| Novel Name: | Tu Mujhe Qubool Hai |
| Writer: | TH Novels |
| Category: | Forced Marriage Based |
Most Attractive Sneak Peak Of Tu Mujhe Qubool Hai By TH Novels
"Quickly memorize these formulas and recite them to me, otherwise no one will be worse than me..." Samar rushed with a stick in his hand. Horiya and Salar were at work. ""You fools don't know where you are, do you..." Horiya said with a wrinkled nose. "Come to my room, today I will make you memorize the formulas in a military way..." She went to his room, scared, when Samar stood shirtless, seventeen-year-old Horiya was nervous. "Look, there will be soldiers outside, don't try to scare me..." But Samar pulled her by the arm and pulled her closer to him and put both her hands on his waist.
"Which one of you was saying that Samar Bhai counts the wings of a flying bird and is very clever?" "She had gone into the kitchen screaming loudly and stood up, Samar, who was sitting at the big table there, drinking coffee... Hearing her name called, she helplessly raised her eyes and looked at the bundle of misery who had blown into the noses of all the people in the mansion. She had no business except doing mischief. If she mentioned studies, her condition would be like if she had bitten her, there would be no blood in her body. In the name of housekeeping, she would do nothing but boil eggs. If anyone scolded her even slightly, she would immediately run to her grandfather to complain... "I was saying... "Salar said with a mischievous smile and at the same time he winked at Samar who was sitting there with his left eye. He had already returned from a month's leave from the army and was sitting quietly leaning against the chair with his coffee mug on the table...
He was completely focused on the lady. Horiya had her back to him, due to which she could not see him... "So to increase your knowledge, I will tell you that you were wrong. Making a fool of them is the easiest thing in the world. You know that at night I tricked them and took a car from them. I told them that Junaid's brother was unwell and had to be taken to the hospital, so uncle was asking for a car. He immediately gave me the car key and you know what we did then. Junaid and I went for a walk at night. We had dinner at the new hotel that had opened and enjoyed ourselves a lot. Sonia Noreen was also with us... "She who came to speak was not taking the name of being quiet. Salar realized his mistake deeply. He should not have asked Horiya this question. Whoever she was, she was his cousin...
She was his partner in crime. Now, because of Horiya, he was going to get caught too. "Wow, I didn't know that you were so talented that you made a fool of an army officer like me." Hearing the familiar male voice, Horiya felt her life leaving her feet and stood still...
She didn't have the courage to turn around and look. She could recognize this voice among millions. In a complaining manner, she shoved Salar who was looking for an opportunity to wander around from there. Ayman left from there laughing while Salar and Horiya who were standing next to each other were reciting Ayatul Kursi in their hearts... "Thank you very much for telling me that in the future I will not believe in your innocent appearance at all. " " She was joking with Samar Bhai." She tried to say something but the words were choked because the way Samar was looking at her, she couldn't finish her sentence even if she wanted to... " I have realized that you don't need to explain yourself... " Horiya Madam, I have already realized how much you are in trouble... Come to my room right now and this very moment with your bags..." Saying this, he did not stop there but left with long, flowing hair.
" I will not go alone, you will also come with me... " " Oh hello Madam, it is your mistake, not mine. If you had told me that Samar Bhai was sitting here, I would never have used my scissors-like tongue... " She had become spiritual, why didn't she do a thousand evil things to Samar behind her, but as soon as she went in front of him, she would get terribly confused... Her heartbeats would also be scattered. "I don't know what unlucky hour it was when I planned to hit Flex in front of you guys. Now go, lest Samar Bhai give you a new punishment. I'm telling you, I won't go alone. If you don't go with me, I will tell Samar Bhai that you also have a girlfriend with whom you date every week, while you are engaged to your uncle's daughter. In this way, along with chatting, a case of indecency will also be filed against you. And then you know very well about the punishment you will get in Grandpa's court..." "I will take your life, smart girl, and I will also take account of it." "That means you are going with me..." She smiled brightly. "It's obvious that now I've escaped from my own trap... and don't try to threaten me like that again," he warned her, raising his finger and leaving.
While she was stomping towards her room, which book should I pick up? Which book should I take? I'm taking chemistry. No, there are so many chemical reactions in it, if he gives me a reaction to do??? What will I do??? No, no!!!! I do this by picking up meth. At that moment, there was a knock on her room door.
