| Novel Name: | Ishq E Nasaboor |
| Writer: | Unknown |
| Category: | Forced Marriage Based |
Most Attractive Sneak Peak Of Ishq E Nasaboor
"Dad, I will marry Anayya, she is going to be the mother of my child..." Irtaza Abbas shouted without knowing that his words had struck someone's heart like a dagger. Mehroz Hadit's feet on the stairs were still there. They had been married just three days ago and today he was asking to marry another girl. She loved him so much that she couldn't bear it and had fallen down the stairs. Blood started flowing like water on the ground but the man didn't come forward to see him. After some time, Mehroz was sitting in the garden with the employees, a blood-stained Sunni bandage tied on her head. That innocent girl was his wife and Irtaza Abbas was going to marry someone else in front of her. When she said yes, tears fell from Mehroz's eyes. What Irtaza Abbas had seen was that she was going to go far away from him. He didn't know.
"I'm not trying to impress you, nor am I showing any false concern. Haroon sent it for you..." He didn't understand what to say, but he knew that if he said he brought it, she would never take it... And Mehrooz had looked at his own sandwich and coffee in his hand. "Did he buy it for you too????" He was taken aback by her question... "Yes, he bought it for everyone, he sent it for you too..." He was getting nervous. He placed Mehrooz's sandwich packet and coffee in the middle of the bench and started eating his sandwich, and Mehrooz had nodded her head regretfully and started taking sips of coffee while eating the sandwich. That person was still doing what he shouldn't have done. Someone explain to him, dear, worry, grief, pain, all these feelings are meant to be shown, not hidden. "You're getting worried here!!! You should go home now and calm down..." He was looking at an empty space and a bitter smile came to Mehrooz Hadit's face at the mention of the house. She couldn't tell him that it wasn't a home and there was no peace at all. "No, I'm fine. I'll be worried about Anaya there too. Once she gets better, I'll leave." "As you wish." Silence fell between the two of them, watching the cars moving on the road. They were eating their food silently. A week later, Anaya felt better. She was out of danger. The medication was going on and she would get better with time. Everyone had come home with her and the children and Mehrooz had gone to her apartment. Irtaza Abbas had completely emptied her room and had it set up according to the needs of the children and Anaya, and had set up her and Mehrooz's belongings in the room below. He himself had also shifted there. When everyone knew the truth, there was no point in hiding the truth. Everyone was playing with the children. Someone was taking care of Anaya. The house was looking bright. Khushiyan soon became a part of this family.... But they were all feeling the lack of Mehrooz very strongly now, but no one could say anything to her.... As much as she had endured, they were all silent in respect of her decision. It was her will, whether she wanted to stay or not, but everyone had definitely begged her to come back once.... Everyone had felt the silent sad face of Irtaza Abbas. It was a bit drawn out. Only once had he picked up the children and loved them. He did not come where they were all together. He lived alone in his room. He was feeling the lack of Mehrooz even more strongly. He was looking at all of them in the hall and also at Anaya, who was looking happy for the first time.... Everything seemed complete, but he felt incomplete....
