حریم پرانے کپڑے پہن کر اپنی کزن کی بارات کے لیے تیار ہوئی تھی جب اس کی کزن نے اسے اپنا دلہن کا لہنگا پہنایا اور اس کے سر پر گھونگھٹ ڈال دیا وہ مار کھانے کے خوف سے خاموشی سے بیٹھ گئی پر نہیں جانتی تھی اس کی کزن اپنی بارات سے فرار ہو چکی تھی جان تو تب نکلی جب لوگ اسے دلہن سمجھ کر اسٹیج پر لے گئے اور ابراج سلطان کے برابر میں بٹھایا جس کے چہرے پر شدید ناگواری تھی۔ وہ اپنے باپ کی وجہ سے اس شادی پر رضامند ہوا تھا جب نکاح شروع ہوا حریم نے روتے ہوئے گھونگھٹ الٹا تو سب پتھر ہوتے اسے دیکھنے لگے چچی آگے بڑھ کر اس یتیم کو مارنے لگیں اور اسی پر اپنی بیٹی کو بھگانے کا الزام ڈال دیا
"باہر میڈیا والے کھڑے ہیں۔۔۔ میں کوئی تماشہ نہیں چاہتا۔۔ میرا نکاح اسی لڑکی سے ہوگا۔۔"
وہ سرد لہجے میں بولا۔ نکاح کے پیپرز سائن کرتے وقت ابراج سلطان کے لبوں پر مسکراہٹ تھی۔ حریم کی رخصتی ہوئی تو حویلی میں اس کا استقبال پھولوں کی بارش سے ہوا کیو نکہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ۔۔۔۔۔۔۔
"تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا ماہ نور میں یہ دلہن کا جوڑا کیسے پہن سکتی ہوں چچی جان مجھے مار ڈالیں گی اور اگر ابراج سلطان یا ان کے گھر والوں کو پتہ چلا تو وہ کیا سوچیں گے"
حریم خوف سے کانپتی ہوئی پیچھے ہٹی اس کے پرانے کپڑے اس شاندار کمرے کی ہر چیز سے بے جوڑ لگ رہے تھے۔ ماہ نور کے چہرے پر عجیب سی خود سری اور ضد طاری تھی اس نے زبردستی وہ بھاری سرخ لہنگا حریم کے ہاتھوں میں تھمایا اور غصے سے اس کا بازو دبوچ لیا۔
"کہو اس بند کرو حریم اور چپ چاپ یہ جوڑا پہن لو میں صرف ایک گھنٹے کے لیے جا رہی ہوں میرا ایک بہت ضروری کام ہے اگر تم نے یہ جوڑا پہن کر میری جگہ گھونگھٹ نکال کر بیٹھنے سے انکار کیا تو یاد رکھنا میں امی کو بتاؤں گی کہ تم نے میرے زیور چرائے ہیں اور پھر وہ تمہارا کیا حشر کریں گی تم اچھی طرح جانتی ہو"
اس کھلی دھمکی پر حریم کی آنکھوں میں آنسو آگئے وہ ایک یتیم لڑکی تھی جس کے والدین بچپن میں ہی وفات پا گئے تھے اور چچا خرم کے گھر میں اسے ویسے بھی ملازماؤں سے بدتر سمجھا جاتا تھا۔ چچی نسرین نے اسے میٹرک کے بعد پڑھنے نہیں دیا تھا اور گھر کے سارے کام اسی کے ذمے تھے۔
"ماہ نور تم ایسا مت کرو باہر بارات آنے والی ہے سلطان حیات صاحب اور ان کی بیوی فرزانہ بیگم کسی بھی وقت پہنچ جائیں گے ابراج سلطان جیسے غصے والے انسان کے ساتھ تم یہ کھیل مت کھیلو"
حریم نے گڑگڑاتے ہوئے ہاتھ جوڑے لیکن ماہ نور نے جھنجھلا کر اسے بیڈ پر دھکا دیا۔
"مجھے کسی ابراج سے کوئی دلچسپی نہیں ہے میں ایک گھنٹے میں واپس آ جاؤں گی تب تک تم سر پر یہ بھاری گھونگھٹ ڈال کر بیڈ پر بیٹھی رہنا کسی کو پتہ نہیں چلے گا"
ماہ نور نے زبردستی اسے پرانے کپڑوں کے اوپر ہی دلہن کا لہنگا پہنا دیا اس کے سر پر سرخ گھونگھٹ ڈالا اور خود تیزی سے کمرے سے نکل کر پچھلے دروازے سے فرار ہو گئی۔ حریم خوف سے کانپتی ہوئی بیڈ کے کنارے سمٹ کر بیٹھ گئی وہ دل ہی دل میں دعائیں مانگ رہی تھی کہ ماہ نور جلدی واپس آ جائے لیکن وقت بے رحمی سے گزرتا جا رہا تھا اور باہر ڈھول باجوں اور گاڑیوں کے ہارن کی آوازیں تیز ہو رہی تھیں جس کا مطلب تھا کہ سلطان خاندان کی بارات آ چکی ہے۔
باہر لان میں ایک الگ ہی چہل پہل تھی ابراج سلطان جو ایک خوبرو وجیہہ اور باوقار شخص تھا سیاہ شیروانی میں ملبوس چہرے پر شدید ناگواری لیے کھڑا تھا۔ وہ اس شادی پر بالکل خوش نہیں تھا مگر اپنے والد سلطان حیات کی عزت اور ان کے پرانے کاروباری تعلقات کی خاطر اس نے خاموشی اختیار کر لی تھی۔
