Ishqan De Likhey By Afsheen Sheikh - Urdu Novelians

Urdu Novelians
Novel NameIshqan De Likhey
WriterAfsheen Sheikh
CategoryForced Marriage Based

Most Attractive Sneak Peak Of Ishqan De Likhey By Afsheen Sheikh

"Get out of here!" Mahir Shah roared with rage as soon as he entered the room, seeing his eleven-year-old bride. He was forcibly married to a girl to seize his uncle's property. "Mahir Lala!" Ruba came to him crying, but he controlled himself without wanting to and said, "Go to your room, doll!..." The day after the wedding, he got angry with his family and left for Turkey. Seven years later, when he came to his sister's wedding, he mistook Ruba, who was serving everyone, for an aunt, and while giving her a note, he said, "Here, take this forgiveness! You have served everyone a lot since morning. '' Mahir Lala! " Hearing these words from the aunt, who was bowed in a black shawl, the stone ...
The air of the mansion was filled with fragrances, but this fragrance felt suffocating. The noise of the shehnai in the courtyard outside had stopped, but the echoes of congratulations could still be heard from the walls of the mansion. Mahir Shah, whose face had deep lines of anger and disgust, was climbing the stairs towards his room.
He shook off the garland of flowers around his neck and threw it away. For him, this marriage was a bargain, a chain that had been placed on his feet in the name of protecting his property... As soon as he opened the heavy wooden door of the room, the scent of roses and lilies in the room touched his nose.
On the bed in front of him, a tiny soul dressed in a red wedding dress was sitting, her head hidden under a veil. She was so small that the heavy lehenga was scattered around her as if a doll had been forcibly made a bride. Anger erupted inside Mahir. He slammed the door shut, the sound of which made the girl tremble.
Mahir Shah roared, "Get out of here... right now and this very moment." Ruba raised her head in shock. Her big eyes were filled with tears. She was still young and probably didn't even know the meaning of "nikah". She was stunned to see Mahir. Ruba said in a trembling voice, "Mahir... Mahir Lala?" The word "Lala" stuck in Mahir's chest like an arrow.
This was the same girl who used to follow him around in childhood, whom he always considered as his younger sister Zoya. He was angry that his father had tied this innocent girl to his lap to prevent his property from going out of the family. Mahir Shah came close to her and gritted his teeth in anger and said, "Khabdar, who called me by that name, do you even realize what you have done? You and my family have strangled my future together. You were so greedy for property that you sacrificed a girl child?" Ruba's sobs stopped.
She got down from the bed and came barefoot near him. Her hands were trembling. Ruba spoke in fear. "Mahir Lala... I didn't know you would be angry. He had said that now you are my everything. What mistake have I done?" Mahir shook off her hand but as soon as his eyes fell on Ruba's innocent face, his intensity decreased a little. He was not angry at the girl but at the circumstances that had made her helpless.
He wanted to hate her but his innocence was not letting him do that. Mahir Shah said sternly, "Ruba, you are a girl. You should have been playing with dolls right now and not becoming a part of the politics of this mansion. This marriage is only on paper. For me, your status can never be that of a wife..." Ruba kept looking at him silently, tears streaming down her cheeks.
She was aware of Mahir's glory but today's glory was different. Mahir Shah turned to the window of the room and said
"Go away from here... Go to your room, doll... Leave me alone. I am leaving here in the morning. Forever..." Ruba said with surprise and sadness, "Where are you going? Won't you be at the wedding?" "No... I can't be a part of this spectacle anymore. You will stay in this mansion, complete your studies, but don't expect anything from me." Ruba held her hand in anguish.
"Mahir Lala, what will everyone say? Auntie will be very angry." Mahir turned and looked at him. His heart ached for a moment. He forcefully controlled himself and released his arm. "You are now the responsibility of this house, not mine... Go away... Before my remaining patience can give way." Ruba adjusted her shawl on her head, wrapped her heavy lehenga and left the room crying...
There was silence in the corridor outside the room, but a storm was raging in his heart. Mahir Shah locked the door of the room and fell on the bed. He had decided that he would not be a part of this ignorant tradition. He had made up his mind to go to Turkey. He did not know what impact his decision would have on the life of this innocent "doll"? Mahir took out his suitcase from the closet and started packing. There was only one thing on his mind: "Escape from this prison, from this oppressive relationship." And on the other hand, in a dark corner of the mansion, a young bride was crying over her fate, who did not even know that only loneliness had been written in her fate...