Urdu Sneak Peek
اسکی بہن شادی کے دن گھر سے بھاگ گئی وہ میڈیکل کی اسٹوڈنٹ تھی اسکی بہن کی جگہ اسکا نکاح اس شخص سے پڑھایا گیا۔۔۔۔ شادی کے اگلے دن اسے پتا لگا اسکا شوہر اسکا پروفیسر بھی ہے اور ڈاکٹر بھی وہ پروفیسر جس سے پورا کالج خوف کھاتا تھا۔۔۔
" میں کبھی تمہیں بیوی والے حقوق نہیں دوں گا" ارشمان نے دلہن بنی نساء کو نفرت سے کہا باہر چلا گیا نساء رات بھر روتی رہی ارشمان کو اسے نفرت تھی دو دن بعد جب کالج گئی تو کلاس میں ارشمان کو دیکھ کر اسکا رنگ اڑا نشاء بولی یہ نیاء ہینڈسم پروفیسر آیا ہے مگر نساء نے توجہ نہ دی جب پورے کالج کے سامنے نساء کو ایک لڑکے نے پرپوز کیا ارشمان نے نساء کو آفس بلایا وہ ڈرتی ہوئی آئی آج پورے کالج کو پتہ چلے گا پروفیسر ارشمان نے کالج میں اپنی بیوی پر حق جتایا ہے آفس کا روم لاک کرتت ارشمان نے لال سرخ ہوتی نساء کو ٹیبل پر۔۔۔۔
" تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں آؤں گا تمہاری تعریف کروں گا بہت زیادہ خوش فہمی میں مبتلا ہو اٹھو اور جلدی سے یہ بیڈ خالی کرو۔۔۔۔" بہت سخت لہجے میں کہتا ہوا وارڈ روب کی طرف بڑھ گیا وہاں سے اپنے کپڑے نکالنے لگا اور وہ اسے دیکھنے لگی وہ جلدی سے بیڈ سے اٹھی اسے بھی کوئی شوق نہیں تھا اس کی دلہن بن کے اس کا انتظار کرنے کا مگر بی جان کے کہنے کے مطابق وہ بیٹھی ہوئی تھی اس کی اجازت ملتے ہی وہ فورا سے اٹھی اچانک اس کا لہنگا اس کے پاؤں میں اٹکا اس سے پہلے کہ وہ گرتی فورا سے اسے اپنے بازوؤں میں تھام گیا تھا اور وہ آنکھیں پھاڑے مقابل شخص کو دیکھنے لگی جس کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ خونخوار نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا وہ جلدی سے سیدھی ہو گئی خشک گھونٹ بھرتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔۔ " معذرت وہ غلطی سے۔۔۔۔۔" یہ کہتے ہوئے وہ دور ہونے لگی تو وہ غصے میں کہنے لگا۔۔۔۔۔ " جان بوجھ کے میرے قریب آنے کی کوشش کر رہی ہو۔۔۔۔۔" اس کا ایسا سرد لہجہ اور رویہ دیکھ کے وہ کھبراگئی اس کی باتوں کو اگنور کرتی ہوئی چینجنگ روم کی طرف چلی گئی۔۔۔
جب وہ چینج کر کے واپس آئی تو وہ ٹیبل پہ کچھ پیپرز رکھے ہوئے چیک کرنے میں مگن تھا وہ گلاسز لگا کے بیٹھا ہوا تھا وہ اس کی طرف دیکھنے لگی بال بھیگے ہوئے تھے ہلکے سے ٹراوزر شرٹ میں گلاسز لگائے بال پیشانی پہ بکھرے ہوئے تھے اور وہ پیپرز چیک کر رہا تھا۔۔۔۔
وہ بڑے تجسس بھرے انداز میں اس شخص کو دیکھنے لگی وہ بہت زیادہ حسین تھا اس چیز کا تو اس کے دل نے اعتراف کیا تھا وہ اسے دیکھنے لگی اگلے ہی لمحے وہ موبائل نکال کر سامنے سے کچھ پڑھنے لگی تھی رات کے تقریبا دو بج چکے تھے۔۔۔۔
