he was her family and a very old enemy. But she just looked at him with innocence and simplicity. "Your name?" "My name is... Warda." "She said fearfully. "Warda?" She meant to know her father's name. "Warda Ali Yar Khan." When she told him, he raised an eyebrow and smiled sarcastically, but Warda's heart sank even more. "Well, you are Ali Yar's daughter?" He laughed. "Why have you brought me here?" "We have brought you here because we have a lot of debts to pay to you..." He stopped right in front of her, tied both his hands on his back, and leaned towards her, so she backed away. She was suddenly very scared. "I have five thousand rupees. I will give you all the money, let me go." She said sobbing, and Zaran Shah looked at her like a stone. Then he narrowed his eyes. "Five thousand?" "Yes... Please let me go, I escaped from there with such difficulty and your men caught me." He listened to her very carefully and kept nodding his head, then straightened up, signaling her to be quiet. "Where did so much money come from?" Seeing her innocence, Zaran asked with interest. "Please let me go." She spoke in a pleading tone, looking at him with tearful eyes. "Who is Sher Banu?" "She is a maid in the mansion." When she said this, Zaran looked at her in confusion. "So why did she give you so much money?" He suddenly became interested in this girl. "And what is this slap mark? Don't the people of the mansion treat you well?" He suddenly started asking curiously. Suddenly his mind started racing. "No. No one loves me. They hate me...that's why Sher Banu said I should do something for myself. And halfway through, you people caught me. Those people won't give you a single rupee for me." She said finally, wiping her tears, and she looked at her lover sitting in front of her with sparkling eyes. She immediately took out her phone and took a picture of his face. She did it so cleverly that Warda couldn't understand anything. "What are you doing???" "I am a lawyer...if you want, you can hire me. I will get you your rights from the haveli people and avenge all the injustices done to you." "But how?" she was asking with uncertainty. "Because innocent girl! I am also a lawyer." She had added to Warda's information. "And your fee?" I will take that too. " He informed with a smile. "Relax! I will come back tomorrow." Saying this, he left there, his face shining with the joy of expected victory. While she was sitting confused. She could not understand anything. "Take care of her... I am shifting her to Islamabad in the morning..." He was saying and his men were looking at him in surprise. "Why Malik Sahib?" One of them