Urdu Sneak Peek
" جلدی سے مجھے یہ فارمولے یاد کر کے سناؤ ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔۔" سمر ہاتھ میں سٹک لے کر دھارا تو حوریہ اور سالار کام پہ تھے۔۔ " " کھڑوس کہیں کا پتہ نہیں سمجھتے کیا ہیں خود کو۔۔۔" حوریہ ناک سکڑ کر بولی۔۔۔ " تم میرے کمرے میں آنا آج تمہیں فوجی طریقے سے فارمولے یاد کرواؤں گا۔۔۔۔" ڈرتے ڈرتے وہ اس کے کمرے میں گئی تو سمر شرٹ لیس کھڑا تھا سترہ سال حوریہ گھبرائی تھی۔۔۔۔" دیکھیں فوجی ہوں گے باہر مجھے ڈرانے کی کوشش نہ کریں۔۔۔" مگر سمر نے اسے بازو سے کھینچ کر اپنے قریب کیا اور دونوں ہاتھوں سے اس کی کمر پر۔۔۔۔۔۔۔
" تم میں سے کون کہہ رہا تھا کہ سمر بھائی اڑتی چڑیا کے پر گن لیتے ہیں اور وہ بہت ہی چالاک ہیں۔۔۔ " وہ اونچی آواز میں چیختی ہوئی کچن کے اندر جا کھڑی ہوئی تھی سمر جو کہ وہیں بڑی ٹیبل پر بیٹھا کافی پینے میں مصروف تھا۔۔۔ اپنے نام کی پکار سن کر بےاختیار نگاہیں اٹھا کر اس افت کی پوٹلی کی طرف دیکھا جس نے سب حویلی والوں کی ناک میں دم کیا ہوا تھا شرارتیں کرنے کے علاوہ اس کا کوئی کام ہی نہیں تھا پڑھائی کا نام لیا جائے تو اس کی حالت ایسی ہو جاتی تھی جیسے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں گھرداری کے نام پر انڈا بوائل کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں آتا اس پر اگر کوئی ذرا سا ڈانٹ دے تو فورا ہی دادا جان کے پاس شکایت لگانے کے لیے پہنچ جاتی تھی۔۔۔۔ " میں کہہ رہا تھا۔۔۔۔ " سالار نے شرارتی انداز میں مسکراتے ہوئے کہا اور ساتھ ہی وہاں پر بیٹھے ہوئے سمر کو بائیں آنکھ ماری جو کہ پہلے ہی آرمی سے ایک مہینے کی چھٹی لے کر آیا تھا وہ بھی کافی کا مگ میز پر رکھ کر پرسکون انداز میں کرسی کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا تھا۔۔۔
وہ پوری طرح محترمہ کی طرف متوجہ ہو گیا تھا حوریہ کی اس کی طرف پشت تھی جس کی وجہ سے وہ اس کو دیکھ نہیں پائی تھی۔۔۔ " تو تمہارے علم میں اضافے کے لیے میں عرض کرتی چلوں تم غلط کہہ رہے تھے ان کو بے وقوف بنانا دنیا کا سب سے آسان ترین کام ہے تمہیں پتہ ہے کہ رات کو میں نے ان کو الو بنا کر ان سے گاڑی لی تھی میں نے ان کو بتایا تھا کہ جنید کے بھائی کی طبیعت خراب ہے اس کو ہاسپٹل لے کر جانا ہے اس لیے انکل گاڑی مانگ رہے ہیں انہوں نے فورا سے گاڑی کی چابی میرے ہاتھ میں دے دی اور تمہیں پتہ ہے کہ پھر ہم نے کیا کیا میں اور جنید رات کے وقت گھومنے کے لیے گئے تھے وہ جو نیا ہوٹل کھلا ہے ہم نے وہاں پر ڈنر کیا تھا اور بہت زیادہ انجوائے بھی کیا تھا ہمارے ساتھ سونیا نورین بھی تھے۔۔۔۔ " وہ جو بولنے پر آئی تو چپ ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی سالار کو شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا اسے حوریہ سے یہ سوال نہیں کرنا چاہیے تھا جو بھی تھا جیسے بھی تھا اس کی کزن تھی۔۔۔۔
اس کی کرائم پارٹنر تھی اب حوریہ کی وجہ سے وہ بھی پھنسنے والا تھا۔۔" واؤ مجھے تو پتا ہی نہیں تھا کہ تم اس قدر ٹیلنٹڈ ہو کے تم نے میرے جیسے آرمی آفیسر کو بیوقوف بنا لیا۔۔" جانی پہچانی مردانہ آواز سن کر حوریہ کو جان اپنے قدموں کے نیچے سے نکلتی ہوئی محسوس ہوئی تھی وہ اپنی جگہ جم کر کھڑی ہو گئی تھی۔۔۔
اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کے پلٹ کر دیکھ سکتی یہ آواز وہ لاکھوں میں بھی پہچان سکتی تھی شکایتی انداز میں اس نے سالار کو گھوڑا جو کہ وہاں سے رفو چکر ہونے کا موقع تلاش کر رہا تھا ایمن ہنستی ہوئی وہاں سے چلی گئی جب کہ سالار اور حوریہ جو کہ ایک دوسرے کے ساتھ ہی کھڑے تھے دل ہی دل میں آیت الکرسی کا ورد کر رہے تھے۔۔۔ " تمہارا بہت شکریہ کہ تم نے مجھے بتا دیا آئندہ میں تمہاری معصوم شکل پر بالکل یقین نہیں کروں گا۔۔۔۔۔ " " وہ سمر بھائی میں تو مذاق کر رہی تھی۔۔" اس نے کچھ کہنے کی کوشش کی مگر الفاظ دب گئے تھے کیونکہ سمر جس انداز میں اس کو دیکھ رہا تھا وہ چاہ کر بھی اپنی بات مکمل نہیں کر پائی تھی۔۔۔ " مجھے اندازہ ہو گیا ہے آپ کو صفائیاں پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔" حوریہ میڈم یہ تو مجھے پتہ چل ہی گیا ہے کہ اپ کس قدر پانی میں ہیں۔۔۔۔ ابھی اور اسی وقت اپنی بکس لے کر میرے کمرے میں آؤ۔۔۔ " یہ کہہ کر وہ وہاں پر رکا نہیں تھا بلکہ لمبے لمبے ڈھک بڑھتا ہوا وہاں سے چلا گیا تھا۔
" میں اکیلی نہیں جاؤں گی تم بھی میرے ساتھ چلو گے۔۔۔" " اوہ ہیلو میڈم غلطی آپ کی ہے میری نہیں اگر تم مجھے بتا دیتے کہ سمر بھائی یہیں پر بیٹھے ہوئے ہیں تو میں کبھی بھی اپنی کینچی جیسی زبان کا استعمال نہ کرتی۔۔۔۔" وہ روحانسی ہو گئی تھی سمر کے پیچھے وہ اس کی ہزار برائیاں کیوں نہ کرتی مگر جیسے ہی وہ اس کے سامنے جاتی تھی وہ بری طرح سے کنفیوز ہو جاتی تھی۔۔۔ اس کے دل کی دھڑکنیں بھی منتشر ہو جاتی تھی " پتہ نہیں کون سی نحوست بھری گھڑی تھی جب میں تم لوگوں کے سامنے فلیکس مارنے کا ارادہ کیا تھا۔۔ اب جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ سمر بھائی تمہیں ایک نئی سزا دے دیں میں بتا رہی ہوں میں اکیلی نہیں جاؤں گی اگر تم میرے ساتھ نہ چلے تو سمر بھائی کو یہ بتا دوں گی کہ تمہاری گرل فرینڈ بھی ہے جس کے ساتھ تم ہر ہفتے ڈیٹ کرتے ہو جب کہ تمہاری منگنی تمہاری پھپو کی بیٹی کے ساتھ ہو چکی ہے اس طرح سے تم پر چیٹنگ کے ساتھ ساتھ بے حیائی کا کیس بھی ہو جائے گا اور پھر دادا جان کے کورٹ میں تمہیں جو سزا ملے گی اس کے بارے میں تو بہت اچھے طریقے سے جانتے ہو۔۔۔ " " میں تمہاری جان لے لوں گا شاطر لڑکی اور اسکا حساب بھی لونگا " " یعنی تو میرے ساتھ چل رہے ہو۔۔۔" وہ کھل کر مسکرا دی تھی۔۔۔۔ " ظاہر سی بات ہے اب میں اپنا بھانڈا تو پھوڑنے سے رہا۔۔۔ اور دوبارہ مجھے اس طرح کی دھمکی دینے کی کوشش مت کرنا اسے انگلی اٹھا کر خبردار کرتا ہوا وہ وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔۔۔
جب کہ وہ پاؤں پٹکتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی کون سی بک اٹھا کر کون سی بک اٹھا کر لے جاؤں کیمسٹری کی لے جاتی ہوں۔۔۔۔ نہیں اس میں تو اتنے زیادہ کیمیکل ری ایکشنز ہیں اگر اس نے مجھے کوئی ری ایکشن کرنے کے لیے دے دیا تو؟؟؟ میں کیا کروں گی؟؟؟ نہیں نہیں!!!! ایسا کرتی ہوں کہ میں میتھ اٹھا کر لے جاتی ہوں۔۔۔۔۔ اس وقت اس کے کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی تھی نگاہیں پھیر کر دیکھا تو وہاں سالار کھڑا تھا۔۔۔۔