اس کا چھوٹا بھائی ارحم کھڑا تھا جو کافی ہنس مکھ اور شوخ لڑکا تھا۔
"بھائی جان آج تو تھوڑا سا مسکرا دیں میڈیا والے کیمرے زوم کر کے آپ کے ماتھے کی لکیریں گن رہے ہوں گے"
ارحم نے مسکراتے ہوئے چھیڑا لیکن ابراج نے اسے ایسی سرد نگاہ سے دیکھا کہ ارحم فوراً سیدھا ہو گیا۔ دوسری طرف فرزانہ بیگم بڑے غرور سے چلتی ہوئی آ رہی تھیں وہ اس رشتے پر اس لیے راضی ہوئی تھیں کیونکہ ماہ نور خوبصورت تھی اور خرم صاحب کا گھرانہ ان کے معیار کے مطابق تھا۔
اندر کمرے میں دروازہ زور سے کھلا اور چچی نسرین ہانپتی ہوئی اندر داخل ہوئیں۔
"جلدی اٹھو ماہ نور بارات آ گئی ہے اور نکاح خواں انتظار کر رہے ہیں"
چچی نسرین نے گھونگھٹ کے اندر چھپی حریم کو ماہ نور سمجھ کر اس کا بازو پکڑا اور اسے کھینچتے ہوئے باہر کی طرف لے جانے لگیں۔ حریم نے کچھ بولنے کے لیے منہ کھولا۔
"چچی جان وہ میں..."
لیکن چچی کی گرفت اتنی مضبوط تھی اور ان کی آواز میں اتنی جلدی تھی کہ حریم کے حلق میں آواز ہی پھنس گئی۔ وہ مار کھانے کے خوف سے خاموشی سے چلتی رہی اس کا پورا وجود لرز رہا تھا۔ سٹیج پر پہنچ کر اسے ایک صوفے پر بٹھا دیا گیا۔
اس کے برابر میں ابراج سلطان آکر بیٹھا جس کے وجود سے سرد مہری اور غصہ چھلک رہا تھا۔ سامنے فرزانہ بیگم اور سلطان حیات صاحب بیٹھے تھے جب کہ چچا خرم مہمانوں کو سنبھالنے میں مصروف تھے۔ نکاح خواں نے مائیک پکڑا اور نکاح کا خطبہ پڑھنے کے بعد دلہن سے مخاطب ہوئے۔
"ماہ نور بنت خرم کیا آپ کو ابراج سلطان ولد سلطان حیات کے ساتھ یہ نکاح پچاس لاکھ روپے حق مہر کے عوض قبول ہے"
قاضی صاحب کی آواز پر پورے ہال میں خاموشی چھا گئی۔ حریم کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ اس نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اپنا بھاری سرخ گھونگھٹ الٹ دیا اس کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا اور وہ ہچکیاں لیتے ہوئے بولی۔
"میرا نام ماہ نور نہیں ہے میں حریم ہوں"
اس ایک جملے نے جیسے پورے ہال میں بم گرا دیا۔ ابراج سلطان نے حیرت سے اس روتی ہوئی لڑکی کی طرف دیکھا۔ چچی نسرین کی تو جیسے جان ہی نکل گئی انہیں فورا سمجھ آگیا کہ ان کی بیٹی فرار ہو چکی ہے۔ وہ اپنی خفت اور غصہ مٹانے کے لیے تیزی سے آگے بڑھیں اور انہوں نے حریم کے منہ پر ایک زوردار تھپڑ رسید کیا۔
"بے شرم لڑکی تم یہاں کیا کر رہی ہو میری بیٹی کہاں ہے تم نے ضرور میری بیٹی کو کہیں غائب کر دیا ہے اور خود اس کی جگہ دلہن بن کر بیٹھ گئی ہو تاکہ سلطان خاندان کی دولت پر قبضہ کر سکو"
چچی نسرین نے روتی ہوئی حریم کو بازو سے پکڑ کر جھنجھوڑا۔ حریم رونے لگی اور ہاتھ جوڑ کر گڑگڑانے لگی۔
"چچی جان مجھے کچھ نہیں پتہ ماہ نور مجھے یہ جوڑا پہنا کر خود کہیں چلی گئی ہے میں نے اسے نہیں بھگایا مجھے چھوڑ دیں"
لیکن چچی نسرین مسلسل اس پر ہاتھ اٹھا رہی تھیں۔ مہمانوں میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئی تھیں اور کیمروں کی فلیش لائٹس چمکنے لگی تھیں۔ فرزانہ بیگم صدمے اور غصے سے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔
"یہ کیا تماشہ ہے خرم صاحب ہماری اتنی بڑی بے عزتی آپ کی بیٹی کہاں ہے آپ اس یتیم بچی کو ہمارے گلے مڑھ رہے ہیں"
سلطان حیات صاحب بھی شدید شرمندگی اور غصے کے عالم میں تھے اسی وقت ابراج سلطان اپنی جگہ سے اٹھا اس کی آنکھوں میں شعلے بھڑک رہے تھے اس نے ایک گرجدار آواز میں سب کو خاموش کروا دیا۔
"بس کر دیں یہ تماشہ"
ابراج کی آواز اتنی بلند تھی کہ چچی نسرین کے ہاتھ ہوا میں رک گئے اور پورا ہال دم سادھ گیا۔ ابراج نے غصے سے چچا خرم اور چچی نسرین کی طرف دیکھا اور پھر اپنے باپ کی طرف مڑ کر بولا۔
"باہر میڈیا والے کھڑے ہیں میں اپنے خاندان کی مزید جگ ہنسائی نہیں چاہتا میرا نکاح اسی لڑکی سے ہو گا اب"
ابراج کے اس اعلان پر فرزانہ بیگم چیخ پڑیں۔
"تم پاگل ہو گئے ہو ابراج یہ ایک غریب دو کوڑی کی لڑکی ہے ہم اسے اپنے خاندان کی بہو نہیں بنا سکتے"
لیکن ابراج نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے اپنی ماں کو خاموش کروایا۔
"قاضی صاحب آپ نکاح پڑھائیں"
مجبوری اور خاندانی عزت بچانے کے لیے ابراج نے یہ فیصلہ کیا تھا۔ روتی سسکتی اور کانپتی ہوئی حریم کے منہ سے زبردستی قبول ہے کہلوایا گیا اور وہ ابراج سلطان کے نکاح میں آگئی۔ نکاح کے فورا بعد بغیر کسی تقریب کے حریم کی رخصتی کر دی گئی۔ وہ ایک پرانی سی شال میں خود کو لپیٹے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر سمٹی بیٹھی مسلسل رو رہی تھی۔
حریم کانپتے قدموں کے ساتھ حویلی کے بڑے دروازے سے اندر داخل ہوئی۔ فرزانہ بیگم جو غصے سے پاگل ہو رہی تھیں حویلی میں داخل ہوتے ہی پٹیں اور انتہائی حقارت سے حریم کو دیکھتے ہوئے بولیں۔
"تم جیسی سڑک چھاپ لڑکی نے میرے بیٹے کی زندگی برباد کر دی ہے تمہارے چچا اور چچی نے بہت بڑی سازش کی ہے تمہیں دلہن بنا دیا اور تم اتنی معصوم بن رہی ہو جیسے کچھ پتہ ہی نہ ہو یاد رکھنا ایک غریب لڑکی ہمارے خاندان کا حصہ بن جائے یہ میں کبھی برداشت نہیں کروں گی"
سلطان حیات صاحب نے تھکے ہوئے لہجے میں اپنی بیوی کو روکا۔
"فرزانہ بس کر دو اب جو ہونا تھا ہو چکا ہے ابراج نے خاندان کی عزت کے لیے اسے اپنایا ہے اسے فی الحال اندر جانے دو"
ارحم کچھ فاصلے پر کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا۔ ابراج سلطان جو اب تک خاموشی سے یہ سب سن رہا تھا اچانک آگے بڑھا اور اس نے حریم کا بازو سختی سے پکڑا۔
"میرے ساتھ آؤ"
وہ اسے کھینچتے ہوئے حویلی کے شاندار کوریڈورز سے نکال کر پچھلے حصے کی طرف لے گیا جہاں ملازمین کے پرانے اور خستہ حال کوارٹرز بنے ہوئے تھے۔ ابراج نے ایک اندھیرے اور گرد آلود سرونٹ کوارٹر کا دروازہ کھولا اور حریم کو اندر دھکا دیا۔ حریم ٹھوکر کھا کر فرش پر گر گئی۔ ابراج دروازے پر کھڑا ہوا اس کی آواز میں برف جیسی ٹھنڈک تھی۔
"تمہاری اوقات اس حویلی کے اندر رہنے کی نہیں ہے تم اسی سرونٹ کوارٹر میں رہو گی اور یاد رکھنا اس نکاح سے تمہیں میری بیوی ہونے کے کوئی حقوق نہیں ملیں گے اور نہ ہی میری ذاتی زندگی میں مداخلت کی کوئی اجازت ملی ہے تم میری زندگی میں ایک غیر ضروری بوجھ ہو جسے میں صرف اپنے باپ کی عزت بچانے کے لیے برداشت کیا مجھ سے کسی محبت یا رشتے کی امید مت رکھنا"
حریم نے فرش سے سر اٹھایا اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
"آپ میرا یقین کریں میں نے کسی کا گھر بسانے یا چھیننے کی کوشش نہیں کی تھی مجھے تو خود اپنی شادی کا علم نہیں تھا ماہ نور نے میرے ساتھ زبردستی کی تھی میں کوئی لالچی لڑکی نہیں ہوں"
لیکن ابراج کے چہرے پر ایک طنزیہ مسکراہٹ ابھری۔
"تم جیسی لڑکیاں صرف دولت کے لیے بکتی ہیں تم نے بہت خوشی سے یہ کھیل کھیلا ہے اور میں سب جانتا ہوں کہ یہ تمہارے چچا اور چچی کی ملی بھگت ہے جب تک میں اپنے باپ کو ناراض نہیں کرنا چاہتا تب تک یہ نکاح برقرار رہے گا لیکن تم اس گھر میں ایک ملازمہ سے بڑھ کر کچھ نہیں ہو"
ابراج یہ کہہ کر مڑا اور دروازہ زور سے بند کر کے چلا گیا۔