ان دونوں کے درمیان کسی قسم کی کوئی بات نہیں ہوئی وہ مسلسل موبائل میں لگی ہوئی تھی جب ایک دم سے اس کے پاس آیا اس کے ہاتھ سے موبائل چھینا تو اسے اندازہ ہوا تھا کہ وہ میڈیکل کی سٹوڈنٹ ہے اور کچھ یاد کر رہی ہے۔۔۔۔ " سو جاؤ کافی رات ہو گئی ہے۔۔۔۔ " وہ سنجیدگی سے گویا ہوا تو اس کی بات سن کے وہ اپنا موبائل اس کے ہاتھ سے چھین گئی دو دن بعد میرا ٹیسٹ ہے مجھے وہ یاد کرنا ہے یہ کہتے ہوئے وہ دوبارہ سے متوجہ ہو گئی " رات کو پڑھنے سے دماغ میں کچھ نہیں بیٹھتا نیند کے ٹائم پر نیند لینی چاہیے۔۔۔ " اس کے موبائل کو بند کر کے سائیڈ پہ رکھتے ہوئے بولا اس کے سخت لہجے میں بھی ایک فکر شامل تھی وہ کیوں تھی یہ وہ سمجھ نہیں پائی تھی وہ کمرے کی لائٹ بند کرتا جا کے دوسری سائیڈ پر سونے کے لیے لیٹ گیا مگر اسے نیند نہیں آرہی تھی ایک دم سے دونوں نے کروٹ بدلی اور دونوں کی ہلکی ہلکی روشنی میں نگاہیں ٹکرائیں۔۔۔۔۔
ایک لمحے کے لیے اس کا دل بہت شدت سے دھڑکا تھا جو سامنے اس کے قریب تھا وہ اس کا محرم تھا اس کا شوہر تھا وہ دوسرے طرف اپنا منہ کر گئی اور وہ اس کی پشت کو گھورنے لگا اس کے گھنے بال پیچھے بکھرے ہوئے تھے وہ نشاء سے زیادہ حسین تھی مگر وہ کم عمر تھی وہ اس سے۔۔۔۔۔ پہلی نظر میں نشاء اسے اچھی لگی تھی وہ نشاء سے محبت نہیں کرتا تھا مگر اس کا مائنڈ سیٹ تھا کہ اس کی شادی ہوگی تو نشاء کے ساتھ ہو گی نشاء نے اسے دھتکار دیا تھا نشاء اسے چھوڑ کے چلی گئی تھی اسے اس چیز کی سمجھ نہیں آرہی تھی اس نے آخر ایسا کیوں کیا آہستگی سے اس نے ہاتھ آگے کیا اور بے ساختہ اس کے بالوں کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کے انہیں دیکھنے لگا اور نیند کی وادیوں میں چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔
" آپ چیٹنگ کرنا چاہتی ہیں۔۔۔۔ " اس کی بات سن کے وہ کہنے لگی " نہیں نہیں میں چیٹنگ نہیں کرنا چاہتی بلکہ میں تو اس کھڑوس ٹیچر سے بچنا چاہتی ہوں ساری سینیئرز اتنی زیادہ اس کی برائیاں کرتی ہیں نا کہتی ہیں خود دانے دے کے گندم دے کے پاس ہوا ہوگا۔۔۔ "اس کی بات سن کے وہ بے ساختہ ہی ہنس پڑا تھا " اچھا ایسی بات ہے۔۔۔۔" وہ اثبات میں سر ہلانے لگی اور وہ بالکل بھی نہیں جانتی تھی سامنے بیٹھے ہوئے شخص کی وہ کتنی برائیاں کر چکی ہے " کافی رات ہو گئی ہے سو جائیں زیادہ باتیں نہ کریں۔۔۔۔" وہ سخت لہجے میں بولا تو وہ اسے دیکھنے لگی کھڑوس وہ زیر لب بڑبڑائی " میں سن سکتا ہوں اچھا خاصا اور مجھے اندازہ ہے آپ یہ اسٹوڈنٹس والی حرکتیں میرے ساتھ نہ کریں اور سو جائیں۔۔۔" اس کے سخت لہجے پہ وہ منہ بناتے ہوئے اسے دیکھنے لگی جا کے دوسری طرف سے سو گئی مگر اسے نیند نہیں آئی ہوئی تھی کمرے کی لائٹ بھی جل رہی تھی اور اسے تجس بھی ہو رہا تھا کہ وہ شخص کیا کر رہا ہے وہ لیٹے لیٹے ایک پیپر اٹھا کے اسے دیکھنے لگی آگے پیچھے کرنے لگی وہ اس کے پیپر ہاتھ سے کھینچ چکا تھا " نہیں دیکھنا نہ سو جاؤ۔۔۔۔" وہ بچوں کی طرح اسے ٹریٹ کر رہا تھا کیونکہ وہ اس کے سامنے چھوٹی بچی ہی تو لگ رہی تھی وہ تکیے پہ سر رکھتے ہوئے اپنی آنکھیں بند کر گئی اور سارے پیپرز چیک کرنے کے بعد سائیڈ پہ رکھتا اس نے انگرائی لی پھر لیپ ٹاپ اٹھاتا ہاسپٹل سے آئی ہوئی ساری ای میلز دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔
وہ اپنا ہاسپٹل چلا رہا تھا اور ساتھ ساتھ وہ مختلف کالجز میں کلاسز بھی دیتا تھا سارے کام ختم کرنے کے بعد اس نے لیمپ آف کیا اور ہلکی ہلکی لائٹ آن کر دی اور جیسے ہی سونے کے لیے لیٹا تو ہے ساختہ ہی اس کی نگاہیں ساتھ لیٹی ہوئی اس لڑکی کی طرف گئی تھیں وہ ہاتھ بڑھا کے اس کی گال کو چھو گیا تھا نجانے کیوں وہ بھول چکا تھا کہ اس نے بھی نشاء سے محبت کی تھی یا اسے پسند کیا تھا ایک ہی دن میں یہ لڑکی اسےاپنی طرف مائل کرنے لگی مگر اگلے لمحے اپنے ہاتھ کو پیچھے کرتا ہوا وہ دوسری طرف کروٹ لے گیا کیونکہ اس کے دماغ میں اب کی بار یہ خیال آچکا تھا کہ جس کی ایک بہن ایسا کر سکتی ہے وہ بھی تو ایسا قدم اٹھا سکتی ہے یہ بات اسے سنجیدہ کرنے پہ مجبور کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔
آج کتنے دنوں بعد وہ کالج آئی تھی مہناز کہنے لگی " تمہاری بہن کی شادی کیسی رہی۔۔۔ " اس کی بات سن کے وہ زبر دستی چہرے پر مسکراہٹ سجا کر کہنے لگی " ہاں بہت اچھی تھی۔۔۔۔" وہ دونوں آپس میں باتیں کرتی ہوئی کلاس کی طرف جارہی تھی " یار جلدی چل نا مہناز لیٹ ہو جائں گئے اس کی بات سن کے وہ کہنے لگی " چل تو رہی ہوں۔۔۔۔" کلاس میں آتے آتے ان دونوں کو کافی لیٹ ہو چکی تھی جیسے ہی وہ کلاس کے دروازے تک پہنچیں تو سامنے کھڑے ہوئے شخص کو دیکھ کے وہ پلکیں چھپکنا بھول گئی تھی وہ ہونکوں کی طرح اسے دیکھ رہی تھی
" یہ تو وہی ٹیچر ہے۔۔۔" مہناز نے اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا وہ اندر جانے کی اجازت مانگنے لگی عرشمان نے سینے پہ دونوں بازو باندھتے ہوئے کہا
" تم دونوں میڈمیں کہاں سے آرہی ہو آپ کو پتہ ہے کلاس کا کون سا ٹائم ہی اس کے باوجود آپ پانچ منٹ کلاس میں لیٹ ہو۔۔۔۔۔" سخت لہجے میں بولا اور وہ اس کا رویہ دیکھ رہی تھی گھر سے زیادہ تو وہ یہاں سختی دکھا رہا تھا " میں نے آپ سے کیا سوال کیا ہے۔۔۔" اب کی بار وہ غصے میں بولا تو وہ سہم گئی " وہ ہم لوگ آہی رہے تھے۔۔۔۔" وہ گھبراتے ہوئے بولی " چلیں جائیں جا کے اپنی سیٹ پر بیٹھیں اس کی بات سن کے وہ اثبات میں سر ہلاتی ہوئی جا کے سیٹ پر بیٹھ گئی اس کے چہرے پہ" ڈیڈ میں عنایہ سے نکاح کر کے رہوں گا وہ ماں بننے والی ہے میرے بچے کی۔۔۔۔" ارتضی عباس چیخا تھا بغیر یہ جانے کہ اس کے الفاظ کسی کے دل پر خنجر کی طرح لگے تھے سیڑھیوں پر موجود مہروز ہادیت کے قدم ساخت رہ گئے تھے ابھی تین دن پہلے ہی تو ان کی شادی ہوئی تھی اور آج وہ کسی اور لڑکی سے نکاح کرنے کا کہہ رہا تھا وہ بے حد محبت کرتی تھی اس سے برداشت نہیں کر سکی تھی اور سیڑیوں سے نیچے آگڑی تھی۔۔۔۔ زمین پر خون پانی کی طرح بہنے لگا تھا لیکن وہ شخص آگے نہیں بڑھا تھا اسے دیکھنے کے لیے کچھ وقت بعد مہروز ملازمین کے ساتھ گارڈن میں بیٹھی تھی سر پر خون سے سنی پٹی بندھی تھی۔۔۔۔۔ وہ معصوم لڑکی بیوی تھی اس کی اور ارتضی عباس اس کے سامنے کسی اور سے نکاح کرنے جا رہا تھا۔۔۔۔ اس کے قبول ہے کہنے پر مہروز کی آنکھوں سے ا
آنسو ٹوٹ کر گرے تھے جو ارتضی عباس نے دیکھے تھے وہ اس سے بہت دور جانے والی تھی وہ نہیں جانتا تھا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" میں تمہیں امپریس کرنے کی کوشش نہیں کر رہا اور نہ ہی کوئی جھوٹی فکر دکھا رہا ہوں ہارون نے بھیجا ہے تمہارے لیے۔۔۔۔" اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کہے لیکن وہ اتنا جانتا تھا کہ اگر وہ کہہ دے گا وہ لایا ہے تو کبھی نہیں لے گی۔۔۔۔ اور مہروز نے اس کے ہاتھ میں موجود اس کے اپنے سینڈوچ اور کافی کو دیکھا تھا " کیا تمہارے لیے بھی اسی نے خرید کر دیا ہے؟؟؟؟ " وہ اس کے سوال پر تزبزب شکار ہوا تھا۔۔۔۔ " ہاں سب کے لیے خریدا تھا اس نے تمہارے لیے بھی بھیجا ہے۔۔۔۔" وہ نروس ہو رہا تھا بینچ کے درمیان میں اس نے مہروز کے سینٹوچ کا پیکٹ اور کافی رکھتے وہ اپنا سینڈوچ کھانے لگا تھا اور مہروز نے تاسف سے سر ہلایا تھا اور سینڈوچ کھاتے کافی کے گھونٹ بھرنے لگی تھی۔۔۔۔۔ وہ شخص اب بھی وہی کر رہا تھا جو اسے نہیں کرنا چاہیے تھا کوئی اسے سمجھاتا پیارو فکر غم تکلیف یہ سب احساسات دکھانے کے لیے ہی ہوتے ہیں چھپانے کے لیے نہیں۔۔۔۔۔ " تم پریشان ہو رہی ہو یہاں!!! تمہیں اب گھر جا کر سکون کرنا چاہیے۔۔۔۔" وہ کسی خالی جگہ کو دیکھتے کہہ رہا تھا اور گھر کے نام پر مہروز ہادیت کے چہرے پر تلخ مسکراہٹ آئی تھی وہ اسے نہیں بتا سکتی تھی کہ وہ گھر نہیں تھا اور وہاں سکون تو بالکل نہیں تھا۔۔۔۔ " نہیں ٹھیک ہوں میں وہاں بھی پریشانی رہے گی انایہ کے لیے ایک بار وہ ٹھیک ہو جائے پھر چلی جاؤں گی۔۔۔۔" "جیسے تمہاری مرضی۔۔۔" ان دونوں کے درمیان خاموشی چھا گئی سڑک پر چلتی گاڑیوں کو دیکھتے وہ خاموشی سے اپنا کھانا کھا رہے تھے ایک ہفتے بعد انایہ کو کوش آیا۔۔۔۔ وہ خطرے سے باہر تھی ادوایات جاری تھی اور وہ وقت کے ساتھ ٹھیک ہو جاتی۔۔۔۔۔ سب اس کے اور بچوں کے ساتھ گھر آچکے تھے اور مہروز اپنے اپارٹمنٹ جا چکی تھی ارتضی عباس نے اپنا کمرہ مکمل خالی کرواتے اسے بچوں اور انایہ کی ضرورت کے مطابق سیٹ کروا دیا تھا اور اپنے اور مہروز کے سامان کو نیچے کے کمرے میں سیٹ کر چکا تھا۔۔۔۔ خود بھی وہیں شفٹ ہوگیا تھا جب سب حقیقت جان چکے تو اب کوئی فائدہ نہیں تھا حقیقت پر پردہ ڈالنے کا۔۔۔۔۔ سب بچوں کو اٹھائے کھیل رہے تھے کوئی انایہ کا خیال رکھ رہا تھا گھر میں رونق سی لگ گئی تھی۔۔۔۔۔ خوشیاں بہت جلد ہی اس فیملی کا حصہ بن گئی تھیں۔۔۔۔ لیکن وہ سب اب مہروز کی کمی کچھ شدت سے محسوس کر رہے تھے لیکن کوئی اسے کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔۔۔۔۔ جتنا اس نے برداشت کیا تھا وہ سب اس کے فیصلے کے احترام میں خاموش تھے اس کی مرضی تھی وہ رہنا چاہتی تھی یا نہیں لیکن سب اسے ایک بار واپس آنے کے لیے منت ضرور کر چکے تھے۔۔۔۔ ارتضی عباس کا خاموش اداس چہرہ سب نے محسوس کیا تھا وہ کھینچا کھینچا سا تھا بس ایک دفعہ ہی اس نے بچوں کو اٹھا کر پیار کیا تھا جہاں وہ سب اکٹھے ہوتے وہ وہاں نہیں آتا تھا اکیلا اپنے کمرے میں رہتا تھا مہروز کی کمی اور شدت سے محسوس کر رہا تھا ہال میں گھڑے ان سب کو دیکھ رہا تھا اور عنایہ کو بھی جو پہلی بار خوش نظر آرہی تھی۔۔۔ سب مکمل سا لگ رہا تھا لیکن اپنا آپ ادھورا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Introduction Of Novel
Ishq E Nasaboor is an intense emotional novel built on betrayal, helplessness, and the unbearable weight of love. The story takes a shocking turn when the hero, just on the third day of his marriage, chooses to marry another woman — a woman who is already pregnant with his child.
The heroine’s world shatters when she learns the truth. What she thought was the beginning of a beautiful journey becomes a painful test of patience and self-respect. The hero, trapped between responsibility and emotion, accepts the second marriage out of guilt and obligation, but his heart remains entangled in confusion.
The second woman carries his child, symbolizing both his mistake and his duty. Society blames, families interfere, and the heroine silently suffers the humiliation of sharing her husband so soon after her wedding.
The novel explores whether love can survive betrayal, whether forgiveness is possible after such a wound, and whether a heart that breaks so deeply can ever trust again. Ishq E Nasaboor is a story of sabr (patience), sacrifice, and the painful realization that sometimes love alone is not enough to protect a relationship.