" اب کیا مجھے تمہیں انویٹیشن کارڈ دینا ہوگا محترمہ آئیں میرے ساتھ چلیں۔۔ " وہ ناگواری سے بولا تھا۔۔۔ " وہ صاحب اتنے غصے میں ہے کہ میں بیان نہیں کر سکتا ہوں تمہارے ساتھ ساتھ میں بھی پھنس گیا ہوں یا مجھے سمجھ نہیں آرہی ہے کہ میں کون سی بک لے کر جاؤں۔۔۔۔۔۔۔" " محترمہ بک نہیں بلکہ بکس اٹھا کر لانی ہے اور یہ ساری ہی تم لے کر آجاؤ کیونکہ وہ ہم سے ٹیسٹ لینے والا ہے " " تم میرے ساتھ مذاق کر رہے ہو نا؟؟؟ " "پہلے کبھی میں نے تمہارے ساتھ پڑھائی کے معاملے میں مذاق کیا ہے نہیں نا تو ابھی بھی سیریس ہی ہوں جلدی سے پہنچو۔۔۔ اگر لیٹ آئی تو وہ تمہیں اتنی ہی دیر کھڑا رکھیں گے جتنی دیر سے تم پہنچو گی۔۔۔" " سمر بھائی کو تو آرمی والے بھی برداشت نہیں کرتے ہیں اسی لیے ہر دو مہینے کے بعد منہ اٹھا کر آجاتے ہیں۔۔۔" وہ دل ہی دل میں اس کو گالیوں سے نوازتی ہوئی اپنا بیگ اٹھا کر اسٹڈی روم میں داخل ہوئی تھی۔۔۔۔۔
جہاں پر وہ صوفے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھا ہوتا ہے اس نے اپنا سر پیچھے کی طرف گرایا ہوا تھا اور اس کی آنکھیں بند تھیں۔۔۔ " سمر بھائی اگر آپ کو نیند آرہی ہے کوئی بات نہیں آپ جا کر آرام سے اپنی نیند پوری کر لیں ہم شام کے وقت پڑھ لیں گے۔۔۔ "سمر نے اس کو خونخوار انداز میں گھورا تو وہ سٹپٹاتے ہوئے خاموشی سے صوفے پر جا بیٹھ گئی تھی۔۔۔ " پانچواں چیپٹر اوپن کرو میں نے تم لوگوں کو ایک ہفتے پہلے بولا تھا کہ اس چیپٹر کو پریپیئر کرنا میں تم لوگ کا ٹیسٹ لوں گا۔۔۔۔" " کب بولا تھا آپ نے مجھے تو یاد نہیں ہے سالار کیا تمہیں یاد ہے۔۔۔۔" وہ ایک بار پھر سے اوور ایکٹنگ کر رہی تھی سالار کا دل کیا کہ وہ اپنا سر پیٹنا شروع کر دیے کیونکہ جانتا تھا کہ اوور ایکٹنگ کا کوئی فائدہ نہیں ہے اس سے تو اچھا تھا کہ وہ سمر سے تھوڑا سا وقت لے لیتے سمر نے اس کی بات کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا تھا جیسے اس کے لیے حوریہ کی بات کی کوئی اہمیت ہی نہ ہو پڑھائی سے تو ان دونوں کی جان جاتی تھی ابھی وہ دونوں چیپٹر اوپن کر ہی رہے تھے کہ سمر کا موبائل بجنے لگا۔۔
" تم لوگوں کے پرنسپل صاحب کا فون آرہا ہے۔۔۔" یہ سن کر ان لوگوں نے خوفزدہ ہو کر ایک دوسرے کے چہرے کو دیکھا تھا ان کا دل کر رہا تھا کہ زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائیں۔ پھر کسی ایسی جگہ پر جا کر چھپ جائیں جہاں پر سمر ان لوگوں کو تلاش ہی نہ کر سکے۔۔۔۔ " مجھے لگتا ہے کہ میری طبیعت خراب ہو رہی ہے میرے پیٹ میں شدید درد ہو رہا ہے کیا میں اپنے کمرے میں جا سکتی ہوں؟؟؟ " اس نے فورا ہی ہاتھ اپنے پیٹ پر رکھے سمر نے آگے بڑھ کر دراز سے میڈیسن نکال کر اس کے حوالے کر دی۔۔۔ " پانچ منٹ کے اندر تمہیں آرام آجائے گا تب تک تم وہاں صوفے پر جا کر لیٹ جاؤ۔۔۔" اس نے بائیں طرف پڑے ہوئے صوفے کی طرف اشارہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی اس نے پرنسپل صاحب کی کال بھی اٹھا لی تھی۔۔۔ جیسے جیسے ان کی باتیں سن رہا تھا اس کے چہرے کا رنگ بدلتا جا رہا تھا اب اس کا چہرہ لال انگارہ ہو گیا تھا۔ سمر کے چہرے کے بدلتے رنگ دیکھ کر انکے پسینے چھوٹ گئے۔۔۔
