Sneak Peak From The Novel
"پاؤں پکڑ کر معافی مانگو میری ماں سے ورنہ اپنا شکل لے کر چلی جاؤ میری زندگی سے"
بھری محفل میں اس کی گرج پر اس معصوم لڑکی کا چہرہ احساسِ ذلت سے سرخ ہو گیا۔
جہانزیب کی سرخ آنکھیں علماء کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔ اس کے چہرے پر غصے کی شدت صاف دکھائی دے رہی تھی۔ ہاتھ کی مٹھیاں سختی سے بند تھیں۔ پیشانی پر ابھری ہوئی رگیں اس کے اندر بھڑکے طوفان کی گواہی دے رہی تھیں۔ علماء نے نظر جھکا لیں۔ اس کا چہرہ احساسِ ذلت سے سرخ ہو چکا تھا۔ آنکھوں میں نمی تیرنے لگی تھی۔ دل اس شدت سے دھڑک رہا تھا جیسے پسلیوں سے باہر آجائے گا۔ سامنے بیٹھی شہناز بیگم کے چہرے پر فتح کا اطمینان تھا۔
جہانزیب نے ایک قدم آگے بڑھایا۔ "معافی مانگو۔"
علماء کے لب کانپے۔ "میں نے جان بوجھ کر کچھ نہیں کیا۔۔"
یہ جواب جہانزیب کے غصے میں مزید آگ بھر گیا۔ "میں نے تم سے صفائی نہیں مانگی۔ میں نے تمہیں حکم دیا ہے۔ میری ماں سے معافی مانگو۔"
کمرے میں موجود لوگوں نے نظریں چرا لیں۔ کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ جہانزیب کے سامنے علماء کے حق میں ایک لفظ بول سکے۔ جہانزیب اپنی انا کے لیے مشہور تھا۔ اس کے نزدیک اپنی بات سے پیچھے ہٹنا شکست کے برابر تھا۔
یہ جملہ علماء کے دل میں تیر کی طرح اترا۔ وہ چند لمحے جہانزیب کو دیکھتی رہی۔ اس شخص کو جس کے نام کے ساتھ اس کی پوری زندگی بندھی ہوئی تھی۔ اس شخص کو جس کے لیے اس نے اپنی مرضی چھوڑ دی تھی۔ اپنے خواب چھوڑ دیے تھے۔ اپنی خوشیاں چھوڑ دی تھیں۔ آج وہی شخص اسے سب کے سامنے اپنی زندگی سے نکل جانے کا حکم دے رہا تھا۔
علماء نے آہستہ سے پلکیں جھکا لیں۔ وہ شہناز بیگم کے سامنے جا کر کھڑی ہو گئی۔ "معاف کر دیں آنٹی۔"
اس کی آواز بہت مدھم تھی۔ شہناز بیگم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ علماء نے اپنے ہاتھ جوڑ دیے۔ "مجھ سے غلطی ہو گئی۔ آپ مجھے معاف کر دیں۔"
اس لمحے جہانزیب کی آنکھوں میں ایک عجیب سی کیفیت ابھری۔ غصہ جیسے اچانک کم ہو گیا تھا۔ علماء کی جھکی ہوئی گردن دیکھ کر اس کے اندر کہیں کچھ ہلا تھا۔
رات گزر چکی تھی۔ وہ رات جس نے اس کے جسم کو تھکا دیا تھا۔ جہانزیب کی جنونی قربت نے اس قدر بے حال کر دیا تھا کہ صبح تک وہ بستر پر بے جان پڑی رہی۔ جسم میں درد تھا۔ ہڈیوں میں تھکن تھی۔ آنکھوں میں نیند نہیں تھی۔
صبح دیر سے آنکھ کھلی۔ شہناز بیگم پہلے ہی اس کے کمرے کے دروازے پر کھڑی تھیں۔ "یہ گھر تمہارے میکے کا گھر نہیں ہے۔ علماء۔ یہاں اپنی مرضی سے سونے کے اوقات مقرر نہیں ہوتے۔"
علماء نے دھیمی ہوئی آنکھوں سے انہیں دیکھا۔ "آنٹی طبیعت بہت خراب تھی۔"
"طبیعت خراب تھی یا دیر تک اپنے شوہر کو مصروف رکھا تھا۔" یہ جملہ علماء کے دل پر چابک بن کر لگا۔
"تمہیں اس گھر میں رہنے کا طریقہ سیکھنا ہوگا۔ صرف جہانزیب کی بیوی بن جانے سے کوئی اس گھر کی ملکہ نہیں بن جاتا۔"
علماء نے اپنے ہونٹ بھینچ لیے۔ اس کے اندر کئی دنوں سے جمع خاموشی آج بغاوت پر اتر آئی۔