Hareem was wearing her old clothes and getting ready for her cousin Mahnoor’s wedding when Mahnoor suddenly forced her to wear the heavy red bridal lehenga and cover her face with a veil. Terrified of being beaten by her aunt, Hareem reluctantly obeyed, unaware that Mahnoor had actually run away from her own wedding. Her nightmare began when her aunt, mistaking her for the bride, dragged her to the stage and seated her beside Abraj Sultan, a handsome but arrogant businessman who had agreed to the marriage only to fulfil his father Sultan Hayat’s wishes. When the Qazi asked for the bride’s consent, Hareem finally lifted her veil with tearful eyes and revealed her real identity. The entire hall was left stunned. Her aunt Nasreen immediately slapped her and accused her of deliberately making Mahnoor disappear to marry into a wealthy family. As the guests whispered and cameras flashed, Abraj, unwilling to let his family become the subject of a public scandal, coldly announced that he would marry Hareem instead. Despite his mother Farzana’s furious objections, he ordered the Qazi to proceed with the nikah.
After the wedding, Hareem was taken to the magnificent Sultan mansion, but instead of receiving a warm welcome, she was greeted with humiliation and hatred. Farzana openly insulted her, calling her an unworthy girl who had ruined her son's life. Sultan Hayat tried to calm his wife, explaining that Abraj had accepted the marriage to protect the family's honour. However, Abraj had no intention of treating Hareem as his wife. He grabbed her arm and dragged her away from the luxurious corridors of the mansion towards the servants' quarters. Opening the door to a dark, dusty room, he pushed her inside, causing her to stumble and fall to the floor. With a cold expression, he declared that she was not worthy of living in the main house and would have to stay in the servant's quarters. He further warned her that this marriage gave her no rights as his wife and that she should never expect love, respect, or any place in his personal life.
Hareem, crying helplessly, tried to explain that she had never planned to marry him or steal another girl's place. She told him that Mahnoor had forced her into the bridal outfit and disappeared without giving her any choice. She pleaded with him to believe that she was not a greedy girl interested in his wealth. But Abraj only responded with a sarcastic smile. Convinced that Hareem, along with her uncle and aunt, had deliberately plotted to trap him, he accused her of being part of their conspiracy. He made it clear that he would maintain the marriage only until he could find a way to avoid upsetting his father, but as far as he was concerned, Hareem would never be more than a servant in his house. Leaving her alone in the miserable room, he slammed the door behind him, while Hareem sat on the cold floor, wondering how her life had changed so drastically in a single night.
Download Complete Novel By Clicking download Button Below