said. "What do you mean? Maybe Malik has liked the girl." One whispered in the other's ears, to which Zaran gave him a stern look, then he immediately followed another man. "Do what you have said... There is no need to talk too much nonsense." He sternly rebuked them and started moving outside. They all watched her go with confused eyes. "I'm telling the truth, the owner has liked her." "Have you seen her condition? Is there anything the owner likes? Where is such a thin girl wearing old clothes and where is our owner?" "That's right." He was saying, and inside she was looking at the fan spinning on the ceiling, tied to a rope.

Urdu Sneak Peek

"میرے پاس پانچ ہزار روپے ہیں۔۔ میں سارے پیسے تمہیں دے دوں گی مجھے جانے دو" وہ سسکیاں لیتے بولی تو زاران شاہ پتھر ہوتا اسے دیکھنے لگا۔ وہ ڈرتے ڈرتے زندگی میں پہلی بار حویلی سے باہر نکلی تھی۔ کیونکہ اس کی خان حویلی میں کوئی حیثیت نہیں تھی کیونکہ اس کی ماں نے اس کے باپ کے ساتھ بھاگ کر شادی کی تھی۔ آج تک کسی نے قبول نہیں کیا تھا بلکہ وہ صرف چچیوں کے ظلم کا شکار ہوتے آخر میں حویلی سے بھاگی تھی پر خان حویلی کے سب سے بڑے دشمن کے ہاتھ لگی تھی۔ وہ جو کچھ اذیت ناک کرنے کا ارادہ رکھتا تھا اس کی معصومیت دیکھ پتھر ہو گیا تھا۔ " اتنے سارے پیسے ۔۔ کہاں سے آئے " اس کی معصومیت کو دیکھتے زاران نے دلچپسی سے پوچھا۔
" تم لوگ اتنی لا پروائی کیسے کر سکتے ہو؟؟ " " مالک صاحب ایک معصوم اور چھوٹی لڑکی ہے ۔۔ اس لیے بس ۔۔" " لعنت ہو ۔۔" وہ غصے سے بولا۔" دیکھتے ہیں اب ۔۔ ہے کون ۔۔ اور ہمارے کس کام آسکتی ہے ۔۔" وہ کہتے ہوئے اندر کی طرف بڑھا اس کے قدم اسی کمرے کی جانے بڑھتے گئے جہاں پر وہ قید تھی۔ دروازہ کھلا تو وہ جھٹکا کھا کر سیدھی ہوئی اور سامنے کھڑے شخص کو دیکھا۔ کیا یہی وہ شخص ہے جس کے لیے اسے اغوا کیا گیا ہے لیکن کیوں ؟؟ پیسے کے لیے؟ اس کے لیے تو حویلی والے چاونی بھی نہیں دیں گے۔۔۔
" مجھے یہاں کیوں لایا گیا ہے ؟" وہاس کی طرف دیکھتی سوال کر رہی تھی۔ " میں زاران شاہ ہوں۔۔ "اس نے اپنا تعارف کروایا کہ شاید نام تو سنا ہی ہو گا ۔ کہ وہ ان کا خاندانی اور بہت پرانا دشمن ہے۔ لیکن وہ یوں ہی معصومیت اور سادگی سے اسے دیکھے گئی۔ "تمہارا نام ؟'' " میرا نام ۔۔ وردہ ہے ۔۔ " وہ ڈرتے ڈرتے بولی۔ " وردہ؟" اس کا مقصد اس کے باپ کا نام جاننا تھا۔ " وردہ علی یار خان ۔۔" اس نے بتایا تو وہ ایک ابرو اچکائے طنزیہ انداز میں مسکرایا اس کے اندر پر وردہ کا دل مزید ڈوبا۔ "اچھا تو تم علی یار کی بیٹی ہو ؟" وہ ہنس دیا۔ " آپ لوگ مجھے یہاں کیوں لائے ہیں ۔۔" "ہم تمہیں یہاں اس لیے لائے ہیں کیوں کہ ہمارے بہت حساب نکلتے ہیں تمہاری طرف۔۔۔" وہ قدم قدم چلتا اس کے عین سامنے رکا اور دونوں ہاتھ اپنی پیٹھ پر باندھتا اس کی طرف جھکا تو وہ پیچھے کھسکی۔ وہ یک دم بری طرح ڈری تھی۔ " میرے پاس پانچ ہزار روپے ہیں۔۔ میں سارے پیسے تمہیں دے دوں گی مجھے جانے دو۔۔" وہ سسکیاں لیتے بولی تو زاران شاہ پتھر ہوتا اسے دیکھنے لگا۔ پھر آنکھیں سکیڑیں۔" پانچ ہزار؟ " " جی ۔۔۔ پلیز مجھے جانے دیں میں اتنی مشکل سے جان بچا کر وہاں سے بھاگی اور آپ کے آدمیوں نے مجھے پکڑ لیا۔۔" وہ بہت غورسے اسکی بات سنتا سر ہلاتا رہا پھر اس کو چپ کرنے کا اشارہ کرتے سیدھا ہوا۔ '' اتنے سارے پیسے ۔۔ کہاں سے آئے" اس کی معصومیت کو دیکھتے زاران نے دلچپسی سے پوچھا۔ " پلیز مجھے جانے دیں۔۔" وہ آنسو بھری آنکھوں سے اسے دیکھتی منت آمیز لہجے میں بولی۔ "شیر بانو کون ہے؟ " " حویلی کی ملازمہ ہے۔۔ " اس نے کہا تو زاران نا سمجھی سے اسے دیکھے گیا۔ " تو اس نے تمہیں اتنے سارے پیسے کیوں دیے۔۔" اسے یک دم اس لڑکی میں دلچسپی پیدا ہوئی۔ " اور یہ تھپڑ کا نشان کیسا ہے؟؟ کیا حویلی والے تم سے اچھا سلوک نہیں کرتے؟ " وہ یک دم تجسس سے پوچھنے لگا یک دم ہی اس کا ذہن تیزی سے چلنے لگا تھا۔ " نہیں ۔۔ کوئی بھی مجھ سے پیار نہیں کرتا ۔۔ نفرت کرتے ہیں مجھ سے ۔۔۔اس لیے شیر بانو نے کہا میں اپنے لیے کچھ کروں ۔۔ اور آدھے راستے میں ہی آپ لوگوں نے مجھے پکڑ لیا۔۔ میرے لیے تو وہ لوگ آپ لوگوں کو ایک روپیہ بھی نہیں دیں گے ۔۔ " اس نے آخر میں اپنے آنسو پونچھتے ہوئے کہا تو وہ چمکتی آنکھوں سے سامنے بیٹھے اپنے مہرے کو دیکھتا رہا۔ اس نے فوراً اپنا فون نکالا اور اس کے چہرے کی تصویر لی اس نے یہ اتنی ہو شیاری سے کیا کہ وردہ کچھ سمجھ ہی نہ سکی۔ " یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟؟؟ " " میں وکیل ہوں۔۔۔۔ تم چاہو تو مجھے ہائیر کر سکتی ہو ۔۔ میں تمہیں حویلی والوں سے تمہارا حق دلاؤں گا اور تمہارے ساتھ ہوئی ساری نا انصافیوں کا بدلہ دلاؤں گا۔۔" " لیکن کیسے؟۔۔۔ " وہ بے یقینی سے پوچھ رہی تھی۔ " کیوں کہ معصوم لڑکی! میں ایک وکیل بھی ہوں۔۔" اس نے وردہ کی معلومات میں اضافہ کیا تھا۔ " اور آپ کی فیس ؟'' وہ بھی میں لوں گا ۔۔ " مسکرا کر اطلاع دی " آرام کرواب! میں کل واپس آؤں گا۔۔ " کہتے ہوئے وہ وہاں سے نکلا تو چہرہ متوقع فتح کی خوشی سے چمک رہا تھا۔ جبکہ وہ الجھی ہوئی بیٹھی تھی۔ اس کی سمجھ میں کچھ بھی نہیں آرہا تھا۔ " اس کا خیال رکھو۔۔۔۔ میں صبح اسے اسلام آباد شفٹ کر رہا ہوں۔۔۔ " وہ کہہ رہا تھا اور اس کے آدمی حیرت میں گھرے اسے دیکھ رہے تھے۔ " ک۔۔ کیوں مالک صاحب۔۔" ان میں سے ایک بولا ۔ "کیا مطلب کیوں شاید مالک کو لڑکی پسند آگئی ہے ۔۔ " ایک نے دوسرے کے کانوں میں سرگوشی کی جس پر زاران نے اسے سخت گھوری سے نوازا تو وہ فور سہم کر ایک دوسرے آدمی کے پیچھے ہوا۔ " جو کہا ہے وہ کرو ۔۔۔ زیادہ فضول باتیں کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔ " اس نے سختی سے انھیں جھڑکا اور باہر کی طرف بڑھنے لگا۔ وہ سب اسے الجھن بھری نظروں سے جاتے ہوئے دیکھتے رہے " میں تو صحیح کہہ رہا ہوں مالک کو پسند آگئی ہے ۔۔ " " حالت دیکھی ہے اس کی تم نے؟ پسند کرنے لائق کچھ ہے مالک صاحب کے ۔۔ کہاں ایسی دبلی پتلی پرانے کپڑے پہنے ہوئی لڑکی اور کہاں ہمارے مالک صاحب ۔۔" " بات تو ٹھیک ہے۔۔" وہ کہہ رہا تھا اور اندر وہ ٹکٹکی باندھے چھت پر گھومتے پنکھے کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔

Ready to Download?

Secure links will be generated after verification