"میں نے کبھی خود کو اس گھر کی ملکہ نہیں سمجھا۔ میں نے ہمیشہ آپ کی عزت کی ہے۔ ہر بات برداشت کی ہے۔ ہر طنز خاموشی سے سنا ہے۔ ہر بار خود کو قصور وار سمجھا ہے۔ آج بھی میں معافی مانگ رہی ہوں۔ مگر ہر بار صرف اس لیے جھکنا کہ سامنے والا طاقتور ہے یہ بھی انصاف نہیں ہے۔"
شہناز بیگم کا چہرہ سخت ہو گیا "تم مجھ سے زبان چلا رہی ہو؟"
اسی لمحے شہناز بیگم نے فوراً جہانزیب کو آواز دی۔ جہانزیب چند لمحوں بعد کمرے میں داخل ہوا۔ شہناز بیگم نے آنسو بھری آواز میں سب کچھ اپنے انداز میں بیان کر دیا۔ جہانزیب کے چہرے پر غصہ پھیلتا چلا گیا۔
علماء نے اسے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں صرف ایک التجا تھی۔ "مجھے غلط مت سمجھنا۔" جہانزیب نے اس التجا کو نظر انداز کر دیا۔
اور اسی کے بعد یہ سب کچھ ہوا تھا۔
رات گہری ہوتی گئی۔ گھر خاموش ہو گیا۔ کمرے میں مدھم روشنی جل رہی تھی۔ جہانزیب سو گیا۔ آدھی رات کے قریب اس کی آنکھ کھلی۔ اس نے بے اختیار اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔ وہ اپنی بیوی کی قربت کے لیے ترس رہا تھا لیکن محسوس نہیں کروانا چاہتا تھا کہ اسے اپنی بیوی کی ضرورت ہے۔ بستر خالی تھا۔ جہانزیب نے فوراً اٹھ کر کمرے میں نظر دوڑائی۔ علماء کہیں نہیں تھی۔ کمرے کی الماری کھلی ہوئی تھی۔
جہانزیب کا دل ایک لمحے کے لیے رک سا گیا۔ وہ تیزی سے دروازے کی طرف بڑھا۔ "علماء۔" کوئی جواب نہیں آیا۔ اس نے پورا گھر چھان مارا۔ علماء کہیں نہیں تھی۔ میز پر ایک سفید لفافہ رکھا تھا۔ جہانزیب کے ہاتھ کانپنے لگے اس نے لفافہ اٹھایا۔ اندر ایک خط تھا۔ پہلی سطر پڑھتے ہی اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
"آپ نے اپنی ماں کو خوش کرنے کے لیے اپنے بچے کی ماں کو دھتکارا۔۔۔۔ میں آپ کی خریدی ہوئی زر خرید غلام نہیں۔ صرف آپ کی بیوی نہیں ہوں۔ آپ کی بیوی ہونے کے علاوہ ایک انسان بھی ہوں۔ لیکن یہ بات آپ فراموش کر گئے۔ آپ میرے بچے کے باپ کہلانے لائق نہیں۔۔ میں نے آپ سے محبت کی تھی۔ شاید آج بھی کرتی ہوں۔ اپنی محبت کی سزا بہت بھگت چکی ہوں۔ آپ کی انا کے سامنے میری کوئی حیثیت نہیں تھی۔ آپ نے خود کہا تھا میری زندگی سے دفع ہو جاؤ۔ آج میں آپ کی بات سن رہی ہوں۔"
"مجھے تلاش مت کرنا کیونکہ اگر میں آپ کو مل ہی گئی تو میں وہ علماء نہیں ہوں گی جو آپ سے محبت کرتی تھی۔ اس کے بعد کوئی نام نہیں تھا۔"
جہانزیب نے خط کو مٹھی میں بھینچ لیا۔ اس کی آنکھوں میں پہلی مرتبہ غصے کے ساتھ خوف بھی اتر آیا تھا۔ وہ دروازے کی طرف دیکھتا رہا۔ علماء گھر سے جا چکی تھی۔ کہاں گئی تھی یہ راز صرف علماء اپنے ساتھ لے کر گئی تھی۔ جہانزیب نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس کی بیوی ایک دن اسے اس طرح چھوڑ کر چلی جائے گی۔
اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ علماء ماں بننے والی تھی۔ وہ خط کی چند سطروں میں چھپی اس حقیقت کو بھی سمجھ نہیں پا رہا تھا۔