Urdu Sneak Peek

"نکل جاؤ یہاں سے!" ماہیر شاہ کمرے میں داخل ہوتے ہی اپنی گیارہ سالہ دلہن کو دیکھ کر طیش سے دھاڑا، چچا کی جائیداد ہتھیانے کے لیے زبر دستی اس کی شادی ایک بچی سے کر دی گئی۔"ماہیر لالا!" روبا روتی ہوئی اسکے پاس آئی تو وہ نا چاہتے ہوئے بھی خود پر قابو پا کر بولا " اپنے روم میں جاؤ گڑیا!۔۔۔" ولیمے کے اگلے دن وہ گھر والوں سے ناراض ہو کر ترکی چلا گیا۔ سات سال بعد بہن کی شادی پر آیا تو سب کی خدمت کرتی روبا کو ماسی سمجھ کر بہن پر سے نوٹ واٹ کر اسے دیتے ہوئے بولا" یہ لو بخشش! صبح سے تم نے سب کی بہت خدمت کی ہے۔ '' ماہیر لالا ! " کالی چادر میں جھکے سر والی ماسی کے منہ سے یہ لفظ سن کر وہ پتھر ۔۔۔
حویلی کی فضاؤں میں خوشبوؤں کا بسیرہ تھا مگر یہ خوشبو گھٹن زدہ محسوس ہو رہی تھی۔ باہر صحن میں شہنائیوں کا شور تھم چکا تھا لیکن حویلی کی دیواروں سے اب بھی مبارکبادوں کی باز گشت سنائی دے رہی تھی۔ ماہیر شاہ جس کے چہرے پر غصے اور بیزاری کی گہری لکیریں تھیں سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اپنے کمرے کی سمت بڑھ رہا تھا۔
اس نے اپنے گلے میں پڑے پھولوں کے ہار کو جھٹک کر اتار پھینکا۔ اس کے لیے یہ شادی ایک سودا تھا ایک ایسی زنجیر جو اس کے پیروں میں جائیداد کی حفاظت کے نام پر ڈال دی گئی تھی۔۔۔ جیسے ہی اس نے کمرے کا بھاری لکڑی کا دروازہ کھولا کمرے میں موجود گلابوں اور موتیا کی خوشبو نے اس کے ناک کو چھوا۔
سامنے بیڈ پر سرخ عروسی جوڑے میں ملبوس ایک ننھی سی جان بیٹھی تھی جس کا سر گھونگھٹ کے نیچے چھپا ہوا تھا۔ وہ اتنی چھوٹی تھی کے بھاری لہنگا اس کے گرد بکھرا ہوا تھا جیسے کسی گڑیا کو زبردستی دلہن بنا دیا گیا ہو۔ ماہیر کے اندر غصے کالاوا پھٹ پڑا۔ اس نے زور سے دروازہ بند کیا جس کی آواز سے وہ لڑکی لرزا ٹھی۔
ماہر شاہ دھاڑتے ہوئے بولا " نکل جاؤ یہاں سے۔۔۔ ابھی اور اسی وقت "روبا نے سہم کر اپنا سر اٹھایا۔ اس کی بڑی بڑی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز تھیں۔ وہ ابھی چھوٹی سی ہی تو تھی جسے "نکاح" کے معنی بھی شاید پوری طرح معلوم نہ تھے۔ وہ ماہیر کو دیکھ کر ہکا بکا رہ گئی۔ روبا لرزتی آواز میں کہنے لگی "ماہیر ۔۔۔ ماہیر لالا؟ " یہ لفظ "لالا "ماہیر کے سینے میں تیر کی طرح پیوست ہوا۔
یہ وہی لڑکی تھی جو بچپن میں اس کے پیچھے پیچھے گھومتی تھی جسے وہ ہمیشہ اپنی چھوٹی بہن زویا کی طرح سمجھتا تھا۔ اسے غصہ اس بات پر تھا کہ اس کے باپ نے اپنی جائیداد کو خاندان سے باہر جانے سے روکنے کے لیے اس معصوم بچی کو اس کے پلے باندھ دیا تھا۔ ماہیر شاہ نے اس کے قریب آکر غصے سے دانت پیستے ہوئے کہا " خبر دار جو مجھے اس نام سے پکارا تمہیں اندازہ بھی ہے تم نے کیا کیا ہے؟ تم نے اور میرے گھر والوں نے مل کر میرے مستقبل کا گلا گھونٹ دیا ہے۔ جائیداد کی اتنی ہوس تھی کہ ایک بچی کو قربان کر دیا؟" روبا کی سسکیاں بندھ گئیں۔
