Sun Saiyyan - Complete PDF

Urdu Novelians

Novel Name:Sun Saiyyan
Writer:Unknown
Category: Forced Marriage Based

Most Attractive Sneak Peak Of Sun Saiyyan

"Please don't kill me, I didn't do anything." Ayşe Efendi, who was the orphan niece of a world-famous businessman, Tehmur Efendi, but her status was no less than that of a maid. She was tortured for the slightest mistake. Even now, to escape her aunt's cruelty, she had hidden in a room that belonged to her cousin Kayan Efendi, whose terror the entire family feared. Ayşe Efendi's intimidating appearance had silenced Kayan Efendi.


..................................


At that time, all the residents of the house were present in the dining hall of the Efendi villa and were enjoying dinner. Kayan Efendi, the beloved and sole heir of this house, was present at the dinner table with all of them today. The food was specially prepared to Kayan's liking... Everyone was having dinner in a happy atmosphere. "So, what are your plans for the future, Barkhor?" Tehmur Sahib looked at his son while taking a fork in his mouth. "I want to establish my business here as well and focus on my personal life as well." Kayan said in a busy manner, glancing at his parents. "Good to hear that you have become serious about your personal life as well." Taimur Sahib looked impressed. "Boys your age have become fathers of two children and you are still single." A smile came to Shamsa Begum's face at Taimur Sahib's subtle sarcasm... while Kayan could not even smile. "Yes... I also want to give you at least one grandchild in the coming year, not two." He turned to them with a smiling gaze. "Your mother has planned a party for your welcome tomorrow. Your maternal uncle's family is also invited. Apart from that, our entire circle is invited." Taimur Sahib said while pouring rice on his plate. "Hira is a very good girl. She is well-educated, well-mannered and very stylish too... You will definitely like her a lot. You can meet her tomorrow and if you like her, we will take the matter further." Shamsa Begum shrugged her shoulders while extending a bowl of Manchurian towards her husband. Those who had ruined her peace for eight years were still determined to do their will and upset her... The girl who had not been given the status of Kayan Effendi's wife was definitely going to get the crown now... Kayan was furious with his parents... He felt that his parents had grown very fond of his niece, which is why they had forced her on him. "You should take the matter further." Kayan said with great pleasure while eating. "Meet Hira once." Taimur Sahib interrupted, laughing at his son's haste. "Why dad?" Kayan, who was acting perfectly, was shocked. "For marriage." Shamsa Begum, looking at her son, wondered what was going on in her son's mind. "I'm married now, now I have to leave." Kayan calmly bombarded him while eating. "To whom?" Timur Sahib asked in shock. "To your niece Aish... you forgot to get married..." Kayan reminded him while looking at his father. "It was a compulsion." Shamsa Begum immediately convinced him. "I got married... I don't know if it was a compulsion or a pleasure, but you people did this marriage without giving importance to my dislike and because of this Aish I had to stay away from home for eight years and now that I have returned, I see that she does not even have the status of Kayan Effendi's wife." Kayan stopped eating and looked at them both in detail. "Can I know why this is so?" He glanced at them both in turn and picked up his fork once again. "Half the property... that fool owns half the property... half of the wealth that you two siblings are enjoying belongs to this girl." Taimur Sahib was snorting as he banged his fork on his plate. "If she had been married somewhere else, this wealth would have gone... then I would have seen how you both live a luxurious life... but this will not come to your thick intellect and you had left home of your own free will, we had not taken it out." Taimur Sahib was touching his head with his fingers while saying thick intellect. Kayan's patience did not decrease in any way. "Give her the position of Mrs. Kayan Effendi, wherever you say, I will marry." Kayan leaned back against the chair. "Impossible..." Shamsa Begum shouted. "Then give up the dream of my marriage." Kayan still spoke in the same manner. "Your mind is right. If you give this girl her position, we will all lose this wealth." Taimur Sahib was beginning to suspect his son's mental state. "Aish..." Kayan roared. "Why are you calling her?" Shamsa Begum asked with sharp teeth. "Yes..." Ayesh was present like a bottle of gin. "Sit down... and serve me food." Kayan looked at his parents' faces. "Why are you eating food sitting with Dad...?" Kayan asked patiently. "There is no competition between me and him." Shamsa Begum said, gritting her teeth. "Kayan mind your language... she is your mother and my wife..." Taimur Sahib snapped in disgust. "Of course she is my wife. She should come and eat food with her husband." Her composure did not diminish. "Come on brother... I will not sit here in her presence." Zamal frowned. "As you wish..." Kayan shrugged. "Sit down..." Kayan patted him. She sat down, dragging a trembling chair, while the sound of Shamsa Begum and Zamal dragging their chairs echoed in the dining hall. They had both gotten up and left. Taimur Sahib was observing his son's movements and postures in a calm manner.

Urdu Sneak Peek




"پلیز مجھے مت مارنا میں نے کچھ نہیں کیا۔" عائش افندی جو دنیا کیلئے ایک مشہور بزنس مین تہمور افندی کی یتیم بھتیجی تھی لیکن اُسکی حیثیت ایک ملازمہ سے کم نہ تھی۔ ذرا سی غلطی پر اُسے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ اب بھی وہ اپنی چچی کے ظلم سے بچنے کیلئے ایک کمرے میں چھپ گئی تھی جو اُسکے چچا زاد کایان افندی کا تھا جس کی دہشت سے پورا خاندان ڈرتا تھا۔ عائش افندی کا یہ ڈرا سہما روپ کایان افندی کو ساکت کر گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آفندی ولا کے ڈائننگ ہال میں اس وقت گھر کے سبھی مکین موجود تھے اور ڈنر کو انجوائے کر رہے تھے۔ اس گھر کا لاڈلا اور اکلوتا وارث کایان آفندی آج ان سب کے ساتھ ڈنر ٹیبل پر موجود تھا۔ کھانا خاص کایان کی پسند کا بنوایا گیا تھا۔۔۔ سبھی لوگ پُرمسرت ماحول میں ڈنر نوش فرما رہے تھے۔ "تو برخوردار آگے کے کیا پلانز ہیں؟" تیمور صاحب نے فورک منہ میں لیتے ہوئے بیٹے کی طرف دیکھا۔ "میں اپنا بزنس یہاں بھی اسٹیبلش کرنا چاہتا ہوں اور ساتھ ساتھ اپنی پرسنل لائف پر بھی فوکس کروں گا۔" کایان نے مصروف سے انداز میں کہتے ہوئے ایک نگاہ اپنے ماں باپ کو ضرور دیکھا تھا. "گڈ ٹو لِسن کہ تم اب اپنی پرسنل لائف کے لیے بھی سیریس ہو چکے ہو۔" تیمور صاحب متاثر نظر آئے۔ "تمہاری عمر کے لڑکے دو دو بچوں کے باپ بن چکے ہیں اور تم ہو کے اب تک کنوارے پھر رہے ہو۔" تیمور صاحب کے لطیف سے طنز پر شمسہ بیگم کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔۔۔ جب کہ کایان مسکرا بھی نہ سکا۔ "جی۔۔۔ میں بھی چاہتا ہوں کہ آنے والے سال میں دو نہ سہی لیکن آپ کو ایک پوتا تو دے ہی دوں۔" وہ مسکراتی نگاہوں سے سپاٹ انداز میں ان دونوں کی طرف متوجہ ہوا۔ "تمہاری موم نے کل تمہارے ویلکم کے لیے پارٹی پلان کی ہے۔ تمہارے ماموں کی فیملی بھی مدعو ہے۔ اس کے علاؤہ ہمارا پورا سرکل انوائٹڈ ہے۔" تیمور صاحب نے اپنی پلیٹ میں رائس ڈالتے ہوئے بتایا۔ "حرا بہت اچھی لڑکی ہے۔۔ پڑھی لکھی ہے، سلجھی ہوئی ہے اور بہت سٹائلش بھی ہے۔۔۔ تمہیں یقیناً وہ بہت پسند آئے گی۔ تم کل مل لینا اور اگر تمہیں پسند آ جاتی ہے تو بات آگے بڑھا دیں گے۔" شمسہ بیگم نے شوہر کی طرف منچورین کا باؤل بڑھاتے ہوئے کندھے اچکا کر کہا۔ جن لوگوں نے آٹھ سال اس کا سکون غارت کر رکھا تھا وہ اب بھی اپنی مرضی چلا کر اس کا چین اڑانے کا ارادہ رکھتے تھے۔۔۔ وہ لڑکی جسے کایان آفندی کی بیوی کی حیثیت نہیں ملی تھی اسے اب سوتن ضرور ملنے والی تھی۔۔۔۔ کایان کو اپنے ماں باپ پر جی بھر کر غصہ آیا۔۔۔ اسے لگتا تھا کہ اس کے والدین کو بھتیجی پر بہت پیار آ گیا ہے اسی لیے زبردستی اسے اس پر مسلط کر دیا گیا۔ "آپ بات آگے بڑھائیں۔" کایان نے کھانا کھاتے ہوئے بڑے ہی مزے سے کہا۔ "ایک بار حرا سے مل تو لو۔" تیمور صاحب نے بیٹے کی جلد بازی پر ہنستے ہوئے ٹوکا۔ "کس لیے ڈیڈ؟" کمال اداکاری کرتا کایان چونکا تھا۔ "شادی کے لیے۔۔" شمسہ بیگم نے بیٹے کو دیکھتے ہوئے سوچا کہ ان کے بیٹے کے دماغ میں کیا چل رہا ہے۔ "میری شادی تو ہو چکی ہے اب رخصتی ہی ہونی ہے۔" کایان نے کھانا کھاتے ہوئے آرام سے بم بلاسٹ کیا۔ "کس سے ہوئی؟" تیمور صاحب نے چونکتے ہوئے پوچھا۔ "آپ کی بھتیجی عائش سے۔۔۔۔ آپ نے ہی تو کیا ہے نکاح بھول گئے۔۔۔؟" کایان نے باپ کی طرف دیکھتے ہوئے انہیں یاد دلایا۔ "وہ ایک مجبوری تھی۔" شمسہ بیگم نے فوراً باور کروایا۔ "میرا نکاح ہوا ہے۔۔۔ مجبوری یا خوشی یہ مجھے نہیں پتہ لیکن میری ناپسندیدگی کو نہ اہمیت دیتے ہوئے آپ لوگوں نے یہ نکاح کیا اور اسی عائش کی وجہ سے مجھے آٹھ سال گھر بدر رہنا پڑا اور اب جب کہ میں واپس آیا ہوں تو میں دیکھتا ہوں کہ اسے کایان آفندی کی بیوی کا مقام بھی حاصل نہیں ہے۔" کایان کھانا چھوڑے تفصیلاً ان دونوں کی طرف متوجہ تھا۔ "کیا میں جان سکتا ہوں کہ ایسا کیوں ہے؟" وہ ایک نگاہ باری باری ان دونوں پر ڈال کر اپنا فورک ایک بار پھر اٹھا چکا تھا۔ "آدھی جائیداد۔۔۔ آدھی جائیداد کی مالک ہے وہ بے وقوف۔۔۔ جس دولت پر تم دونوں بہن بھائی عیش کر رہے ہو اس کا آدھا حصہ اس لڑکی کا ہے۔" تیمور صاحب اپنا فورک پلیٹ میں پٹختے غرائے تھے۔ "اگر اس کی شادی کہیں اور کی جاتی تو یہ دولت چلی جاتی۔۔۔ پھر میں دیکھتا تم دونوں کو کہ کیسے عیش کی زندگی گزارتے ہو۔۔۔۔ لیکن تمہاری اس موٹی عقل میں یہ بات نہیں آئے گی اور تم خود اپنی مرضی سے گھر بدر ہوئے تھے ہم نے نہیں نکالا تھا۔" تیمور صاحب نے موٹی عقل کہتے وقت اس کے سر کو انگلیوں سے بجایا تھا۔ کایان کے تحمل میں کوئی کمی نہ آئی۔ "اسے مسز کایان آفندی کا مقام دیں جہاں کہیں گے میں شادی کروں گا۔" کایان نے چیئر سے اپنی بیک لگاتے کہا۔ "ناممکن۔۔۔" شمسہ بیگم چلائیں۔ "پھر میری شادی کا خواب چھوڑ دیں۔" کایان نے ہنوز اسی انداز میں کہا۔ "تمہارا دماغ ٹھیک ہے اگر تم اس لڑکی کو اس کی حیثیت دو گے تو ہم سب اس دولت سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔" تیمور صاحب کو اپنے بیٹے کی دماغی حالت پر شبہ ہو رہا تھا۔ "عائش۔۔۔" کایان دھاڑا تھا۔ "اسے کیوں بلا رہے ہو؟" شمسہ بیگم نے تیکھے چتونوں سے پوچھا۔ "جی۔۔۔" عائش بوتل کے جن کی طرح حاضر تھی۔ "بیٹھو۔۔۔۔ اور مجھے کھانا سرو کرو۔" کایان نے اپنے ماں باپ کا چہرہ دیکھتے ہوئے کہا۔ "آپ ڈیڈ کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کیوں کھا رہی ہیں۔۔۔۔؟" کایان نے تحمل سے پوچھا۔ "میرا اور اس کا کوئی مقابلہ نہیں۔" شمسہ بیگم نے دانت پیستے کہا۔ "کایان مائنڈ یور لینگویج۔۔۔ یہ تمہاری ماں ہے اور میری بیوی۔۔۔" تیمور صاحب نے ناگواری سے ٹوکا۔ "آف کورس یہ میری بیوی ہے۔ یہ اپنے شوہر کے ساتھ آ کر کھانا کھائے۔" اس کے سکون میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔ "کم آن بھائی۔۔۔ اس کی موجودگی میں میں یہاں نہیں بیٹھوں گی۔" زمل نے ناک چڑھائی۔ "ایز یو وش۔۔" کایان نے کندھے اچکائے۔ "بیٹھو۔۔۔" کایان نے اسے ڈپٹا۔ وہ کپکپاتی چیئر گھسیٹتی بیٹھ گئی وہیں شمسہ بیگم اور زمل کی چیئر گھسیٹنے کی آواز ڈائننگ ہال میں گونجی۔ وہ دونوں اٹھ کر جا چکی تھیں۔ تیمور صاحب اپنے بیٹے کی حرکات و سکنات کو پرسوچ انداز میں ملاحظہ کر رہے تھے۔ وہ طے کر چکے تھے کہ کل آنے والی کسی بھی لڑکی کے ساتھ کایان کی سیٹنگ ہو جانی چاہیے تاکہ اس لڑکی کا بھوت اس کے سر پر چڑھنے سے پہلے کوئی اور اس کے دل پر حکومت کرنا شروع کرے۔۔۔ "تم ہر وقت وائبریشن پر کیوں لگی رہتی ہو؟" کایان نے ناگواری سے پوچھا۔ اس کی زبان تالو سے چپکی ہوئی تھی۔ "اگر اب تم نے کپکپانا بند نہیں کیا تو میں تمہیں کرنٹ دے کر ایک ہی بار میں تمہارا کام فائنل کر دوں گا۔" کایان نے دھمکی آمیز انداز اپنایا۔ اس کی جان لبوں میں آ گئی تھی۔ اس کی آنکھیں ڈبڈبائی تھیں۔ کایان نے ناگواری سے اس تبدیلی کو دیکھا۔ اسے عائش سے کوئی پہلی نظر میں دھواں دار عشق نہیں ہوا تھا۔ اسے اپنے لائف پارٹنر کی حیثیت سے کبھی بھی ایسی لڑکی نہیں چاہیے تھی جو بات بات پر روتی ہو، کانپتی ہو، جس میں اعتماد کی سخت کمی ہو اور سب سے بڑھ کر پڑھی لکھی بھی نہ ہو۔۔۔۔ لیکن اسے اس بات نے دھچکا ضرور پہنچایا تھا کہ وہ اس کی غیر موجودگی میں اس کے کمرے میں چھپتی تھی۔۔۔ اس کا سہارا چاہتی تھی۔۔۔ اس کی عدم موجودگی میں بھی اس کی موجودگی محسوس کرنا چاہتی تھی۔۔ اس کے حصار میں خود کو محفوظ تصور کرتی تھی۔۔۔۔ یعنی اس کا جذباتی سہارا اسے سکون پہنچا سکتا تھا۔۔۔۔ تو جن لوگوں نے اس کا سکون غارت کیا تھا۔۔ اس کی جائیداد پر قابض ہو کر بیٹھ گئے تھے۔ وہ اسے ان سے اس کا حق ضرور دلوائے گا۔۔۔ وہ اسے اس کا اصل مقام ضرور دلائے گا۔۔۔ وہ یہ تہیہ کر چکا تھا۔۔۔

Introduction Of Novel 

Sun Saiyyan is a deeply emotional romantic novel that revolves around intense love, painful separation, and the silence of unfulfilled promises. The story portrays the journey of two hearts bound by destiny yet tested by circumstances, misunderstandings, and harsh realities of life. Love in Sun Saiyyan is not loud; it is patient, aching, and full of sacrifice.


The novel highlights the emotional struggles of the female protagonist who waits, hopes, and endures betrayal and loss, while the male character battles his own fears, ego, and past decisions. With strong emotions, soulful dialogues, and realistic situations, Sun Saiyyan explores how true love demands patience and courage—and how sometimes it arrives only after unbearable pain.

Rich in romance, longing, and emotional depth, Sun Saiyyan is a touching tale of devotion, heartbreak, and the possibility of reunion, making it a favorite for readers who enjoy intense Urdu romantic fiction.

Download Below... 😋😊

📁 PDF Download

Click the button below to access your content