جہانزیب نے آدھی رات پورے گھر کو اپنی آواز سے ہلا دیا۔ "میری بیوی گھر سے غائب ہے۔ مجھے چوبیس گھنٹے کے اندر اندر علماء چاہیے۔"
کسی کے پاس کوئی خبر نہیں تھی۔ ہر طرف ایک ہی جواب تھا۔ علماء وہاں نہیں آئی تھی۔ جہانزیب نے فون بند کر دیا۔ اس کے چہرے پر بے بسی اب صاف دکھائی دے رہی تھی۔ اسے اپنی ہی کہی ہوئی بات یاد آئی۔ "دفع ہو جاؤ میری زندگی سے۔" اس وقت اسے اپنی بات پر کوئی افسوس نہیں تھا۔ اب وہی الفاظ اس کے سینے میں خنجر بن کر اتر رہے تھے۔
اسے علم نہیں تھا کہ وہ کب گھر سے نکلی تھی۔ اسے سب سے بڑی حقیقت کا بھی علم نہیں تھا۔ علماء اکیلی نہیں گئی تھی اس کے وجود میں جہانزیب کی محبت کی ایک نشانی سانس لے رہی تھی۔ ایک ایسا راز جس کا علم جہانزیب کو بہت دیر سے ہونے والا تھا۔
*--- فلیش بیک ---*
کچھ پل کے لیے جہانزیب کو اس کی زندگی کے ماضی میں لے گئی وہ رات جب اس کی علماء کے ساتھ پہلی رات تھی۔ جہانزیب کو صرف باوقار عورت چاہیے تھی اور خوبصورت بھی اس لیے اس نے ایک غریب کسان کی بیٹی سے شادی کی تھی۔
اس رات علماء کے رونے کی آوازیں آنے لگی۔۔ "کیا ہو گیا ہے کیوں رو رہی ہو جیسے تمہیں اغوا کر کے لایا ہوں کیا بات ہے۔"
وہ معصوم بچوں کی طرح روتے ہوئے کہنے لگی کہ "آپ نے میرے ساتھ کیا کیا۔۔۔"
جب جہانزیب نے کہا کہ "کیا میں نے تمہارے ساتھ کیا لکھ کر دوں؟ شادی ہوئی ہے ہماری شادی کا کیا مقصد ہوتا ہے؟"
علماء رگڑتے ہوئے بول رہی تھی کہ "ایسا نہیں ہوتا میں نے کبھی نہیں سنا۔ ایسا آپ نے غلط کیا ہے۔ میرے ساتھ بیوی ہوں آپ کی کبھی بھاگی تو نہیں جا رہی تھی۔۔۔ وہ اپنے چہرے پر آنسو رگڑتے ہوئے بول رہی تھی"
کہ جہانزیب نے اچانک سختی سے اس کا چہرہ تھوڑی سے پکڑ کے اپنے سامنے کر لیا اور کہنے لگا کہ "ارے تمہارے منہ میں زبان بھی ہے۔۔۔ پہلی ہی رات تمہاری اتنی زبان چل رہی ہے تو بعد میں تمہارا کیا ہو گا لگتا ہے تمہیں سیدھا کرنا ہی پڑے گا۔ فکر نہیں کرو دو چار دن میرے ساتھ رہ لو گی تو اندازہ ہو جائے گا کہ میں کس قماش کا آدمی ہوں۔۔ پھر میرے سامنے اپنی زبان کھولنے سے پہلے بھی دس دفعہ سوچو گی۔۔۔"
"آپ کس قسم کی انسان ہے مجھے سمجھ آ گیا ہے۔" علماء نے پورے یقین سے یہ بات کہی تھی۔ جہانزیب نے ایک جھٹکے سے اس کا منہ چھوڑ دیا اور کہا کہ "اچھا اتنی جلدی سمجھ آ گیا ہے تو ذرا مجھے بھی بتاؤ میں بھی سننا چاہتا ہوں کہ میں کس قسم کا آدمی ہوں۔۔۔"
وہ بڑی ہی ڈھٹائی سے اس کی بات سننے کو تیار بیٹھا تھا کہ یہ چھٹانک بھر کی دبلی سی کم عمر لڑکی کیا واقعی اس کو سمجھ گئی تھی۔ اس لڑکی نے گہرا سانس لیا اور کہنے لگی کہ "شکاری ہیں آپ۔۔۔ جہاں زیب شکاری ہیں آپ۔۔۔ دو طرح کے شکاری ہوتے ہیں ایک وہ جو سیدھا سیدھا شکار کرتا ہے اور ایک وار میں شکار کو ختم کر دیتا ہے تا کہ اس کو زیادہ تکلیف نہ ہو اور دوسرا وہ جو شکار کو پورے جنگل میں دوڑاتا ہے اس کو تڑپاتا ہے۔۔۔۔ اور اس کی موت کو انجوئے کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ اور افسوس آپ دوسرے والے ہیں جہانزیب۔۔۔"