وہ بیڈ سے نیچے اتری اور ننگے پاؤں اس کے قریب آئی۔ اس کے ہاتھ کپکپا رہے تھے۔ روبا ڈرتے ڈرتے بولی۔ "ماہیر لالا۔۔۔ مجھے نہیں پتا تھا کہ آپ ناراض ہوں گے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اب آپ ہی میرا سب کچھ ہیں۔ میں نے کیا غلطی کی ہے؟" ماہیر نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا مگر جیسے ہی اس کی نظر روبا کے معصوم چہرے پر پڑی اس کی شدت میں تھوڑی کمی آئی۔ اسے اس بچی پر غصہ نہیں تھا بلکہ ان حالات پر تھا جنہوں نے اسے بے بس کر دیا تھا۔
وہ اس سے نفرت کرنا چاہتا تھا مگر اس کی معصومیت اسے ایسا کرنے نہیں دے رہی تھی۔ ماہیر شاہ سختی سے بولا " روبا تم ایک بچی ہو۔ تمہیں ابھی گڑیاوں سے کھیلنا چاہیے تھا نہ کہ اس حویلی کی سیاست کا حصہ بننا۔ یہ شادی صرف کاغذ پر ہے۔ میرے لیے تمہاری حیثیت کبھی بھی ایک بیوی کی نہیں ہو سکتی۔۔۔" روبا خاموشی سے اسے دیکھتی رہی اسکے گالوں پر آنسووں کے نشان جم چکے تھے۔
وہ ماہیر کے جلال سے واقف تھی مگر آج کا جلال مختلف تھا۔ ماہیر شاہ کمرے کی کھڑکی کی طرف مڑتے ہوئے بولا
" جاؤ یہاں سے۔۔۔۔ اپنے روم میں جاؤ گڑیا۔۔۔ مجھے اکیلا چھوڑ دو۔ میں گل صبح یہاں سے جارہا ہوں۔ ہمیشہ کے لیے۔۔۔۔ " روبا حیرت اور دکھ سے کہنے لگی " آپ کہاں جار ہے ہیں؟ کیا آپ ولیمے میں بھی نہیں ہوں گے؟" "نہیں۔۔۔ میں اس تماشے کا مزید حصہ نہیں بن سکتا۔ تم اسی حویلی میں رہو گی اپنی پڑھائی مکمل کرو گی لیکن مجھ سے کسی تعلق کی امید مت رکھنا۔ "روبانے تڑپ کر اس کا ہاتھ پکڑا۔
"ماہیر لالا سب کیا کہیں گے؟ تائی امی بہت غصہ ہوں گی۔"ماہیر نے مڑ کر مڑکر اسے دیکھا۔ اس کے دل میں ایک لمحے کے لیے ٹھیس اٹھی۔ اس نے زبر دستی خود پر قابو پایا اور اپنا بازو چھڑ والیا۔ " تم اب اس گھر کی ذمہ داری ہو میری نہیں۔۔۔ جاؤ۔۔۔اس سے پہلے کہ میرا بچا کھچا صبر بھی جواب دے جائے۔ "روبا نے اپنی چادر سر پر درست کی اپنے بھاری لہنگے کو سمیٹا اور روتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔۔
کمرے کے باہر کوریڈور میں خاموشی تھی مگر اس کے دل میں طوفان برپا تھا۔ ماہیر شاہ نے کمرے کا دروازہ لاک کیا اور بیڈ پر گر گیا۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ اس جاہلانہ روایت کا حصہ نہیں بنے گا۔ اس نے ترکی جانے کا ارادہ پختہ کر لیا تھا۔ اسے علم نہیں تھا کہ اس کے اس فیصلے سے اس معصوم "گڑیا " کی زندگی میں کیا اثر ہونے ہونے والا ہے؟؟ ماہیر نے الماری سے اپنا سوٹ کیس نکالا اور پیکینگ شروع کردی۔ اس کے ذہن میں صرف ایک ہی بات تھی " بھاگ جانا اس قید سے اس زبر دستی کے رشتے سے۔ " اور دوسری طرف حویلی کے ایک اندھیرے کونے میں ایک ننھی دلہن اپنی قسمت پر رور ہی تھی جسے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ اس کی قسمت میں صرف تنہائی لکھی جاچکی ہے۔۔۔۔

Ready to Download?

Secure links will be generated after verification