" تم لوگ پچھلے کتنے ہفتوں سے کلاسز بنک کر رہے ہو اور کہاں پر جا رہے ہو؟؟؟ " اس نے ان کو ارے ہاتھوں لیتے ہوئے ان سے سوال کیا تھا تو دونوں ہونقوں کی طرح ایک دوسرے کے چہرے کو دیکھنے لگے۔۔۔ "کیا مطلب ہے آپ کا ہم تو سیدھا کالج۔۔۔۔" ٹیبل پر زور سے ہاتھ مارا تو دونوں ہڑبڑا گئے۔۔۔ " تم لوگوں کی اگلی تین ہفتوں کی پاکٹ منی بند ہے اور اگلے دو ہفتوں تک تم لوگ کمرے سے باہر نہیں نکلو گے روز آٹھ گھنٹے تم لوگ اس سٹڈی روم میں آکر پڑھا کرو گے اور جب تک مجھے ٹارگٹ کمپلیٹ کر کے نہیں دیا کرو گے تب تک تم لوگ کی چھٹی بھی نہیں ہوا کرے گی۔۔۔ " " اور اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو؟؟؟ " حوریہ کی زبان ایک بار پھر سے پھسلی تھی۔۔۔ " تو پھر تم لوگ کو سزا دی جائے گی۔۔۔۔" ان دونوں نے ٹیسٹ دیا تھا جس میں دونوں بری طرح سے فیل ہو گئے تھے۔ دونوں نے ریکارڈ قائم کیا تھا اور ایک ساتھ ہی زیرو نمبر لیا تھا لیکن پھر حوریہ نے واویلا مچایا کیونکہ اس کا ایک اسٹیپ ٹھیک تھا جس پر اسے ایک نمبر مل گیا تھا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے نئی زندگی کی نوید سنا دی گئی ہو اس کی گردن یکدم اکڑ گئی تھی افٹر آل اس نے سالار سے ایک نمبر زیادہ لیا تھا اور اب وہ دونوں ہی لان میں کھڑے تھے ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہے تھے۔۔۔" میری ٹانگوں میں شدید درد ہونے لگا ہے۔۔ فوجی کیوں ہر بار واپس آجاتا ہے۔۔۔۔" اس نے دانت پیستے ہوئے کہا تھا خاموش ہوجائو تمہاری زبان بہت تیز ہے پہلے بھی تمہاری زبان کی وجہ سے ہم لوگ پھنسے تھے اب اگر اس نے تمہیں اپنی برائیاں کرتے ہوئے سن لیا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری سزا میں اضافہ کر دے۔۔۔۔" سالار کی ٹانگیں پہلے سے ہی شدید درد کر رہی تھیں کیونکہ دو دن پہلے ہی وہ اپنے دوستوں کے ساتھ ہاکنگ پر گیا تھا ان دونوں سے ٹھیک طرح سے چلا نہیں جا رہا تھا اور محترمہ سمر صاحب نے ان دونوں کو لان کے بیچ وچ کھڑا کر دیا تھا جو بھی آتا ان پہ ایک نظر ڈالتا ہوا ہنستا ہوا وہاں سے چلا جاتا۔۔۔۔۔۔۔۔
Introduction Of Novel
“Tu Mujhe Qubool Hai” is a heartfelt romantic novel that revolves around love, acceptance, and the challenges that come with relationships. The story beautifully explores how two individuals, despite differences and hardships, find their way toward each other.
The novel highlights themes of unconditional love, misunderstandings, societal pressures, and emotional struggles. It portrays how true love is not just about feelings but also about patience, forgiveness, and commitment. With engaging storytelling and emotional depth, the novel keeps readers connected from start to finish.
Overall, “Tu Mujhe Qubool Hai” is a touching story that reflects the beauty of love and the importance of accepting someone wholeheartedly, flaws and all.
Introduction Of Writer
TH Novels is a popular Urdu fiction writer known for creating emotionally rich and engaging romantic stories. Their writing style is simple yet deeply expressive, often focusing on themes like love, sacrifice, trust, and relationships. TH Novels has gained a strong readership on social media platforms where readers appreciate their ability to portray realistic emotions and strong character development.