اتنا بول کر وہ چپ ہو گئی اور آج پہلی دفعہ جہانزیب کے پاس بھی بولنے کو کچھ نہیں تھا۔
*--- واپس حال میں ---*
علماء کو خود بھی معلوم نہیں تھا کہ اسے کیا امید تھی۔۔ وہ صرف گھر سے دور جانا چاہتی تھی۔۔ جہانزیب سے دور۔۔ شہناز بیگم کی آواز سے دور۔۔ اس حویلی کی ان دیواروں سے دور۔ جن کے اندر رہتے ہوئے اسے اپنا وجود بھی بوجھ محسوس ہونے لگتا تھا۔
اس کے قدم مسلسل چلتے رہے تھے آنکھوں کے سامنے راستہ دھندلا رہا تھا۔ دل میں خوف تھا۔ سینے میں عجیب سی گھٹن تھی۔ پھر بھی وہ رکنے کے لیے تیار نہیں تھی۔ وہ اسٹیشن تک پہنچ گئی تھی۔ رات کی آخری سانسیں تھیں۔ پلیٹ فارم پر مسافروں کی محدود تعداد موجود تھی۔ بو فضا میں پھیلی ہوئی تھی۔ علماء نے اپنے دوپٹے کو مزید اچھی طرح سر پر جما لیا بس ایک ہی خیال تھا۔ جہانزیب سے بہت دور جانا ہے۔
ٹرین پلیٹ فارم پر کھڑی تھی۔ علماء جلدی سے آخری ڈبے میں سوار ہو گئی۔ اندر چند مسافر بیٹھے ہوئے تھے۔ اس نے کھڑکی کے قریب ایک نشست سنبھال لی۔ ہاتھ اپنی گود میں رکھ لیے۔ انگلیاں مسلسل کانپ رہی تھیں۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں۔ شاید اب وہ محفوظ تھی شاید اب جہانزیب اسے نہیں ڈھونڈ پائے گا۔ شاید وہ اپنی زندگی نئے سرے سے شروع کر سکے گی۔
اس کے ذہن میں اپنے آنے والے بچے کا خیال آیا۔ اس نے بے اختیار اپنا ہاتھ پیٹ پر رکھ لیا۔ آنکھوں میں آنسو اتر آئے اس بچے کو وہ جہانزیب سے دور رکھنا چاہتی تھی۔ اس شخص سے جس نے اسے سب کے سامنے ذلیل کیا تھا۔ اس شخص سے جس نے اسے اپنی زندگی سے نکل جانے کا حکم دیا تھا۔
اچانک پلیٹ فارم پر ایک ہلچل مچی۔ جو دکھائی دیا علماء کی سانس رک گئی۔ جہانزیب۔۔ وہ تیزی سے اسی ڈبے کی طرف بڑھ رہا تھا۔
“Fall at my mother’s feet and beg for her forgiveness, or get out of my life forever!” Jahanzaib roared in front of everyone. His harsh words left Almas’s innocent face burning with humiliation. His eyes were bloodshot with anger, his fists clenched tightly, and the veins on his forehead stood out. Almas tried to explain that she had done nothing intentionally, but he refused to listen and ordered her to apologize to his mother, Shehnaz Begum. With tears in her eyes, Almas finally stood before her mother-in-law, joined her hands, and whispered, “Please forgive me, Auntie.” That night, after enduring another painful encounter with her husband, she woke up to find Shehnaz Begum insulting her for waking up late. Unable to bear the constant humiliation anymore, Almas finally spoke up, telling her that respecting someone did not mean accepting injustice forever. Shehnaz immediately called Jahanzaib and twisted the entire situation against her. When he entered the room, Almas looked at him with pleading eyes, silently begging him not to misunderstand her, but he ignored her pain and once again chose his mother over his wife.
Later that night, Jahanzaib woke up and instinctively reached for his wife, craving her closeness, but the bed beside him was empty. He searched the entire house, only to discover that Almas was gone. On the table lay a white envelope containing a heartbreaking letter. “You rejected the mother of your child just to make your mother happy. I am not a purchased slave who has to obey every command. I am not just your wife; I am a human being with feelings and self-respect. I loved you, and perhaps I still do, but I have suffered enough for that love. You told me to get out of your life, and today I am finally doing what you asked. Do not look for me, because if you ever find me, I will no longer be the Almas who loved you.” Jahanzaib crushed the letter in his fist, feeling fear for the first time. He had no idea that Almas was pregnant and had left with his child growing inside her. Desperate, he ordered everyone to find her within twenty-four hours. But Almas had already reached the railway station and boarded a train, determined to start a new life far away from him. As the train stood on the platform, she gently placed a hand over her stomach, promising herself that she would protect her unborn baby from the man who had destroyed her heart.
A memory from their first night together flashed through Jahanzaib’s mind. He had married Almas, a poor farmer’s daughter, because he wanted a beautiful and dignified wife. But on their wedding night, when she cried and questioned his behaviour, he threatened to teach her a lesson and warned her never to raise her voice before him again. Instead of remaining silent, the innocent girl had looked straight into his eyes and called him a hunter. “There are two kinds of hunters. One kills his prey in a single attack so it does not suffer, while the other chases it through the entire jungle, torturing it before finally enjoying its death. Unfortunately, Jahanzaib, you belong to the second kind.” For the first time, he had been left speechless. Back in the present, Almas sat in the train, trying to convince herself that she was finally safe. She wanted to escape the mansion, her cruel mother-in-law, and the husband who had repeatedly broken her heart. But suddenly, a commotion erupted on the platform. Her eyes widened, and her breath caught in her throat as she spotted Jahanzaib rushing towards the very compartment she was sitting in. He had found her!
Download Complete Novel By Clicking download Button Below

